محرم الحرام میں شرپسند ذاکرین کی جانب سے صحابہ کرام کی اعلانیہ گستاخیوں کے بعد پورے ملک میں ہیجانی کیفیت بن گئی تھی جس کے ردعمل میں پاکستان کی تاریخ کے بڑے احتجاجی مارچ ہوئے اور لگ ایسا رہا تھاکہ پاکستان فرقہ واریت کی آگ میں جل کر بھسم ہو جائے گا
لیکن پاکستان کے ریاستی اداروں نے حالات کو کنٹرول میں رکھا اور تدریحاً کشیدگی کو کم کرکے فریقین کے معتمد نمائندوں کو ایک ٹیبل پر بٹھاکر معاملات کو سدھارنے اور آئندہ اس قسم کی مذموم شرانگیزی روکنے کے لئے ریاست کی جانب سخت اقدامات اٹھانے کے لئے فریقین سے ہی ضابطہ اخلاق مانگا گزشتہ ماہ یعنی ستمبر 2020کے آخری عشرے کے اوائل میں ریاستی اداروں کے اعلی ٰٰ حکام نے چاروں مکاتب فکر کے پچاس کے قریب علما کو ایک ٹیبل پر جمع کرکے چند فیصلے ان علما کی مشاورت سے کئے۔
ان علما میں مفتی محمد تقی عثمانی مفتی عبدالرحیم مولنا احمد لدھیانوی قاری محمد حنیف جالندھری مولنا سعید یوسف مولنا اورنگزیب فاروقی مولنا فضل الرحمان خلیل حافظ طاہر اشرفی مفتی منیب الرحمن پیر نقیب الرحمن علامہ شہنشاہ نقوی راجہ ناصر عباس علامہ عارف وحدی سمیت متعدد علما شامل تھے۔
چاروں مکاتب فکر کے علما موجود تھے لیکن فریق دو تھے اہلسنت علما اور اہل تشیع۔۔
یہ اجلاس ہر اعتبار سے مفید رہا تھا جسمیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی اعلانیہ گستاخیوں پر متفقہ طور ریاستی اداروں کو سخت قانونی کاروائی کا کہا گیا تھا اہل تشیع کے نمائندہ علما نے بھی ایسے بدبخت ذاکروں کے خلاف قانونی شکنجہ کسنے کاکہا ، البتہ قاری حنیف جالندھری نے راجہ ناصر عباس کی اس بات پر سخت سرزنش کی جب راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم ایسے ذاکروں سے اعلان برات کرتے ہیں ہمارا ان سے تعلق نہیں جس پر قاری حنیف جالندھری نے بروقت سوال اٹھایا کہ اگر آپ کے بقول آپ کا ایسے ذاکروں سے بالکل تعلق نہیں تو لاہور میں ان گستاخ ذاکروں کی حمایت میں جو گستاخانہ پریس کانفرنس کی گئی اسمیں آپ کی جماعت وحدت المسلمین سرفہرست کیوں تھی۔۔؟

اس طرح کے دوچار مبنی بر حقیقت تلخ سوالات پر اہل تشیع کے نمائندے لاجواب اور پسینہ سے شرابور ہوگئے تھے
بہرحال اسی نمائندہ اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کی سربراہی میں اعلی سطحی بااختیارکمیٹی تشکیل دی گئی تھی اسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آئندہ کے لئے ایسی گستاخیوں کے سدباب کے لئے ریاستی طور پر ضابطہ اخلاق جاری کرنا متفقہ طور پر طے ہوا تھا۔
پاکستان کی تاریخ کی یہ پہلی سرکاری کمیٹی ہے جس نے مقررہ وقت ختم ہونے سے پہلے اپنی سفارشات مرتب کرکے ٹیبل کردی جس پر وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری مفتی محمد تقی عثمانی مفتی منیب الرحمن سمیت تمام ممبران کمیٹی قابل ستائش ہیں اور سرکاری کمیٹیوں کے لئے ہمیشہ کے لئے رول ماڈل بن چکے ہیں
کل مورخہ 6اکتوبر 2020 اسی کمیٹی کا حتمی اجلاس ہوا جس پر تمام سٹک ہولڈرز نے کمیٹی کی جانب سے مرتب کردہ سفارشات پر دستخط کئے یہ سفارشات پیغام پاکستان کی روشنی میں ہی مرتب کی گئی ہیں مجموعی طور پر یہ سفارشات بیس نکات پر مشتمل ہیں جن کو چاروں مکاتب فکر تمام سٹیک ہولڈرز نے من وعن تسلیم کرکے دستخط کردئیے ہیں انہی بیس نکات کی روشنی میں ایک قانونی ڈرافٹ بھی تیار کردیا گیا ہے جس کو پارلیمنٹ سے پاس کرکے باقاعدہ قانون کا حصہ بھی بنادیا جائے گامختلف مذہبی مقدسات یا شخصیات کی توہین پر پہلے سے قانون کی شقیں موجود ہیں لیکن نئے قانونی ڈرافٹ میں معتمد ذرائع کے مطابق ایک اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ مذہبی مقدسات اور شخصیات کی توہین کے ارتکاب کو ناقابل ضمانت جرم بنادیا گیا ہے یقیناً یہ اقدام مستحسن ہے اور فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے میں ممدو ثابت ہوگا۔
البتہ اس کی شق نمبر گیارہ میں تھوڑا ابہام ہے اس کی تشریح بھی کردی جائے تو نور علی نور ہو جائے گا وہ یہ کہ ازواج مطہرات کے نام ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں بیٹیوں سیدنا امیر معاویہ اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ کے نام اور احادیث میں موجود صحابہ کرام کی کل تعداد بھی شامل کرلی جائے اسی طرح سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ کے والد گرامی ابو طالب کانام بھی شامل کردیا جائے کہ انکی گستاخی بھی قابل مواخذہ جرم ہوگا تو یہ قانون مزید جامع اور مانع ہو جائے گا
اللہ تعالی ریاستی اداروں ،وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری ،چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز اور اکابرین علماء کرام سمیت جن جن شخصیات اور اداروں نے اس کارخیر میں حصہ لیا انکو کو اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس کے لئے جن لوگوں نے جان کی قربانیاں دیں اللہ انکو کو بھی اعلی علین میں جگہ عطا فرمائے بالخصوص علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید علامہ حقنواز جھنگوی شہید علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہید علامہ علی شیر حیدری شہید مولنا یوسف لدھیانوی شہید اور اخص الخاص ممبر پارلیمنٹ جبل استقامت مولنا اعظم طارق شہید اور حسن اتفاق دیکھو مولنا اعظم طارق شہید کے یوم شہادت پر ہی یہ تاریخ ساز ضابطہ اخلاق اور قانونی مسودہ اپنے منطقی انجام تک پہنچا بہرحال سب کو اللہ جل شانہ اپنی شان کریمی کے مطابق خوب نوازیں آمین یارب العالمین
Facebook Comments