چلاس سے گلگت۔۔ذوہیب حسن بخاری

مورخہ 25 اکتوبر بروز اتوار زندگی میں پہلی دفعہ گلگت   جانے کا اتفاق ہوا۔شمال کی طرف مانسہرہ کے بعد قراقرم ہائی وے پر  گلگت پہلا بڑا شہر ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان وادی میں دریائے گلگت کے دونوں اطراف آباد یہ خوبصورت شہر جدید انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے۔

ہم چلاس سے قراقرم ہائی وے پر گلگت کیلئے روانہ ہوئے۔ چلاس سے گلگت تک رائے کوٹ پل تقریباً70 کلومیٹر تک کا راستہ خستہ حالی کاشکار ہے۔ رائے کوٹ پل تک جاتے ہوئے سب سے پہلے  زیرو_پوائنٹ آتا ہے جہاں پر ناران کاغان بابو سر ٹاپ سے آنے والی سڑک (N15) قراقرم ہائی وے پر ختم ہوجاتی ہے اور اسی کارن اس جگہ کو زیرو پوائنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ زیرو پوائنٹ سے آگے بڑھیں تو  گنی آتا ہے۔ گنی کا تذکرہ اس لئے کررہا ہوں کیونکہ یہاں پر آپ کو اچھی  چائے مل جاتی ہے۔ گنی سے آگے سندھو دریا کے ساتھ بڑھتے جائیں تو بہت سی چوٹی چھوٹی آبادیوں (قصبوں) سے گزرتے ہیں۔  ان میں ایک جگہ  تتا پانی (گرم پانی) کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں کی خاص بات (جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے) یہاں کے چشموں سے نکلنے والا گرم پانی ہے۔ گلگت بلتستان  اور یہاں تک کہ کوہستان، مالاکنڈ ایجنسی اور مانسہرہ ہزارہ تک کے لوگ اس پانی کو بڑی عقیدت سے اپنے گھروں میں مریضوں کیلئے لے جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہاں پر بہت  لوگ اس پانی سے نہاتے ہیں ایک دو مقامی بندوں سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس پانی میں شِفا ہے اور اس سے جلد کی بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں۔ اب ہماری ارضیات (جیالوجی) والی رگ پھڑکی۔ ہم نے جب بغور مشاہدہ کیا تو محسوس ہوا کہ اس پانی میں شاید سلفر شامل ہے جس کی وجہ سے یہ تتا یعنی گرم ہوا ہے۔ بہرحال ایک عدد تصویر یادگار کے طور پر محفوظ کی اور مزید آگے   ہولئے۔

سندھو دریا کو فراٹے بھرتے دیکھتے ہوئے ہم  رائے کوٹ پُل تک جا پہنچے۔ یہاں پُل کراس کرنے سے پہلے دائیں طرف کچا راستہ ہے جس پر جیپ کے ذریعے سے اور آگے پھر پیدل آپ  فیری میڈوز جا سکتے ہیں۔ فیری میڈوز ابھی تک دیکھا تو نہیں مگر موقع ملتے ہی دیکھنے ضرور جائیں گے۔ وہاں سے  نانگا پربت کے برف پوش پہاڑ بھی نظر آتے ہیں۔

اس پل کے بعد کی سڑک باقاعدہ اسفالٹڈ ہے اور زگ زیگ چلتے چلتے ہم جگلوٹ میں چائے پینے رُکے۔ دوپہر ہوچکی تھی۔ موسم میں خنکی تھی۔ پہاڑوں میں کہیں دھوپ کہیں چھاؤں کا منظر بہت بھلا محسوس ہوتا ہے۔ جگلوٹ پہنچے اورچائے کیلئے ایک ہوٹل پر رُکے۔ یہاں پہاڑ تھے، پانی کے گرنے کی خوبصورت چھن چھن کرتی آواز تھی، چنار کے خوبصورت درخت جن کے سبز اور زرد پتوں کا حسین امتزاج ماحول کو اور خوبصورت بنا رہاتھا۔ دور دریائےسندھ کے اس پار ایک پہاڑ کی چوٹی پر پیپلز پارٹی کا جھنڈالہرا رہا تھا(اس پورے خطے میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک بہت زیادہ ہے۔ آج کل یہاں الیکشن کے دن ہیں۔ 15 نومبر کو الیکشن منعقد ہونے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا نتائج آتے ہیں بہرحال الیکشن کو لے کرکے بہت رونق دیکھنے کو مل رہی ہے)۔  سرخ لوبیا فرائی پان میں گرم ہورہا تھا اور اسکی مہک نے ہماری بھوک اور چمکا دی۔ مگر چائے پر ہی اکتفا کیا گیا۔
جگلوٹ میں ایک ہوٹل ہے جہاں پر آپ کو جگلوٹ نالے کے ٹھنڈے پانی کی ٹراوٹ مچھلی ملتی ہے۔ ٹراوٹ مچھلی کا ذائقہ نہایت عمدہ اور مزیدار ہے۔ سیاح شمالی علاقہ جات کی سیر کے دوران ٹراوٹ مچھلی نہ کھائیں تو میرے خیال میں انکی سیر ادھوری رہ جاتی ہے
گلگت جاتے ہوئے ایک ایسا مقام آتا ہے جسکو ملاپ پوائنٹ (Meeting Point) کہتے ہیں۔ یہاں پر زمین کے تین لمبے اور اونچے پہاڑی سلسلے   کوہ قراقرم، کوہ ہندوکش اور  کوہ ہمالیہ کا آپس میں سنگم ہورہا ہے۔ اس سنگم کا عینی شاہد تو  سندھو دریا ہی ہے جس نے نہ جانے کتنے لاکھوں سال پہلے ان کو سب سے پہلے ملتے دیکھاہوگا۔  جیومارفولوجی یا ماؤنٹین اوریجینی کی ایک انمٹ تاریخ کہ جسکا اکیلا گواہ یہ عظیم سندھو دریا ہے۔ بہرحال ہم نے اس مقام کو آج  اپنی 35 سال کی عمر میں دیکھ ہی لیا۔۔

آگے گلگت کی طرف روانہ ہوتے ہوئے آپ کو  استور ویلی، اور پھر  ہنزہ ویلی کے رستے بھی نظر آتے ہیں۔ سندھو دریا کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے کرتے پتہ ہی نہ چلا کب ہم دریائے گلگت کے ساتھ ہولئے۔ اور بالآخر گلگت شہر میں داخل ہوئے۔ دریائے گلگت کے دونوں اطراف آباد اس شہر میں تقریبا ًتمام سہولیات موجود ہیں۔ دیوہیکل پہاڑوں میں گِھرا یہ شہر دوپہر میں ہی شام کا منظر پیش کرنے لگتا ہے کیونکہ اس کے مغرب میں اونچے پہاڑ سورج کی روشنی کو روک لیتے ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف پڑی نظر آرہی تھی جو آنکھوں کو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ سچ ہے کہ قدرتی نظارے اور خوبصورت موسم آپ کی طبیعت میں مستی پیدا کرتا ہے۔ طبیعت کا مچلنا فطری ہوتا ہے۔  ان مناظر سے مجھے یہ چند جملے عطا ہوئے جو پیش خدمت ہیں

میں پہاڑوں کے سحر میں کھو چکا ہوں
میں سندھو دریا کا دیوانہ ہوچکا ہوں
مناظر نے دی ہے مات سخن وری کو
بےبس ہوں اتنا،جنبش قلم کھو چکا ہوں

گلگت شہر میں خوبانی اور چنار کے درخت بکثرت نظر آتے ہیں۔ بائیں کنارے پر آباد علاقہ ان باغات سے بھرا ہوا ہے۔ دریائے گلگت کے پانی کا شور چنار باغ میں کھڑے ہوکر ہاتھ میں گرماگرم چائے کا کپ لے کر سنیئے تو ایسا محسوس ہوگا جیسے نہایت ہی دلفریب موسیقی سن رہے ہیں۔ عجب  سکون کا احساس ہونے لگا۔  کچھ مناظر صرف دیکھنے کیلئے ہوتے ہیں۔ انکو بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ نہ جدید سے جدید کیمرے میں محفوظ کیے جاسکتے ہیں۔ جی میں آیا کہ یہیں کے ہوجائیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

این ایل آئی مارکیٹ کا سن رکھا تھا تو وہاں آگئے۔ یہ ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ یہاں پر ضروریات زندگی کا قریباً سارا سامان مل سکتا ہے۔ قیمتوں کے حوالے سے گلگت ہمیں مہنگا لگا۔ مارکیٹ کے باہر نکلتے ہی حاجی رمضان کا ہوٹل ہے وہاں سے لنچ کیا۔  کچھ گرم کپڑے خریدے۔ آوارہ پن جوبن پہ تھا۔ بازاروں میں خوب وقت گزارا۔ کچھ مقامی لوگوں سے خوب گفتگو بھی رہی۔ مغرب کے قریب واپس چلاس کے لیے روانہ ہوگئے۔

Facebook Comments