ٹیکنالوجی کی دنیا میں روز بروز کوئی نہ کوئی نیا طوفان آتا رہتا ہے ۔ یہ وہ واحد چیز ہے جو دنوں ہفتوں اور گھنٹوں کے حساب سے ارتقا پذیر ہے اور بدلتی رہتی ہے ۔
وٹس ایپ کیا ہے؟
2009 میں ایک یوکرینین سافٹ وئیر پروگرامر جان کوم نے ایک امریکی دوست و پروگرامربرائن ایکٹن کے ساتھ مل کر وٹس ایپ نامی ایک ایپ ڈیزائین کی جس کا نام whats up لفظ سے متاثر ہو کر وٹس ایپ رکھا گیا۔ اس ایپ کا بنیادی مقصد یوزرز کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ اپنی مکمل پرائیویسی کے ساتھ لوگوں سے بات کر سکیں ان کے ساتھ اپنی انفارمیشن شئیر کر سکیں اور اس انفارمیشن کا کوئی بھی بیک اینڈ ریکارڈ دنیا کے کسی بھی سرور پر موجود نہ ہو ۔ نہ ہی ڈیٹا کہیں سٹور ہو۔ آپ چاہے تصویر بھیجیں۔ ویڈیو بھیجیں یا ٹیکسٹ میسج وہ ایک عارضی سرور میں ڈیکریپٹ صورت میں تب تک ہی محفوظ رہتا تھا جب تک میسج آپ کو ڈیلیور نہیں ہوجاتا اور انکرپٹ ہونے کے بعد آپ کے موبائل فون میں وہ میسج اصل حالت میں ظاہر ہو جاتا تھا ۔ آپ کے میسج کا ڈیٹا صرف کچھ نینو سیکنڈز کے لئے ہی محفوظ رہتا تھا ۔ اس کے علاوہ وٹس ایپ کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ آپ کون ہیں ،کیا ہیں، کہاں سے اور کس آئی پی ایڈریس سے یہ ایپ یوز کر رہے ہیں اور کس قسم کی ایکٹویٹیز میں انوالو ہیں اور کیسے لوگوں سے کیا بات کر رہے ہیں۔ اور آپ کی دلچسپی کس کس چیز میں ہے ۔
وٹس ایپ اور فیس بک
2104 میں فیس بک اور وٹس ایپ کے سی ای او کے بیچ اب تک کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکنالوجیکل معاہدہ ہوا جس کے تحت مارک زکربرگ نے 19 بلین ڈالرز کے عوض وٹس ایپ کے مالکانہ حقوق اپنے نام کر لئے ۔ ۔ اس معاہدے کی بنیادی وجہ جو کہ مارک زکربرگ نے بیان کی وہ یہ تھی کہ وہ ایک ایسا ٹیکنالوجیکل ہب بنانا چاہتا ہے جہاں ایک ہی پلیٹ فارم سے یوزرز کو یہ تمام سہولتیں جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے باہم پہنچائی جا سکیں اور ایک ایسا سٹیلائٹ نظام تشکیل دیا جائے کہ پوری دنیا کے انسان انٹرنیٹ کی سہولت سے کم سے کم پیسوں میں استفادہ حاصل کر سکیں ۔ تاہم یہ بات کتنی سچ ہے اس پر آگے چل کر بات ہوگی ۔
وٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی ؟
فیس بک انتظامیہ نے یہ عندیہ اکتوبر 2020 میں دیا تھا کہ فروری 2021 تک وٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی میں میجر تبدیلیاں کی جائیں گی ۔ فیس بک کا اس بارے کہنا ہے کہ وہ یہ تبدیلیاں اس لئے کر رہا ہے کہ یوزر کو ڈیٹا کو مزید انٹیگریٹ کیا جا سکے اور اس بات کویقینی بنایا جا سکے کہ ان سب ایپس کا استعمال درست اور غیر مجرمانہ ایکٹیویٹیز میں ہو رہا ہے ۔
پچھلے کچھ عرصہ میں بھارت سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں جہاں وٹس ایپ کے غلط میسجز کے تھرو موب لنچنگ اور قتل و رابری کی وارداتیں تک سامنے آئی ہیں۔
پر اس کو ہمیں ایک ہیومن بی ہیوئیر کے طور پر دیکھنا چاہیے ۔۔۔۔ یہ ضروری نہیں کہ اس ساری سرگرمی کے لئے ایپ ذمہ دار ہے یا ایپ کی انتظامیہ ۔ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ جب کوئی ایپ کسی انسان کا کوئی ٹریک ریکارڈ نہیں رکھ سکتی تو یہ کیسے مانا جا سکتا ہے کہ وہ ایپ صحیح مقاصد کے لئے استعمال ہوگی ۔
اس نئی پالیسی میں ہوگا کیا ؟
فیس بک پہلے سے ہی آپ کا کافی حد تک ڈیٹا اپنے پاس رکھتا ہے ۔ جیسے کہ لوکیشن ، آئی پی ایڈریس، آپ کی شہریت۔ تصاویر ، انٹرسٹس اور اس کے علاوہ بعض اوقات آپ کے قومی شناختی دستاویزات بھی طلب کرتا ہے ۔
اس کے بر عکس وٹس ایپ کے پاس پہلے بہت کم معلومات ہوتی تھیں۔ ان کے پاس آپ کی لوکیشن ،پروفایل پکچرز ، میسجنگ ڈیٹا ، آئی پی ایڈریس کا بالکل ریکارڈ نہیں ہوتا تھا ۔ ۔ پر ایسا نہیں ہے کہ وہ پہلے یہ جاننے کے قابل نہیں تھے یا ان کے پاس ایسی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ یہ مکمل طور پر ان کی نیت اور پالیسی کی وجہ سے تھا کہ وہ اس انفارمیشن تک ایکسس لینا نہیں چاہتے تھے ۔
مگر اس نئی پالیسی میں وہ تمام معلومات جو فیس بک کے پاس موجود ہیں وہ وٹس ایپ کے تھرو بالکل ویسی ہی معلومات تک رسائی کر سکتا ہے ۔ وہ آپ کی پروفائل پکچر، لوکیشن ، آئی پی ایڈریس کے علاوہ یہ تک بھی جاننے کے قابل ہو جاے گا کہ آپ کیسے گروپس کا حصہ ہیں۔ ان گروپس میں کیا ایکٹوٹی ہوتی ہے ۔ آپ کے انٹرسٹ کیا ہیں۔ آپ کی شخصیت کیسی ہے ۔ وہ آپ کے وٹس ایپ کانٹیکٹ کیا مکمل ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد اس کو فیس بک کانٹیکٹس سے کمپئیر کرکے دیکھ سکتا ہے کہ آپکی دوستی کا حلقہ کیسا ہے ۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ آپ کے انٹر نیٹ سروس پرووایڈر کی معلومات۔ موبائل کا ماڈل اور سافٹ وئیر ورژن ، موبائل کی سگنل کوالٹی اور بیٹری لیول تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ۔۔
اگر آپ وٹس ایپ کا بزنس ورژن یوز کر رہے ہیں اور وٹس ایپ کے تھرو ٹرانزیکشن والا فیچر استعمال کرنا چاہیں تو وہ آپ کے بینک اکاونٹ نمبر اس میں موجود رقم اور یہاں تک کہ آپ کے کریڈت یا اے ٹی ایم کارڈ کی مکمل انفارمیشن تک بھی رسائی حاصل کر لیں گے ۔۔۔۔
اس کے علاوہ بہت سے تعلیمی ادارے اور سکولز وٹس ایپ کے تھرو ہی والدین اور طلبا سے کمیونیکیٹ کرتے ہیں ۔۔۔ خاص طور پر جب سے کورونا آیا ہے تب سے یہ استعمال بڑھ گیا ہے ۔ تو وٹس ایپ یہ جان سکتا ہے کہ کونسا بچہ یا بچی کس سکول میں پڑھ رہا ہے کیا پڑھ رہا ہے اور اس کی لوکیشن کیا ہے اور وہ کب آتا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
کیا کوئی پریشانی کی بات ہے ؟
دیکھا جائے تو بالکل یہ پریشانی کی بات ہے ۔ یہ تمام معلومات جن تک وٹس ایپ اب رسائی حاصل کر لے گا یہ اس قدر معلومات ہیں کہ اس کے بعد کوئی گارنٹی نہی دی جا سکتی کہ آپ کی لائف پرایویٹ رہے گی یا نہی ۔ لیکن کیا پہلے آپ کی لائف پرایویٹ تھی؟؟؟ وٹس ایپ کے علاوہ فیس بک انسٹا گرام اور گوگل میلز کے ذریعے بھی آپ کے بارے میں ہر قسم کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا تھا ۔ لیکن ۔ اہم پریشانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اب تک وٹس ایپ کو ایک انتہائی پرایویٹ ایپ سمجھ کر اس کے تھرو انتہائی پرسنل ڈیٹا شئیر کررہے تھے جیسے کہ تصاویر ، نیوڈز۔ اپنی لوکیشنز اور آنے جانے کی ڈیٹیلز ان کے لئے یہ پریشانی کی بات ہے ۔۔۔۔
میسجز اب بھی اینڈ تو اینڈ انکرپٹ رہیں گے لیکن اگر وٹس ایپ انتظامیہ چاہے ، یا کسی خاص قانونی معاملے کی بات ہو تو، اپنے موبائل سے ڈیٹا ڈیلیٹ اور ایریز کر دینے بعد بھی وہ آپ کے تمام میسجز تصاویر وائس نوٹس اور ویڈیوز کا ریکارڈ حاصل کر سکتی ہے ۔ وہ جب چاہے ان کو ڈیکرپٹ کر سکتی ہے ۔ ۔ لہذا ایسے لوگوں کے لئے یہ پلیٹ فارم اب کہا جا سکتا ہے کہ اس حد تک محفوظ نہیں ہے ۔۔۔ پر ایسا بھی نہیں ہے کہ آپ مکمل طور پر ڈر جائیں اور اس سے پیچھا چھڑا لیں۔۔ اگر آپ کچھ غلط نہیں کر رہے تو آپ کو پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں۔
وٹس ایپ کے علاوہ آپشن کیا ہے ؟
اس وقت دو ایپس ایسی ہیں جو وٹس ایپ کا نعم البدل ہو سکتی ہیں۔۔ایک ٹیلی گرام ایپ اور دوسرا سگنل ایپ ۔۔۔ پر یہاں سب سے بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے کنٹیکٹس یا دوست احباب بھی ان ایپس پر جانا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ اگر وہ یہ ایپس یوز نہیں کرنا چاہتے تو آپ کو مجبوراً ان سے وٹس ایپ کے تھرو ہی رابطہ بحال رکھنا ہوگا ۔۔ اس کے علاوہ ان ایپس کے فیچرز اور انٹر فیز شروع شروع میں آپ کو عجیب اور مشکل لگے اور اس کی عادت ڈالنے کے لئے آپ کو چند ہفتے درکار ہوں گے ۔ ظاہر ہے آپ اگر جہاز سے سیدھا گاڑی میں بیٹھیں گے اور ایڈجسٹ کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔۔ ان ایپس کے یوزر بھی ابھی بہت کم ہیں۔ لیکن یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وٹس ایپ کی پالیسی میں تبدیلی کے بعد لوگ ان ایپس کا استعمال زیادہ کریں گے ۔۔
کیا واقعی فیس بک انسانی ہمدردی میں مفت انٹر نیٹ اور ایپس اپ گریڈ کر رہا ہے ؟؟؟
جی بالکل نہیں۔۔ یہ ایک ہاتھی کا دانت ہے جو کھانے کا اور دکھانے کا اور۔ اس تمام انفارمیشن کے حصول اور انٹرنیٹ کو پوری دنیا میں پہنچانے کا مقصد لوگوں پر مکمل سرویلنس رکھنا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیز، حکومتوں ، پالیسی سازوں کو وہ تمام ڈیٹا فراہم کرنا ہے جس کے تھرو وہ اپنی پالیسیز بنا سکیں ۔ کمپنیز لوگوں کے انٹرسٹ جان کر ویسی پراڈکٹس بنا سکیں ،ویسی ایڈورٹائزمنٹ متعلقہ لوگوں تک پہنچا سکیں اور وٹس ایپ کی نئی پالیسی کے بعد لوگوں کے بارے میں جاننا اور بھی زیادہ آسان ہو جائے گا ۔۔۔۔
آخری اور حتمی بات یہ ہے کہ اگر آپ موجودہ دور کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں تو آپ اپنے محلے والوں شہر والوں دوستوں یاروں سے تو چھپ سکتے ہیں پر ان سے نہیں جو اس ٹیکنالوجی کو چلا رہے ہیں۔ وٹس ایپ کے تبدیلی سے پہلے یا بعد وہ جب چاہیں جیسے چاہیں آپ کے بارے میں انفارمیشن حاصل کر سکتے ہیں۔۔ لہذا یا تو انٹرنیٹ بند کیجیے اور سب ختم کیجیے یا پھر ڈرنا ورنا چھوڑئیے اور اچھے بچوں کی طرح چور راستے اپناتے جائیں اور ٹیکنالوجی سے بچنے کی لُکا چھپی جاری رکھیں۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں