ورچوئل تعلیم بچوں اور والدین کی ذہنی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، امریکی محققین نے انکشاف کیا ہے کہ آن لائن ایجوکیشن لینے والے بچوں کے والدین عالمی وبا کے اثرات کا سامنا نہیں کرسکتے۔
کرونا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو بیشتر تجارتی مراکز و سرکاری اداروں اور نجی اداروں نے کام کرنے کے طریقے کو تبدیل کرکے آن لائن کردیا اور اسی کے ساتھ دنیا بھر کا نظام بھی تبدیل ہوکر ورچوئلز ہونے لگا۔
اب دنیا بھر میں آن لائن کلاسز چل رہی ہے لیکن امریکی سینٹر برائے ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ورچوئل ایجوکیشن بچوں اور والدین کےلیے خطرناک ہے۔امریکی محققین نے 17 خطرات بتائے ہیں جو آن لائن ایجوکیشن کی وجہ سے بچوں اور والدین کو لاحق ہوتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ جو بچے ورچوئل تعلیم لے رہے ہیں ان میں سے 25 فیصد بچے جذباتی صحت کی خرابی کا شکار ہوئے ہیں۔
54 فیصد والدین جن کے بچوں نے آن لائن تعلیم حاصل کی ان میں جذباتی تناؤ رپورٹ ہوا ان کے مقابلے میں 38 فیصد والدین جن کے بچوں نے ان-پرسن تعلیم حاصل کی ان میں ایسی کوئی مسائل سامنے نہں آئے۔
محققین نے کہا کہ ورچوئل تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے والد کو سونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ملازمت کے دوران بھی چیلنجز پیش آتے ہیں۔

امریکی محققین کے مطابق آن لائن ایجوکشن سے منسلک بچوں کے والدین کی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کے باعث وہ عالمی وبا کے اثرات پر قابو نہیں پاسکتے جبکہ ان کی ذہنی اور جسمانی بھی خرابی کا شکار ہوگی
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں