آئیزک عمر کو میرا 30 لفظی کہانی کے ذریعے خراج تحسین
میں نے تمام پھول توڑ کر گلدان میں رکھے
سب مرجھائے ہوئے،
صرف ایک ہی خوش رنگ مہکا ہوا۔۔
اکیس سال سینچا تھا مالی نے
اور جوبن پے توڑ لیا!
______
قلم اور سیاہی!
میں نے جلدی سے قلم چلایا
سیاہی اور وقت دونوں کم ہیں،
مجھے زندگی تیس لفظوں میں قید کرنی ہے،
اس سے پہلے کہ قلم ٹوٹے یا سیاہی ختم ہو۔۔۔!

نوجوان مصنف آئزیک عمر ستمبر میں ایک حادثے میں جان بحق ہو گئے تھے۔ حال ہی میں ان کی تیس لفظی کہانیوں پر مبنی کتاب ” قصہ مختصر “ شائع ہوئی تھی ۔ اللہ کریم اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا کرے ۔ آمین
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں