(کس جرم کی پاداش میں مارا گیا ہوں)
اک سر جو معلق ہے سوا نیزے پر
اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا
اک سر کہ ٹپکتے ہیں ابھی تک جس سے
لو دیتے ہوۓ گرم لہو کے قطرے
اک سر جو مزین تھا بدن پر اپنے
اک سر جو کبھی موتی جڑے تاج سا تھا
یہ سر جوکئی صدیوں سے لٹکا ہوا ہے
خاموش نگاہوں سے ہے پُرساں ہم سے
یہ رفتہ و آئندہ کی سب نسلوں سے
آقاؤں سے، ملّاؤں سے، جرنیلوں سے
اسکندروں، داراؤں سے ، چنگیزوں سے
اور ہند کے بٹوارے کے سب ملکوں سے
یورپ کے ہوس کار عناں گیروں سے
کرتا ہے فقط ایک سوال، ایک ہی بات
میں تو فقط اک عام سا شہری تھا، مجھے

کس جرم کی پاداش میں مارا گیا ہے؟
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں