کتاب تبصرہ/دیکھتا ہے پیرِ فلک تماشا کیا کیا۔۔عاصم کلیار

اس سال بادل گھن گرج سمیت خوب برسے پیاسی دھرتی سیراب ہونے کے بعد نرم ہوئی کسان لنگوٹ کس کر ہل جوتنے میں مگن ہوۓ دھان کی پنیری دنوں میں لہلہاتی فصل کا روپ دھارنے لگی۔
ہر سال خوشوں سے بھری جھومتی فصلیں کسانوں کی امیدوں کو جلا بخشتیں کچھ مال سرکار کے کھاتے میں جمع ہوتا باقی بنیے کا بہی کھاتہ چکانے کی نا کام کوشش میں کسان اپنی خواہشوں سمیت اناج کی بوریاں بھی اپنی خمیدہ کمر پر لاد کر اس کے گودام میں رکھ آتے۔
مغربی بنگال کے ایک پسماندہ گاؤں میں بوڑھے پرودیپ پال کے تین بیٹے اور بن بیاہی بیٹیاں بڑے زمیندار کے آٹھ ایکڑ پر مزارعے بن کر زندگی کے مصائب سمیت اس لۓ مطمین تھے کہ گھر میں دو دن کا اناج اور بدن پر ستر ڈھانپنے کے واسطے چیتھڑے موجود تھے پرودیب اور اس کی بوڑھی بیوی زمانے کے بدلتے ہوۓ حالات دیکھ کر تھنڈی آہیں تو ضرور بھرتے مگر خاموشی کے سوا وہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔
اور پھر ایک روز رزق کا ذریعہ زمین اور گھر کی صورت چھت سے زمیندار نے پرودیپ لال کو دیس نکالے کا حکم سنایا پرودیپ پورے کنبے سمیت بڑے بیٹے ہیساری لال کی چوکھٹ پر آن پڑا ہیساری دن رات ایک کر کے مشکل سے بیوی اور بچوں کا پیٹ بھرتا وہ ان کو بھلا کشادہ دلی سے کیوں خوش آمدید کہتا پہلے جانور بکے پھر بہن کی شادی کے لۓ مہاجن سے سود پر قرض لیا خشک سالی سے نجات کے لۓ جو دو چار روپے پاس تھے وہ بارش کی دعا کے لۓ پنڈت جی کی نظر کیۓ۔
سب گمان دھرے رہ گۓ نہ بارش ہوئی نہ مہاجن کا قرض ادا ہوا اس برس تو ہاتھی پیاسے مرنے لگے تھے فصلوں نے بھلا خاک ہونا تھا پرودیپ نے بیوی کی چوڑیاں باون روپے کے عوض مہاجن کے سپرد کیں اور گھر لوٹ کر شام کے وقت ہیساری سے سرگوشی کرتے ہوۓ کہا ہم کو مرنے سے بچانے کے لۓ تم کو کلکتہ روانہ کرنے کے علاوہ اب میرے پاس کوئی چارا نہیں ہیساری کا تنی کمان سا بدن یہ بوجھ اٹھا بھی سکتا تھا دوسرے دن ہیساری اس کی بیوی اور بچے نظریں جھکاۓ ایک قطار کی صورت مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا ڈھلتے ہوۓ سایوں میں گاؤں سے روانہ ہوۓ۔
کلکتہ کے مرکزی اسٹیشن پر لوگوں کے ہجوم بیکراں کے درمیان سہما ہوا ہیساری کا خاندان میلے میں گم بچے کی صورت چاروں اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نجانے کیا ڈھونڈ رہا تھا وہ رات انہوں نے ایک اور خاندان کے پہلو میں اسٹیشن پر ہی گزاری آنے والے برسوں میں فٹ پاتھ ان کا بستر ٹھہرا اور آسمان ان کی چھت ثابت ہوا اسٹیشن سے جب پولیس والوں نے ہیساری کے کنبے کو چلتا کیا تو ایک سڑک کنارے پھول سی کم سن مایا کے خاندان کے ساتھ انہوں نے ڈیرہ جما لیا ہیساری اتنے بڑے شہر میں ایک جاننے والے کی کھوج میں سارا دن خوار ہوتا باون روپے کب تک چلتے سو ہیساری کے بچے مایا کے ساتھ بھیک مانگنے لگے ہمارا انا پرست پشتی کسان ہیساری خاموشی سے بچوں کو بھیک مانگتے دیکھتا رہا ایک رات مایا کاسہ گدائی سمیت گھر ہی نہ آئی ہیساری اور اس کا باپ دیوانوں کی طرح اسے سڑکوں پر ڈھونڈتے رہے صبح کاذب کے وقت جب مایا لوٹی تو اس کے بال اُلجھے ہوۓ تھے کپڑوں سے بھڑکتی خوشبو اور ہونٹوں پر دانتوں کے نشان گزری شب کا فسانہ سنا رہے تھے مایا نے چپ چاپ بند مٹھی سے دس روپے نکال کر ماں کے حوالے کیۓ جو مایا کو دیر تک کلیجے سے لگا کر روتے ہوۓ دنیا بنانے والے سے شکوے کرتی رہی۔
ہیساری کو پانچ روپے نقد کی پہلی مزدوری ایک مردے کو ریڑھی پر کھیچنے کی ملی ایک روز ہیساری بھوک سے نڈھال شکستہ دل دیوار کے سہارے انسانوں کے درمیان معاشی تفریق اور ظالم سماج کو دل ہی دل میں کوسنے سنا رہا تھا کہ ایک انسانی آواز نداۓ غیب کی طرح آئی آنکھوں پر چشمہ جماتے ہوۓ سنہری دانت والے شخص نے ہیساری سے کہا بھیا کام کرو اور پیسے پاؤ ہیساری چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑا ایک ہال میں لوگ قطار اندر قطار کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ہیساری نے اپنی باری پر قمیض کا بازو اوپر چڑھایا آنکھیں بند کیں اور لیٹ گیا سوئی خون چوسنّے لگی بوتل بھری گئ ہیساری نے ایک رجیسٹر پر دستخط کیۓ سنہری دانت والے نے پنتالیس روپے وصول کیۓ جن میں سے تیس روپے ہیساری کو دیۓ اس رات ہیساری کا خاندان اس کی قمیض پر خون کے لگے معمولی سے داغ سے بے خبر مدت بعد پیٹ بھر کر کھانے میں مگن تھا۔
ہیساری نے خون سے پیسے کمانے کا آسان گرُ سیکھ لیا تھا مگر دوبارہ خون دینے کے لۓ ایک خاص مدت کا وقفہ درکار ہوتا ہے جبکہ شکم کی آگ کو روز ہی ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے شہر کی سڑکوں پر چہار سو دو پہیہ گاڑی کے سامنے گدھوں کی طرح جوُتے ہوۓ لوگوں کو ہیساری ہمہ وقت گھورتے ہوۓ اپنے کسے ہوۓ بدن پر بھی نگاہ ڈال لیتا سرراہ اس کی سائیکل رکشے کے ڈرائیور رام سے ملاقات ہوئی ہیساری نے اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا مجھے بھی کسی رکشے کے آگے جوت دو۔
افللاس کے ہاتھوں مجبور انسانی تذلیل کی جاوداں مثال سائیکل رکشہ انگریز راج میں شملہ سے کلکتہ پہنچا ہزاروں رکشوں کا مالک ببن نریندرا کلکتہ میں اس کاروبار کا بے تاج بادشاہ ٹھہرا جسے انسانی جان سے کچھ لینا دینا نہیں ہر رکشہ ڈرائیور روز اسے لگی بندھی کمیشن دے جاتا ہے ضرورت پڑنے پر ببن اپنے ڈرائیوروں کو سود پر پیسہ بھی دیتا ہے ببن بوڑھا ہوا اب اس کا کارندہ مسافر پرساد کاروبار کو دیکھتا ہے برسوں رکشہ چلانے سے مسافر کا بدن تو پہلے ہی فولاد سا ہو گیا تھا اب روپے کی وصولی کے لۓ اسے دل بھی پتھر کا کرنا پڑا ایک شام ہیساری اپنے دوست رام کے ساتھ مسافر پرساد کے در پر حاضر ہوا ہیساری نے کچھ نظر گزاری رام نے مسافر کا قیصدہ پڑھتے ہوۓ کہا کہ اے گنیش کے بیٹے غریب پرور بندہ نواز یہ مسکین ہیساری تیری نسلوں کا نوکر ایک گاؤں سے رزق کی تلاش میں کروڑوں نفوس کے شہر کلکتہ میں روزی روٹی کے واسطے آیا مہینوں کا کشٹ اٹھانے کے بعد بھگوان تیرے در پر اسے لایا ہے تو اس کا وسیلہ بن مسافر نے ہیساری کی دھوتی کو زمین پر گراتے ہوۓ اس کی طاقت کو جانچنے کے بعد کہا اے رامو کل ایک ڈرائیور رکشہ کھینچتے ہوۓ چل بسا تھا اس کی جگہ ہیساری کو جوت دیتا ہوں۔
کلکتہ جو city of joy کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اس میں چند ٹکوں کی خاطر آپ کو رکشہ کھینچنے کے لۓ بھی کسی کے مرنے کا انتظار کرتا پڑتا ہے بقول شاعر
اس دہر کی کشادہ دری پر نہ جایئے
اندر قدم قدم پر ہیں تالے پڑے ہوۓ
۔۔۔۔۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اک مسافر درد کا درماں ہوا
جس روز ہیساری پال کلکتہ کے مرکزی اسٹیشن پر اپنے خاندان سمیت گاؤں سے آیا اس کے چند دن بعد ہی اسٹیفن فرانس کا طویل سفر طے کر کے اپنے تھیلے سمیت اسی اسٹیشن پر مسافر گاڑی سے اترا ہیساری کو غربت نے کلکتہ سے متعارف کروایا تھا جبکہ نوجوان اسٹیفن نے اپنی مرضی سے زندگی کے سب رنگ ترک کر کے تزکیہ نفس کے لۓ کلکتہ کاانتخاب کیا تھا۔
جس روز اسٹیفن کا والد مزدوروں کے حقوق کی جد و جہد کے لۓ جیل میں مرا اسٹیفن نے کئ روز تک ایک بند کمرے میں اس خانہ آب و گِل کی گتھی سلجھانے میں جاگ کر گزار ے ایک تپتی دوپہر کو اس نے کمرے سے نکلتے ہوۓ اعلان کیا یہ دنیا میرے مزاج کی نہیں میں پادری بن کر کسی دور کے ملک کی غریب بستی میں رینگتے ہوۓ لوگوں کے درمیان رہنے کو ترجیح دوں گا۔
کلکتہ کے بشپ اور فادر نے اسٹیفن کی خواہش پر اسے غریبوں کی بستی میں چار فٹ چوڑے اور چھ فٹ لمبے کمرے کی چابی دیتے ہوۓ تنبیہہ کی کہ یہاں کے لوگوں سے فاصلہ رکھنا اسٹیفن نے یسوع مسیح کی تصویر دیوار پر آویزاں کی اپنے تھیلے کو ایک کونے میں رکھا اور دروازے سے جھانکتے ہوۓ ارد گرد کا جائزہ لینے لگا۔
غلاظت کے ڈھیر پر تعمیر اس بستی کی تاریک گلیوں میں رنگ و نسل کے امتیاز کے بغیر زندگی ہمہ وقت رواں دواں رہتی اسٹیفن کے نہانے سے لے کر کھانے تک بستی میں بسنے والے لوگوں نے شروع میں مذاق اُڑیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیفن نے بھی اہل علاقہ کے طور اطوار اپنا لیے مسجدوں میں جاری اذانیں اور مندروں میں بجنے والی گھنٹیوں سے تو اسٹیفن نے کسی طور سمجھوتہ کر ہی لیا تھا مگر متصل کمرے سے رات بھر کسی کے درد سے کراہنے کی آوازیں ٹین کی دیوار سے چھلنی ہو کر اسٹیفن کے کرب میں مزید اضافہ کرتیں۔
ایک روز اسٹیفن نے ساتھ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا سولہ افراد کا مسلم خاندان ایک تنگ سے کمرے میں کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور تھا رات دن درد سے کراہنے والا نوجوان سیبا ایک کونے میں نڈھال پڑا تھا اسٹیفن نے سیبا کے لۓ جب دعا کے واسطے ہاتھ اٹھاۓ تو وہ دل میں سوچ رہا تھا کہ مستقل اذیت سے سیبا کو نجات دینے کے لۓ کل وہ زہر کی پڑیا خرید لاۓ گا۔
دوسرے روز جب اسٹیفن شہر کے بڑے ہسپتال میں زہر خریدنے گیا تو اس سے تیس روپے رشوت طلب کی گئ جس شہر میں شاید تین ہزار لوگ کے لیے ایک درخت اور سو افراد کے لیے ایک کمرہ میسر ہو وہاں زندگی کے خاتمے کے لۓ زہر کی خرید داری پر بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔
ایسا ہے کلکتہ
‏ A city of joy
اسٹیفن جب دوسرے روز سیبا کے کمرے میں گیا تو اس نے اسٹیفن کے ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا فادر آج فقط میرے لیے دعا کرنا سیبا کی کمزور و نحیف آواز اور ہاتھوں کے لمس سے اسٹیفن دل گرفتہ زہر کی پڑیا اور نم آنکھوں سمیت اس کے کمرے سے نکل آیا۔
ایک روز اسٹیفن کو فرانس سے دوست نے پارسل بھیجا جس میں کھانے پینے کی اشیا کے ٹین کے ڈبے تھے اسٹیفن نے سیبا کے گھرانے سمیت سارے ڈبے محلے میں تقسیم کر دیے جو کھاتا وہ معدے کی بیماری میں مبتلا بستر سے جا لگتا ڈاکٹر نے رپورٹ میں لکھا کہ ان لوگوں کا نظام ہاضمہ خالص خوراک سے نا آشنا تھا سو یہ سب لوگ اصل خوراک کھانے سے بیمار ہوۓ۔
مرنے کے لۓ زہر پر رشوت
اور خالص خوراک کھانے پر بیمار ہونے کا اندیشہ
‏ A city of joy
کیسا شہر ہے کلکتہ ۔۔۔۔
محلے کے سب مسلمانوں نے مزید قرض لیا اجلے کپڑے پہن کر بستی کی غلیظ گلیوں کو بجلی کے قمقموں سے سجایا پڑوس کی ہندو عورتوں نے ساڑھی کا پلو پیٹی کوٹ میں اڑستے ہوۓ مسلمان گھرانوں کی عورتوں کا ہاتھ بٹانے کے لیے پکوانوں کے برتن چولہوں پر چڑھاۓ شہر بھر کی مسجدوں کے لاوڈ سپیکروں سے درود و سلام کی آوازیں بلند ہوئیں بڑی مسجد کے نابینا حافظ جی کی سربراہی میں جشن عید میلاد النبی کا جلوس جب سیبا کی کٹیا کے سامنے سے گزر رہا تھا تو اس نے آخری سانس لیتے ہوۓ زندگی کے ساتھ درد سے بھی نجات پا لی تھی بقول شاعر
سب درد ہی کے روپ تھے،درماں نہ تھا کوئی!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply