آج کی دنیا تیز رفتار ترقی کی نئی منازل طے کررہی ہے۔ جس کی وجہ سے بنی نوع انسان کو نت نئے چیلنجز اور مواقع بیک وقت میسر آرہے ہیں۔ بہترین اقوام وہ ہیں جو نہ صرف دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا رہی ہیں بلکہ درپیش چیلنجز کو بھی مواقع میں تبدیل کررہی ہیں۔ ایسا ہی ایک شعبہ خدمات کا شعبہ ہے جو دنیا کے لئے ایک بڑا چیلنج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے۔ چند دہائیاں قبل مختلف میدانوں میں خدمات کے شعبے کی ضرورت اور اہمیت کو اس طرح محسوس نہیں کیا گیا جتنا یہ شعبہ آج کے دور میں ہو چکا ہے۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک کے جی ڈی پی میں بڑا حصہ خدمات کی تجارت کا ہے۔ اگر ہم چین کی بات کریں تو چین کی خدماتی تجارت کا پیمانہ دو ہزار چودہ کے بعد مسلسل سات سالوں تک دنیا میں دوسرے نمبر پر رہا ہے ، اور بین الاقوامی تجارت میں خدماتی تجارت کی اہمیت مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
سال 2020 میں چین کی خدماتی تجارت کی درآمدات و برآمدات کی مجموعی مالیت چھ کھرب اکسٹھ ارب بہتر کروڑ امریکی ڈالر تک جاپہنچی ہے، جو دنیا کا چھ اعشاریہ آٹھ فیصد بنتا ہے۔ روایتی خدماتی تجارت کے میدان میں چین کی امتیازی خصوصیات برقرار ہیں۔ 2020 میں چین کی تعمیراتی خدماتی تجارت عالمی تعمیراتی خدمات کے میدان میں سرفہرست تھی۔ ٹرانسپورٹ خدماتی تجارت دنیا میں دوسرے نمبر پر رہی۔ اس کے علاوہ ، حالیہ برسوں میں چین سیاحت کی خدماتی تجارت کے لحاظ سے مسلسل دنیا کے اولین دو ممالک میں شامل ہے۔
چھ روزہ چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز 2021سات تاریخ کو بیجنگ میں اختتام پذیر ہوا۔عالمی سروس ٹریڈ کے میدان میں سب سے بڑی جامع نمائش کے طور پر ، سروس ٹریڈ میلے نے عالمی اداروں کو ترقی کے نادر مواقع فراہم کئے ہیں۔ اور چینی مارکیٹ کی قوت اور صلاحیت کو بھی ظاہر کیا ہے۔
چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز ایک کھلا اور جامع پلیٹ فارم ہے جو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو عالمی معاشی بحالی میں زیادہ کاروباری مواقع تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سروس ٹریڈ فیئر نے ترقی پذیر ممالک کے کئی کاروباری اداروں کو شرکت کے لیے راغب کیا ہے۔ ان میں سے متعدد ممالک کو اپنی مصنوعات اور خدمات کو روشناس کرانے کا موقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی ایونٹس منعقد کئے گئے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ چین نے اس میلے کے ذریعے اپنے کھلے پن کے عمل کو مضبوطی سے فروغ دیا ہے ،جس سے عالمی معیشت کی بحالی اور تحفظ پسندی اور یکطرفہ پن کے خلاف کوششوں میں زیادہ اعتماد طریقے سے قوت حیات ڈالی گئی ہے ۔
مذکورہ میلے کے ذریعے ، عالمی معیشت ، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے ، چین نے ایک بار پھر اپنا جواب دیا ہے یعنی ہمیشہ امن ، ترقی ، تعاون اور جیت جیت کے اصولوں پر قائم رہیں۔
رواں برس میلے کے دوران سمارٹ طرز زندگی سے متعلق عوامل انسانوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ 5Gسے ریموٹ کلاؤڈ تشخیص اور علاج کے لیے بنائی گئی مشین سے ڈاکٹر ایسے دوردراز علاقوں میں جہاں طبی سہولیات اتنا جدید نہیں ہیں،مریضوں کے لیے طبی سروسز فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ صحت اور دیکھ بھال کرنے والے روبوٹ ہیں،جو گھر میں عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں۔اس میلے میں نمائش کے لیے پیش کیے جانے والا ایک روبوٹ ایسابھی ہے جو لوگوں کی جسمانی حالت کی جانچ پڑتال کر سکتا ہےاور ہنگامی طبی امداد بھی فراہم کر سکتا ہے۔
سال دو ہزار اکیس کے لیے خدمات کی تجارت کے بین الاقوامی میلے میں ثقافت اور سیروسیاحت کے شعبے کی خصوصی نمائش میں دنیا کے 1100 سے زائد کاروباری ادارے شریک ہوئے۔ چین کی روایتی ثقافت نمائش میں توجہ کا مرکز رہی۔

خدمات کی تجارت عالمی تجارت اور معیشت میں اضافے کی نئی قوت محرکہ بن چکی ہے۔چین میں مال کی تجارت سے خدمات کی تجارت تک منتقلی کا سلسلہ جاری ہے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے خدمات کی تجارت میں نئی اصلاحات ہو رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں خدمات کے شعبے میں نئی پیش رفت ہوئی ہے اور اس کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آرہی ہے۔ ڈیجیٹائزیبل سروسز کی برآمدات کا تناسب پچاس فیصد سے زائد ہے۔رپورٹ میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق 2025 تک چین میں سروسز کی صنعت میں ایڈڈ ویلیو جی ڈی پی کا ساٹھ فیصد بنے گی۔
چین میں بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے والی کمیٹی کے نائب سربراہ چانگ شین فنگ نے کہا کہ چین بنیادی ڈیجیٹل تنصیبات کی تعمیر کو تیز کرے گا ، خدمات کی تجارت کے لیے نئی قوت فراہم کرے گا ، دی بیلٹ اینڈ روڈ کے کردار کو بروئے کار لاتے ہوئے اس سےمنسلک ممالک کے مابین خدمات کی تجارت کو فروغ دیا جائے گا اور بہتر عالمی تجارتی ماحول تشکیل دیا جائے گا۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں