غصے سے چھینٹے میرے منہ پر پڑے۔
میں حیران تھا کہ اُسے غصہ کس بات پہ ہے۔
چہرا لال بھبھوکا بنا ہوا۔
محسوس ہو رہا تھا کانوں کی لوئیں جل کے گرنے ہی لگی ہیں۔
دریافت کیا ! کیوں تپے بیٹھے ہو، ماجرا کیا ہے؟
سالار نے آج بہت غلط بات کی ۔
کہتا ہے پاگل بے تکان بولتے ہیں۔
تو تم کیوں غصہ ہو؟
میں اتنا بھی پاگل نہیں ہوں یار۔۔۔۔
مجھے اچھی طرح معلوم ہے۔۔۔ بے تکان میں ہی بولتا ہوں۔۔۔
پاگل مجھے ہی کہا ہے اُس نے ۔۔۔
وہ بدستور غصے میں تھا، اور میں زیر لب ہی مسکرا سکا۔

وضاحت: کہانی کو اول فول اور لا حول کی متنازعہ جنگ سے نہ جوڑا جائے۔ جوڑ لیا جائے تو علاج کے ڈاکٹر پیر مبشر صاحب سے رجوع کریں۔ شکریہ
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں