ایک غصیلی نظم/تھوکنا چاہتا ہوں ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مری چشم بینا سے پٹّی تو کھولو
مجھے دیکھنے دو
یہ کیا ہو رہا ہے؟

یہاں جنگ کی آگ میں جلتے ملکوں سے
بھاگے ہوئے مرد و زن، صد ہزاروں
سمندر کی بے رحم لہروں میں غرق ِ اجل ہو رہے ہیں۔

یہاں یوکرینی خدا ترس شہر ی
لگاتار بمباریوں سے تحفظ کی خاطر
ادھر سے اُدھر بھاگتے پھر رہے ہیں۔

یہاں بے زباں باقیات زمانہ
ہمارے پر اسرار ماضی کی سب بے بدل یادگاریں
زمیں بوس ملبے کے ڈھیروں میں اوندھی پڑی ہیں۔

یہاں بیسیوناتواں نو نہالوں کے اٹھتے لڑکپن کو
جنسی تشدد سے برباد کرنے کی قربان گاہیں کھلی ہیں۔

یہ کیا ہو رہا ہے؟

یہاں چین سے آمدہ وائرس نے
ہر اک سمت دنیا میں لاکھوں ، کروڑوں
بڑے بوڑھوں، بچوں ، جواں مرد و زن کو
فقط چند ہفتوں میں مرگ آشنا کر دیاہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

مجھے اب نہ روکو
کہ یہ نظم لکھ کر
میں لقوہ زدہ وقت کے ٹیڑھے منہ پر
بہت زور سے تھوکنا چاہتا ہوں۔

Facebook Comments

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply