صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
سپریم کورٹ کے حکم پر تھانہ رمنا اسلام آباد میں ارشد شریف قتل کیس کی ایف آئی آر درج کی گئی۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق ارشد شریف قتل کیس کی ایف آئی آر سرکار کی مدعیت میں درج کی گئی۔پولیس نے ارشد شریف قتل کی ایف آئی آر میں 3 افراد وقار احمد، خرم احمد اور طارق وصی کو نامزد کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی اور واقعے کی ایف آئی آر آج رات تک درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پاکستان میں ارشد شریف کے قتل کا فوجداری مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟ جب ایف آئی آر درج ہی نہیں ہوئی تو پاکستان میں کیا تحقیقات ہوں گی؟
سیکریٹری داخلہ نے جواب دیا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا جائزہ لے کر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ ہو گا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مقدمہ درج کرنے کا یہ قانونی طریقہ ہے ، مقدمہ درج کیے بغیر تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں؟

واضح رہے کہ کینیا میں موجود صحافی ارشد شریف کو 22 اور 23 اکتوبر کی درمیانی شب گاڑی میں جاتے ہوئے کینین پولیس نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں