پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کیوں؟/اورنگزیب نادر

اکثر ہمیں یہ سننے کو ملتاہے کہ اس وقت پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہاہے اس کا محض مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات ابتر ہیں ۔پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال بدترین ہے۔ آزادی سے لیکر اب تک صرف ان چند سالوں میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا ہے ان سالوں میں 1950-51، 1954-55، 1955-56، 1958-59، اور 1959-60 شامل ہیں ۔ سال 1965 سے 1966 تک انڈیا کے ساتھ جنگ کی وجہ سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ  انتہائی خسارے کا سامنا کرتا رہا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کب جاتا ہے؟ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کسی ملک کی تجارت کی پیمائش ہے جہاں اس کے درآمد کردہ سامان اور خدمات کی قیمت اس کی برآمد کردہ مصنوعات کی قیمت سے زیادہ ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق مالی سال 2021 کے دوران ملک کی برآمدات تقریباً 25.304 بلین ڈالر جبکہ درآمدات 56.380 بلین ڈالر تھیں۔

وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان ہر وقت خسارے کا شکار رہتا ہے۔ آئیں ذیل میں ان وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں۔ پہلی  اور سب سے اہم وجہ کم برآمد ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، پاکستان کی  اہم برآمدات چاول، کپاس، کچی اون، چمڑا، مچھلی وغیرہ ہے۔ پاکستان میں اتنے وسائل یا اشیاء نہیں ہیں، جن کو برآمد کیاجاسکے۔ پاکستان میں اتنی  پیداوار نہیں ہے جن کو دیگر ممالک میں برآمد کیاجاسکے۔ اور ملک میں قیمتی سامان بہت کم ہے جن کو برآمد کیا جائے۔ پچھلے سال پاکستان کی برآمدات صرف 25.304 بلین ڈالر تھیں۔ جو بہت ہی کم ہے۔

دوسر ی اہم وجہ پاکستان کے لوگوں کی  زیادہ کپھت ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور زیادہ کپھت کے باعث گھریلو تیار کردہ چیزیں ملک کے اندر استعمال ہوتی  ہیں۔ پاکستان کی آبادی میں ہوشربا اضافہ ہورہاہے ، حال ہی میں دنیا کی  آبادی 8 ارب کو عبور کرگئی ہے،اور پاکستان اس وقت دنیا کا  پانچواں بڑی آبادی والا ملک ہے۔ جس کی وجہ سے ملک معاشی بحران کا شکار ہے۔ برآمدات میں نمایاں کمی آرہی ہے اور درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہا ہے۔

سال 2021 میں پاکستان میں زیتون کے  تیل کے مقامی پیداوار صرف 104 ٹن جبکہ 4590 ٹن درآمد کیاگیا جو کہ 2.1 ارب روپے کے بنے۔ ایک طرف ملک میں ہر چیز کی پیداوار بہت کم ہے تو دوسری جانب پاکستانی دل کھول کر استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث ہمیں برآمدات کی ضرورت پڑتی ہے۔تیسری وجہ ہے روپے کی قدر میں مسلسل کمی۔ روپے کی قدر کو اس لیے کم کیاگیا تاکہ ملک کے برآمدات میں اضافہ ہوجائے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ مہنگے پڑ رہے ہیں۔ روپے کی قدر کو کم کرنے کا طریقہ مددگارثابت نہ ہوا کہ برآمدات بڑھ جائے بلکہ منفی اثرات مرتب ہورہےہیں۔ چوتھی اہم وجہ ہے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں، چونکہ پاکستان کے پاس اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ ملک کی  تمام مانگ کو پورا کرسکیں ۔ اس لیے برآمد کرنا پڑتاہے۔

مالی سال 2021-22 (مالی 2022) کے پہلے دس مہینوں کے دوران ملک کا تیل کا درآمدی بل 17.03 بلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے لیے ریکارڈ کیے گئے 8.69 بلین ڈالر کے مقابلے میں 95.9 فیصد زیادہ ہے۔ اس وجہ سے غیر ملکی زرمبادلہ کی کمائی کا ایک بڑا حصہ لیتا ہے۔پانچویں وجہ ہے ہماری دفاعی درآمدات، پاکستان اپنے دفاع کے لیے دوسرے ملک سے جدید ترین اسلحہ بہت زیادہ قیمت پر  لیتا ہے جس کی وجہ سے بیلنس آف پیمنٹ پر بوجھ پڑا ہے۔ دفاع پر اخراجات 1523 بلین روپے ہیں جو کہ دیگر اخراجات سے خاصا زیادہ ہے۔

چھٹی اور سب سے اہم وجہ سیاسی عدم استحکامِ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہمارے نمائندے اپنے مفادکی خاطر ملک کے معاشی حالات کی دھجیاں اڑا ہوچکےہیں۔ حکمرانوں کو صرف اپنی فکر ہے ‘ملک کی معیشت کی کوئی فکر نہیں ‘بلکہ ان کی وجہ سے ملک کے معاشی حالات دن بدن بدتر ہوتے جا رہے ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ساتویں نمبر پر غیر ملکی قرضے ہیں، چونکہ پاکستان کے پاس ملک چلانے کے لیے ڈالر نہیں ہیں، اس لیے وہ غیر ملکی قرضے لیتا ہے۔ پاکستان ہر سال خطیر رقم قرض لیتا ہے جس کی وجہ سے اسے بہت زیادہ رقم بطور سود ادا کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان نے 2014 میں 64 بلین ڈالر، 2015 میں 68 بلین ڈالر، 2016 میں 75 بلین ڈالر، 2017 میں 91 بلین ڈالر، 2018 میں 99 بلین ڈالر، 2019 میں 107 بلین ڈالر اور 2020 میں 117 بلین ڈالر مختلف ممالک سے قرضے لیے ہیں۔ اور بہت سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ملک کے  معاشی حالات ابتر ہیں، اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بڑھتا جارہاہے۔ اس وقت ملک  گمبھیر معاشی حالات سے دوچار ہے اگر اسی طرح حالات چلتے رہے تو ملک جلد دیوالیہ ہوجائےگااور پھر حالات کو قابو میں لانا نا ممکن ہوگا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply