کل کا معمار اور نفسیاتی الجھنیں/سہیل احمد لون

کسی قوم کے مستقبل کا دارومدار اس کی نئی نسل پر ہوتا ہے۔آج کا بچہ آنے والے وقت کا معمار ہوتا ہے کیونکہ کل اسی نے ملک اور اداروں کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہیں۔ کسی بھی عہدے پر احسن طریق سے کام کرنے کے لیے جسمانی اور ذہنی تندرستی بہت لازمی امر ہوتا ہے۔ پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ وہاں اس وقت اکثریت نوجوان طبقے کی ہے اب یہ ہمارے حکمران طبقے پر منخصر ہے کہ وہ اپنی یوتھ کو صحت مندانہ ماحول فراہم کریں تاکہ نوجوان نسل کی جسمانی اور ذہنی نشو نماء ہو سکے اور وہ آنے والے وقت میں مفید شہری ثابت ہوں ورنہ وہ خود رو پودوں کی طرح بڑھتے جائیں گے اور معاشرے پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔ برطانیہ کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے جہاں انسان کے بنیادی حقوق کا تحفظ حکومت اور ریاستی ادارے بڑے اچھے طریقے سے کرتے ہیں مگر اس کے باوجود یہاں کی نئی نسل بہت سے مسائل کا شکار ہے ۔ 2011ء میں لندن سے شروع ہوکر برطانیہ کے دیگر شہروں میں پھیلنے والے فسادات میں بھی نئی نسل ہی ملوث تھی، اسی طرح ان دنوں لندن چاقو کی نوک پر ہے جس کے پیچھے بھی یہاں کا نوجوان طبقہ ہی کارفرماہے۔ چند برس قبل کچھ ینگ برٹش مسلم ملک چھوڑ کر جہادی تنظیموں میں بھی شامل ہوگئے ۔ دراصل یہ وہ بچے ہیں جو کسی نا کسی طرح گھر والوں سے یا معاشرے کی عدم توجہ کا شکار ہوکر ذہنی مریض بن جاتے ہیں اور کسی خاص گروہ کے ہتھے چڑھ کر انکے مقاصد کی تکمیل میں ہتھیار کا کام دیتے ہیں۔ آفس فار نیشنل سٹیٹسٹک (ONS) کے مطابق گزشتہ برس انگلینڈ اینڈ ویلز میں نوجوانوں میں خودکشی کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔2010ء میں 110نوجوانوں نے خود کشی کی ، بد قسمتی سے یہ تعداد ہر برس بڑھتی گئی، 2017ء میں 186تک جا پہنچی۔ نوجوانوں میں خود کشی کرنے والوں کی زیادہ تعداد 15سے 19برس کی عمر کے نوجوانوں کی ہے اور اس میں بھی سفید فام لڑکوں کی اکثریت ہے۔آخر وہ کونسے محرکات ہیں کہ آسودگی کے باوجود نوجوان طبقہ اتنا ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے کہ اپنی زندگی ختم کر ڈالتا ہے؟ دراصل اس کی وجہ ان کے بچپن کا ماحول ہوتا ہے جس میں وہ بلوغت تک پہنچتے ہیں۔ یعنی گھر اور پرائمری سکولوں کا ماحول بچوں کے مثبت یا منفی ذہنی رجحان کا باعث بنتا ہے۔ اسی سلسلے میں برطانیہ میں ایک ریسرچ کی گئی جس کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا کہ دس میں سے ایک سے زائد لڑکے Mental Disorderکا شکار ہیں۔ NHSکی رپوٹ کے مطابق پرائمری سکولوں میں ذہنی مریض لڑکوں کی تعداد لڑکیوں کی نسبت دوگنا ہے۔NHSڈیجیٹل شو کے مطابق 12.2%لڑکے جن کی عمر پانچ سے دس برس کے درمیان ہے وہ ذہنی مریض ہیں یا بننے کے قریب ہیں۔اسی طرح پانچ سے دس برس کی 6.6فیصد لڑکیاں Emotional Disorderکا شکار ہیں ۔رپوٹ کے مطابق لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں Attention Deficit Hyperactivity Disorder (ADHD)دوگنا پائی جاتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق یہ شرح ان بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو سوتیلے ماں ،باپ یا سوتیلے بہن بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔یہ تجزیہ کرنے کے لیے 9ہزار بچوں سے زائد کا انتخاب مختلف پرائمری سکولوں سے کیا گیا اسکے علاوہ انکے اساتذہ کو بھی انٹرویو میں شامل کیا گیا۔رائل کالج آف سائیکاٹسرٹس کی DR. Louise Theodosion کے مطابق (ADAH) لڑکوں میں اس لیے دوگنا ہے کہ وہ چیزوں کو زیادہ سیریس انداز سے لیتے ہیں اور خصوصاً پانچ سے دس برس کی عمر میں ان میں بہت سی تبدیلیاں بھی آرہی ہوتی ہیں۔ اس عمر میں لڑکیوں کا Emotional disordersزیادہ حساس ہوتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انکو معاشرتی دباؤ ہینڈل کرنے کا طریقہ آجاتا ہے۔ ینگ مائنڈ پر پالیسی ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کرنے والے ڈاکٹر مارک بش کے مطابق پرائمری سکولوں میں لڑکوں کی ایک کثیر تعداد Behavioural disordersاور لڑکیوں میں Emotional Disorders کا شکار ہیں جس کے باعث وہ مختلف اقسام کے Mental Health issuesمیں مبتلا ہو جاتے ہیں۔آنے والے وقتوں میں عام بیماریوں سے زیادہ Mental Healthپرابلم کو حل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ جسمانی مریض تو دوائیوں سے صحت یاب ہوجاتا ہے مگر مینٹل ہیلتھ سے نبٹنے کے لیے ایک خاص نفسیات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جسمانی بیماری کی ٹھیک کرنے کے لیے اس کی وجوہات کو بھی دیکھا جاتا ہے اسی طرح Mental Health issuesکی پیچیدہ وجوہات جاننا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ اس کا مناسب طریقے سے علاج کیا جاسکے۔ والدین اور اساتذہ کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں اور اگر انکے رویے میں کسی قسم کی تبدیلی محسوس کریں تو اس کا بروقت نوٹس لیں ۔ ورنہ حالاتShamima Begum جیسے ہوسکتے ہیں جو گھر بار چھوڑ کر جہاد کرنے نکل پڑی تھی، یا ہاتھ میں چاقو لیکر کسی کو قتل کرکے اپنی شناخت منوا کر وقتی طور پر خوش ہونے والا سیریل کلر بن جائے یا خود کشی کرکے گھر والوں کو ہمیشہ کے لیے کسک کی آگ میں جلتا ہوا چھوڑ جائے۔ اگر غور کیا جائے تو جب سے موبائل میں انٹر نیٹ کی سہولت آئی ہے نوجوانوں میں ذہنی بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ والدین کو اپنے موبائل اور انٹر نیٹ کو کچھ دیر کے لیے بند کرکے اپنے بچوں کو وقت لازمی دینا چاہیے اگر والدین اپنے موبائل اور انٹر نیٹ پر مصروف رہیں گے تو ان کے بچے عدم توجہ کا شکار ہو کر ذہنی مسائل کا شکار ہوجائیں گے ۔بد قسمتی سے جب والدین کو اس بات کا احساس ہوتا ہے تو اس وقت تک بہت کچھ برباد ہو چکا ہوتا ہے۔ بچوں کیساتھ جتنا وقت جسمانی کھیل کود میں گزاریں گے اس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشو نماء قدرتی طریقے سے ہوگی اور آنے والے وقت میں ملک ، ریاست اور خاندان کا نظام ایک صحت مند ہاتھ میں جانے کا انتظام کریں گے۔ ریاستی ذمہ داریاں اپنی جگہ لیکن فرد سے خاندان اور خاندان سے معاشرہ بنتا ہے سو یہ بات تو طے ہے کہ فرد کی جتنی حفاظت اور دیکھ بھال کی جائے گی معاشرہ اتنا بہتر ہو گا ۔ ماں باپ ٗ بہن بھائی اور دوسری خونی رشتوں کی موجودگی میں جذباتی مسائل کم سے کم ہونے چاہیں لیکن جب یہی رشتے موجود بھی ہوں لیکن توجہ نہ دیں تو یہ خونی رشتے بدترین جذباتی مسائل پیدا کردیتے ہیں ۔ ماں کی آغوش اور باپ کی شفقت کے نعم البدل دنیا میں کوئی بھی نہیں ۔جذبات کی تھراپی صرف انہیں رشتوں کے احساس سے ممکن ہے لیکن آج کے مادیت پرست دور میں ہم سمجھتے ہیں کہ بچے کی سماجی ضرورتیں پوری کرکے ہم بری الذمہ ہو گئے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بچے کہ یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ ہم اُس کے وہ رشتے ہیں جو ہر دکھ سکھ میں اُس کے ساتھ ہیں اور اسے درپیش ہر مسلے کے حل کیلئے ہم مل کرکوشش کریں گے ہمیں بچے کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ ہم ہیں جو صرف اُن کی خوشی کیلئے زندہ ہیں اور اُن کی خوشی کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دے سکتے ہیں ۔ ہم نے بچوں میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہے کہ تنہائی میں وہ جو سوچتے ہیں وہ اپنے ماں باپ سے بھی ڈسکس کیا کریں تاکہ کسی بہترین حل کی طرف پہنچا جا سکے ۔یا د رکھیں ! بچہ معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے اور معاشرے کو بطور معاشرہ اس ذمہ دار کو پورا کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا ۔ اور کمیونیکشن کی دنیا میں سے کچھ وقت اپنے مستقبل کے معماروں کیلئے لازمی نکلا نا ہو گا کیونکہ آج کا بچہ کل کا معمار ہے کہیں عدم توجہ سے شعوری یا لاشعوری طور پر ہم اسے کسی غلط ڈگر پر نہ ڈال دیں ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply