ہماری مائیں اور ان کے اقوال زریں /فاتحہ باسط

ازل سے  ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ ”ماں کے  قدموں تلے جنت ہے۔“ واقعی خدا نے ماں کے پاؤں کے نیچے جنت رکھی ہوئی ہے۔ مگرکیا آپ نے کبھی سوچا کہ ” مشرقی“ بچوں کو یہ جنت حاصل کرنے کے لیے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ کتنے دکھ جھیلنے پڑتے ہیں، کس قدر اذیت اٹھاتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں۔

مشرقی مائیں بھی کیا مائیں ہوتی ہیں۔ ان کا مقابلہ بھلا کوئی کیسے کر سکتا ہے ۔ ان کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک ہتھیار ہے۔ جو پیدائش سے لے کر چند سال تک کے عمل، اور چند سال سے کڑیل جواں ہونے کی حد تک وہ استعمال کرتی ہیں۔ چوب دست ایسی کہ اولاد سے اپنی درست، غلط بات منوانے کا اور ان حربوں کو کب، کیسے استعمال کرنا ہے بخوبی جانتی ہیں۔ اولاد کے استحصال کو بوقت ضرورت استعمال میں لانا ہے یہ ان سے اچھا کوئی نہیں جان سکتا۔

اب دیکھیں ناں اگر کوئی ماں اپنے بچوں میں سے کسی کو کوئی کام کہہ دے ۔ بچوں کا اگر موڈ نہ ہو اس کام کو کرنے کا یا وہ کسی وجہ سے کوئی ٹال مٹول کردیں تو بس بھئی،پھر تو اماں حضور کا موڈ ہو چلا خراب۔ بات چیت بالکل بند، بندہ لاکھ پوچھ لے کہ اماں کیا بات ہے ؟ غصے میں کیوں ہیں ؟ کیا ہوا ہے ؟ نہ بابا نہ انہوں نے کوئی جواب نہیں دینا۔ الٹا مزید غصے میں آجانا ہے اور برتن زور زور سے پٹخنے ہیں ،دروازے کو احتجاجاً زور سے بند کر دینا ہے پر پوچھنے والے کو وجہ نہیں بتانی   کہ آیا اماں حضور کی بھولی سی صورت پر غصے کا جن کیوں چڑھا ہے۔

اگر کسی دن صبح اٹھنے میں دیر سویر ہوجائے ۔ اس دن بھی اماں نے احتجاجاً سارے کام خود کرنے ہوتے ہیں ۔یقین جانیے اس دن وہ وہ کام ہوتے ہیں جو عام روٹین میں طبیعت کی ناسازی یا کسی اور وجہ سے نہیں ہو پاتے ۔ موڈ کی خرابی کی وجہ سے ڈھیروں کام کھول کر بیٹھ جاتی ہیں ۔ ہم جتنا مرضی کوشش کرلیں ان کا موڈ ٹھیک کرنے کی وہ اپنے وقت پر ہی ٹھیک ہونا ہوتا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ ایسی صورتحال میں اماں حضور قصوروار بندے کو غصے بھری صلواتوں کے ہار بھی پہناتی ہیں۔ اور اگلے بندے کو چار و ناچار وہ بھاری بھرکم ہار پہننے پڑتے ہیں۔

اگر مائیں اپنے بیٹے سے کسی چیز یا کام کا کہہ دیں ۔ وہ اگر کسی وجہ سے دیر سویر کر دیں تو بس پھر بیٹے صاحب کی خیر نہیں ۔ اس کو کہیں گی کہ ” کب سے بولا ہے ،اتنے دن ہوگئے ،کبھی وقت پر کوئی کام نہیں کرتے ہو“۔ کان پر جوں بھی نہیں رینگتی، نافرمان! ۔ ساتھ ہی ساتھ اس کی پتہ نہیں کون کون سی پرانی غلطیاں چُن چُن کر پوٹلی سے نکالیں گی جیسے بڑی ہی قیمتی اشیاء ہوں۔ اچھے وقتوں کے لیے ماں جی نے سنبھال رکھی ہیں۔

ماؤں کی خدمت میں اولادانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تھوڑی ڈھیل دیں ۔ ہر وقت کے شور شرابہ سے بہتر ہے کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول بنائیں ۔ ان کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ کیونکہ بےجا سختی اور آپ کے ہر وقت کے موڈ خراب ہونے کی وجہ سے وہ ذہنی اذیت کا شکار ہوں گے، بلکہ ہوتے ہیں۔۔ ایسے میں وہ آپ سے بغاوت کی راہ تلاش کریں گے ۔ یوں گھر  میں بھی شدید تناؤ  ہوگا اور تلاش کرنے  کے باوجود بھی کسی کو سکون نہیں ملے گا۔ نہ سمجھ آئے گی کہ کھچاؤ کیوں ہے۔

ایک طرف جہاں ماؤں کو اپنا رویہ درست کرنا چاہیے وہیں دوسری طرف بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی ماؤں کی یہ باتیں صبرو تحمل سے برداشت کریں۔ کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ  نہیں۔ وقتی طور پر ہمیں یہ باتیں بُری تو لگتی ہیں پر لوگ کہتے ہیں اکثر ہمارے کام بھی یہی باتیں آتی ہیں۔ لہذا نہایت آرام و احترام سے ان کی ڈانٹ سن لینی چاہیے۔ بعد میں غصہ ختم ہونے پہ ان سے کہہ دیں کہ ” یار اماں آپ اس وقت غصے میں تھیں، پر مجھے اچھا نہیں لگا آپ نے ایسا کیوں کہا “ ۔ ہاں مگر ایسا اپنی ذمہ داری پر کہیے گا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جیسے جیسے انسان زندگی میں آگے بڑھتا ہے، شعور آتا ہے تو ماؤں کی یہ باتیں بالکل بھی بُری نہیں لگتیں  بلکہ ان پر مزید پیار آتا ہے۔ بھولی سی صورت والی ہماری پیاری سی اماں مجبوراً یوں کر رہی ہوتی ہیں۔ انہیں بھی کہیں سے کڑوی کسیلی سننی پڑتی ہیں۔ ہو سکتا ہے سنانے والے ان کے ساتھی یعنی ہمارے ابا حضور ہوں۔ مشرقی روایات ہیں نا ،  کہ کہیں کا غصہ کہیں نکالنا ہے۔ بیٹے کو براہ راست تو کچھ نہیں کہتے مگر اس کی ماں کو سناتے ہیں کہ لاڈلے کو تم نے بگاڑ رکھا ہے۔ اس کے بعد جو ہوتا ہے وہ آپ سب جانتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں: ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply