پدرانہ شفقت لامتناہی محبت کا دروازہ/ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

*نیا بھر میں ہر سال جون کے تیسرے اتوار باپ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔رواں برس یہ دن 18 جون کو دنیا بھر میں بڑی شان و شوکت ، عزت و احترام ، قول و اقرار ، وفاؤں و محبتوں ، خوشیوں و چاہتوں ، ارمانوں و جذبوں کے ساتھ منایا جائے گا۔واضح ہو اس دن کو منانے کے اغراض و مقاصد میں حکمت عملی کا اصل مقصد بچوں اور والدین کے درمیان ہم آہنگی اور عزت و احترام کا رشتہ بحال کرنا ہے، تاکہ ان کے درمیان اتحاد و یگانگت ، امن و محبت ، سیرت و کردار جیسے پھولوں کا گلدستہ اپنی خوشبو کا احساس بکھیرے۔
یقین کیجیے ! والدین نعمت خداوندی ہیں۔ان کا سایہ اور شفقت گھنے درخت کی مانند ہے جو نہ کملاتا اور نہ سوکھتا ہے۔ ان کا عزت و احترام کرنا ہمارا جسمانی، اخلاقی اور روحانی فرض ہے۔ خاندان کا سربراہ ہوتے ہوئے ایک باپ اپنے خاندان کے استحکام اور تعمیر و ترقی کے لیے وقت کے ساتھ جو قربانیاں اور مصیبتیں برداشت کرتا ہے ،وہ ناقابل فراموش ہیں۔ اسی مناسبت اور معاشرتی صحت و صداقت کے لیے والدین اور اولاد کے درمیان کچھ تلخ ، تڑک ، ترش اور حقیقت پسندانہ زمانے کا آنکھوں دیکھا حال اور ٹھوس شواہد کے ساتھ معاشرتی، سماجی، تہذیبی اقدار و روایات کی روشنی میں تجربات و مشاہدات کا مکالمہ پیش ہے*
دنیا کے پہلے والدین حضرت آدم اور اماں حوا ہیں۔
ان کی مرہون منت پہلا خاندان وجود میں آیا جس کے بعد نسل انسانی کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوگیا جو آج تک جاری و ساری ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ آج تک نہ رکا ہے اور نہ اس کا دروازہ بند ہوا ہے۔امید ہے جب تک دنیا قائم و دائم ہے یہ ترتیب، ہم آہنگی ،برکت اور نسل انسانی کا سلسلہ تواتر و تسلسل کے ساتھ جاری و ساری رہے گا۔
خدا نے مرد کو خاندانی سربراہ بناتے ہوئے اس کے سر پر ذمہ داریوں کا ٹوکرا رکھ دیا ہے جس کا وزن ہلکا کرتے کرتے عمر بیت جاتی ہے۔مگر معاشی مجبوریوں کا بوجھ پھر بھی ہلکا نہیں ہوتا۔وہ بڑی محنت اور لگن سے اپنے خاندان کی پرورش کرتا ہے۔شب روز اس کے دماغ پر فکروں کا ہجوم دستک دیتا ہے۔وہ اپنے حقوق و فرائض کا دفاع کرتے ہوئے جہاں تک ممکن ہوتا ہے زندگی کا ایک ایک پہر خاندان کے نام کر دیتا ہے۔وہ موسموں کی پرواہ کیے بغیر اپنے مقاصد کی طرف بڑھتا ہے۔ گرمی کی حبس ہو یا سردی کی ٹھٹھرتی رات۔ وہ اپنے خاندان کو مستحکم کرنے کے لئے اپنا مشن جاری رکھتا ہے۔قدرت کاملہ نے ایک باپ کو انوکھی سیرت ،سایہ دار شجر ، احساس ذمہ داری کا بوجھ ، اعصابی توانائی کا خزانہ ، ہاتھوں میں محنت کی چابی اور معاشی کفالت اٹھانے کی سکت عطا کر رکھی ہے۔رشتہ ازدواج سے منسلک ہوتے ہی زندگی ایک ایسے امتحان سے گزرتی ہے جہاں صرف اور صرف خاندانی استحکام ، تعلیم و تربیت ، معاشی منصوبے اور مستقبل کے خواب جیسے عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔دنیا کی دوڑ میں اس کو فضیلت سمجھ لیجئے یا ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے والا ایک مالک۔
عصر حاضر میں اگر ہم باپ کی پدرانہ شفقت اور لامتناہی محبت کا جائزہ لیں تو جوابی کاپی پر ذمہ داریوں کا ایک گوشوارہ بنا ہوا نظر آئے گا۔ یقینا اس کی کشش و جاذبیت آنکھیں کو فورا اس گوشوارے کو اپنی آنکھوں میں سما لینے کا حکم جاری کرے گی۔ فورا ایک ایسا معجزہ وقوع پذیر ہو جائے گا جو دل میں عمل کا چراغ جل کر اپنی روشنی بکھیرنا شروع کر دے گا ۔
وہ اپنے ہاتھ میں بیرونی خطرات سے بچنے کے لیے عصا تھامتا ہے۔ اپنے کندھوں پر محنت کا بوجھ اٹھا کر ایسے کھڈوں سے گزرتا ہے جہاں اس کے پاؤں پتھروں سے ٹکرا کر چھالوں اور زخموں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔لہولہان ہو نے کے باوجود بھی وہ ہمت نہیں کھوتا ، نہ گھبراتا ہے ، نہ دلبرداشتہ ہوتا ہے ، نہ احساس کمتری اور نہ احساس برتری کا شکار ہوتا ہے بلکہ سہانے مستقبل کے خواب اسے پھر سے اس کے اعصاب میں توانائی کا نیا جوش و ولولہ بھر دیتے ہیں۔ تعجب ہے یہ عمل جوانی سے شروع ہوکر بڑھاپے تک جاری رہتا ہے۔مگر حیرت ہے زندگی کی کشمکش پر ، جذبات کی تعبیر پر ، ارادوں کی پختگی پر ، ضمیر کی آواز پر جو مسلسل کانوں میں ایک ہی گھنٹی بجا تی ہے جس کی بازگشت محنت ، عزم اور ذمہ داری کی صورت میں سنائی دیتی ہے۔
واہ! یہ کیسا اعزاز ہے جو ایک باپ کو فلک سے عطا ہوتا ہے۔ یہ آواز ہزاروں میل سفر طے کر کے اس کے کانوں میں ہلکی سی سرگوشی کرتی ہے۔اس کے سامنے نقشے کا طومار کھول کر رکھ دیتی ہے۔
اسے کہتی ہے اگر تیری آنکھوں میں روشنی ہے اسے پڑھ ۔اگر تیرے پاس سوچ کا دروازہ ہے تو اسے کھول اور اگر تیرا دل دھڑکتا ہے ان دھڑکنوں میں استعداد قبولیت کی روح کو پھونک تاکہ اثرپذیری زندگی کو نمک کی طرح پر نمکین بنا دے۔ تب تجھے احساس ہوگا کہ زندگی کا خلاصہ مرکزی دروازے سے شروع ہوکر زمین کے چار کونوں میں کس للکار اور یلغار کے ساتھ کھلتا ہے۔کوئی کسی سے بھی دروازے سے داخل ہونا چاہے اسے آزادی مل جاتی ہے۔بات مشرق کی ہو یا مغرب کی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔فقط ہماری سوچ مثبت اور ترقی کی طرف گامزن ہونے والی ہو۔ اثر قبولیت اور لچک زندگی کو کرچیاں ہونے سے بچا لیتی ہے۔ ہمارا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ کس حد تک درست ہے؟ جو ہماری زندگی کا رخ حقیقت کی طرف موڑ دے۔ ہمیں جینے کا نیا رنگ دے دے۔ہمارے احساسات و جذبات کو تعبیر دے دے۔ہمیں نئی سوچ اور فطرت دے دے۔ اولاد کو باپ کی عزت کا درس دے دے۔ہماری ہمت اور قوت کو بڑھا دے۔ہمارے تعلقات و روابط کو مضبوط بنا دے۔ہمیں فکروں سے آزاد کر کے احساس ذمہ داری کی روح پھونک دے ۔ آج باپ کے عالمی دن پر سوچ و بچار کا وقت ہے۔
اگر ہم نصیحت کے لقمے ہضم کرنا جانتے ہیں تو ہم نافرمانی کی دیواریں گرا سکتے ہیں۔وفاداری کی نئے سرے سے اینٹ لگا سکتے ہیں۔اپنے والدین کو خوش و خرم رکھے سکتے ہیں۔ان کا عزت و احترام بڑھا سکتے ہیں۔انہیں احساس کمتری سے نکال سکتے ہیں۔
ان کی قربانیوں کا اعتراف کر سکتے ہیں۔ان کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔ ان کی خدمت اور مرتبہ بلند کر سکتے ہیں۔ ایک دن عزت کرنے کا نوالہ کھانے سے بہتر ہے ہم ہر روز ان کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ان کے احساسات و جذبات مجروح نہ ہونے دیں۔ زندگی کے کڑے امتحانوں میں ان کا ساتھ دیں۔وہ اپنے حالات اور وقت کے مطابق جو کچھ کر سکتے تھے انہوں نے کوشش کرکے ہماری تعلیم و تربیت کرکے اس مقام تک پہنچایا ہے شاید جہاں ہماری سوچ ابھی شروع بھی نہ ہو۔ ہم ان مشکلات کا منظر اپنی آنکھوں کے سامنے نہیں لا سکتے شاید انہیں سن کر ہماری آنکھوں کے سامنے خوف و ہراس پھیل جائے۔
ہم بزدل اور بے دل ہو جائیں ۔ انہوں نے کس طرح خزاں میں بہار کے پھول کھلائے؟
آج وقت ہم سے سوال کرتا ہے۔
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
کہیں بے دینی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے ہمیں گھائل تو نہیں کر رکھا۔ ہماری سوچ کے پھل کو دیمک تو نہیں کھا رہا؟
کیا ہم خدا کے احکام کی بجا آوری کر رہے ہیں؟
یا محض وقت گزارنے کی اداکاری کر رہے ہیں۔
دنیا میں انتقام کے دو بڑے ذرائع ہیں پہلا خدا کی قدرت ہے جو بے آواز لاٹھی کے ساتھ ہماری تربیت کرتی ہے جبکہ دوسرا “جیسا کرنا ویسا بھرنا” یہ مثل کھرا اور پورا پورا انصاف کر دیتی ہے۔
آج ہم زندگی کے کس موڑ پر کھڑے ہیں؟
ہماری ترجیحات کے موسم کیا ہے؟
کیا کہیں یہ زبان ایسے موسم میں اجنبی رشتوں کا پہاڑا تو نہیں پڑھ رہی۔کیونکہ وقت اور حالات نے اس بات کو کثرت رائے سے دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ بے دینی بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ اولاد نافرمان بن جائے گی۔ اگر یقین آئے تو آج اس بات کو خاندانی پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔حقیقت خود بخود بے نقاب ہو جائے گی۔
آج باپ کے عالمی دن پر غوروخوض کا وقت ہے۔
ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔والدین کی عزت اور خدمت کرنے کا وقت ہے۔اگر آج تک ہمارے دلوں میں والدین کی عزت و تکریم کا خیال نہیں آیا تو اپنی ذات سے ہم کلام ہو کر دیکھ لیجیے ۔تھوڑے وقت کے لیے بچپن کی یادوں کا نغمہ سن لیجئے۔
اس وقت کو یاد کر لیجیے جب ایک ایک لمحہ باپ نے اپنی اولاد کے لیے تپتے صحرا میں گزار دیا۔
یاد رکھیں! والدین کا دل موم کی طرح ہوتا ہے جو بچوں کی محبت سے پگھل کر نرم و ملائم ہوجاتا ہے۔
تو پھر دیر کس بات کی اور اس سے قبل بہت دیر ہو جائے اپنے باپ سے کچھ کہہ دیجئے۔
کچھ سن لیجئے۔
شاید اس میں عمر درازی کی دعا شامل ہو اور آنے والی نسلوں کے لیے برکت کے پودے جو نسل در نسل اپنا پھل جاری رکھیں۔

 

Facebook Comments

ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
مصنف/ کتب : ١۔ بکھرے خواب اجلے موتی 2019 ( ادبی مضامین ) ٢۔ آؤ زندگی بچائیں 2020 ( پچیس عالمی طبی ایام کی مناسبت سے ) اخبار و رسائل سے وابستگی : روزنامہ آفتاب کوئٹہ / اسلام آباد ، ماہنامہ معالج کراچی ، ماہنامہ نیا تادیب لاہور ، ہم سب ویب سائٹ ، روزنامہ جنگ( سنڈے میگزین ) ادبی دلچسپی : کالم نویسی ، مضمون نگاری (طبی اور ادبی) اختصار یہ نویسی ، تبصرہ نگاری ،فن شخصیت نگاری ، تجربہ : 2008 تا حال زیر طبع کتب : ابر گوہر ، گوہر افشاں ، بوند سے بحر ، کینسر سے بچیں ، پھلوں کی افادیت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply