دنیا ایک عجب تماشا ہے/عاصمہ حسن

یہ دنیا ایک عجیب تماش گاہ ہے اور ہم سب اس میں تماشائی ہیں ـ کسی کے دکھ ‘ درد کو سمجھتے نہیں ہیں بس اپنی دھن میں لگے رہتے ہیں ـ یہ سوچنے کی کوشش تک نہیں کرتے کہ ہمارے رویوں یا لفظوں سے کسی دوسرے پر کیا گزر رہی ہے یا وہ کس طوفان سے تن تنہا لڑ رہا ہے ‘ یا کس ذہنی و جسمانی اذیت سے گزر رہا ہے ـ ہم کسی دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرنا گوارا ہی نہیں کرتے بلکہ ہم اپنے ہی مطلب اخذ کرتے ہیں ـ ان کو کریدتے ہیں اور اپنی سوچ کے مطابق مفروضے تراشتے ہیں ـ
ہم وہ لوگ ہیں جو دوسروں کے کمزور پہلوؤں پر نظر رکھتے ہیں اور اس انتظار میں ہوتے ہیں کب ہمیں کسی کی کمزوری ہاتھ لگے اور ہم اس کا فائدہ اٹھائیں ـ ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں اورچاہتے ہیں کہ دوسرا شخص ہمارے اشاروں پر ناچے ـ اگر کوئی کھلکھلا کر ہنس پڑا تو کہتے ہیں کہ فلاں ہنسا کیوں اور اتنے زور سے کوئی ہنستا ہے بھلا؟ اگر کوئی رو رہا ہے تو اس کی ڈھارس بندھانے کی بجائے کھسر پھسر کرتے ہیں کہ مگرمچھ کے آنسو رو رہا ہے ـ یہ کوئی بات تھی بھلا رونے والی یا یہ کوئی موقع تھا ـ یا فلاں کے آنسو تو اس کے ناک پر ہی ٹکے ہیں یہاں بات ہوئی وہاں آنسو ٹپک پڑے ـ
اگر کوئی کم بولتا ہے یا خاموشی کا راستہ اختیار کرتا ہے تب بھی مسئلہ ہے کہ مغرور و بدتمیز ہے اوراگر کوئی زیادہ بولتا ہے تو بھی ہمیں گوارا نہیں ہوتا اور کہتے ہیں کہ فلاں تو چپ ہی نہیں کرتا ‘ دیکھا کیسے اس کی زبان قینچی کی طرح چلتی ہے ‘ کسی چھوٹے بڑے کا لحاظ شرم نہیں رہا ـ غرض آپ جیسے بھی ہیں ‘جو کچھ بھی کرتے ہیں لوگوں نے اس میں کیڑے نکالنے ہی ہوتے ہیں ـ کوئی آپ کو ‘آپ کے حالات کو اور صورتحال کو سمجھنے کی کوشش ہرگز نہیں کرے گا ـ اس لیے کوشش کریں کہ خود کو مطمئن رکھیں اور وہ کریں جس سے آپ کو خوشی ملے- لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں ـ لوگوں کا کام ہے بولنا ‘ کچھ تو کہیں گے ـ
ہم حالات و واقعات کا جائزہ نہیں لیتے کہ کون کیسے مشکل وقت سے خود کو باہر نکالتا ہے’ یا اس تکلیف کے وقت میں کیسے خود کو اس نے سنبھالا ـ کسی کی تعریف کرنا’ اس کے کام کو ‘ہمت کو سراہنا تو بہت دور کی بات ہے ـ ہمارے معاشرے میں ہمت بڑھانے’ ساتھ نبھانے کا تو تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ـ خیر یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ معاشرہ بھی ہم سے ہے ـ ہم اور ہماری سوچ ہی معاشرے کو بناتی ہے ـ جب ہم کسی کو پسند نہیں آتے تو ہمارا کوئی بھی پہناوا’ کوئی بھی بات ‘ کوئی بھی فیصلہ ‘ کوئی بھی ادا اُن کے دل کو نہیں بھاتی اور نہ ہی ہم ان کے دل میں جگہ بنا سکتے ہیں ـ بے شک آپ ساری زندگی ان کے ساتھ گزار لیں لیکن وہ فرق نہیں مٹ سکتاـ
کچھ لوگ منہ پر تو بہت میٹھے ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی آپ نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں وہ اپنا اصل روپ دکھاتے ہیں ـ وہی بات جس کی وہ آپ کے سامنے تعریف کر رہے ہوتے ہیں اُسی کو بڑھا چڑھا کر ‘ مرچ مصالحے لگا گر آپ کے خلاف استعمال کرتے ہیں ـ اپنے دل میں حسد پالتے ہیں ـ اپنی جیب میں چُھری لے کر گھومتے ہیں اور موقع ملتے ہی آپ کی جڑیں کاٹنا شروع کر دیتے ہیں ـ
حد تو یہ ہے کہ اگر کوئی اچھا یا قیمتی لباس پہن لے تو کہیں گے کہ بہت پیسہ آ گیا ہے’ بلکہ کہیں گے کہ پیسہ بہت ہے لیکن پہننے اوڑھنے کا سلیقہ نہ آیا ـ تعریف کے دو بول نہیں بولے جائیں ـ کسی کی تعریف کر دینے میں مضائقہ نہیں ہوتا لیکن ہماری انا کو یہ گوارہ نہیں ہوتا ـ
ہم تو وہ لوگ ہیں جو فوتگی والے گھر کو بھی نہیں بخشتے ـ ابھی جنازہ اُٹھا نہیں گھر والے جن کا پیارا ان سے بچھڑ جاتا ہےـ مَنو ںمِٹی کے نیچے اس کو سپردِ خاک کرنے گھر کے مرد حضرات قبرستان جاتے ہیں وہیں گھر کی بہو ‘ بیٹیاں’ بہنیں جن کے سَر سے محبت و شفقت کی چادر چھن جاتی ہے ‘ زندگانی ویران ہو جاتی ہے ـ وہ روتی آنکھوں کو ڈوپٹے کے پلو سے صاف کرتیں ‘ہچکیاں لیتیں ‘ بھاری دل کے ساتھ گھر میں آئے مہمانوں ‘ رشتہ داروں کے سامنے دسترخوان بچاتی ہیں کھانا لگاتی ہیں ـ یہی نہیں بلکہ ہر ایک سے پوچھتی ہیں کہ آپ نے صحیح سے کھایا’ کچھ اور چاہئیے ـ کیسے ہم اس قدر بے حس ہو جاتے ہیں ‘ کیسے اس ماتم زَدہ گھر کے پکوان کا لقمہ ہمارے حلق سے اترتا ہے ‘ کیسے ہم پلیٹ کو بوٹیوں سے بھر لیتے ہیں اور ان پر مزے سے ہاتھ صاف کرتے ہیں وہ بھی اُن کے سامنے جن کی دنیا لُٹ گئی ہوتی ہے ـ کاش یہیں پر ہم بس کر جاتے لیکن نہیں —-ہم اس کھانے میں بھی نقص نکالتے ہیں ـ حتٰی کہ شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں صحیح سے پوچھا نہیں گیا’ ہماری آؤ بھگت نہیں کی گئی ـ کیسے ہم اتنے ظالم اور بے حس ہو سکتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کی تکلیف نظر نہیں آتی ـ کیسے ہم جنازہ کے اُٹھتے ہی کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ـ کیسے میت کے سامنے پڑے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے دنیاوی باتیں کرتے ہیں ـ کن انکھیوں سے تاڑتے ہیں ‘ ٹوہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ـ ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے ہیں ـ کیا ہم انسان کہلوانے کے قابل ہیں ؟
کسی شادی پر چلے جائیں کھانے پر اور آؤبھگت پر اعتراضات اُٹھاتے ہیں ـ کچھ رشتہ دار تو اسی موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ وہ روٹھ کر بیٹھ جائیں اور شادی کی تقریبات میں بھنگ ڈالیں ـ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک باپ نے نہ جانے کیسے پائی پائی جوڑی ہوگی’ نہ جانے کیا بیچ کر جہیز اکٹھا کیا ہو گا ـ ادھار اُٹھا کر کھانے کا انتظام کیا ہو گا لیکن ہمیں اِن سب باتوں سے غرض نہیں ہوتی کیونکہ ہمیں تو صرف خود سے اور اپنے مطلب سے غرض ہوتی ہے ـ
دراصل ہم کسی کو جینے نہیں دیتے ہیں ـ کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتے ہیں ـ کسی کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتے ہیں ـ ہم تو وہ لوگ ہیں جو عیادت کے لیے جائیں بے شک کوئی بسترِ ِمرگ پر بھی کیوں نہ ہو ہم اس سے پچھلی عداوتیں نکال کر بیٹھ جاتے ہیں ـ حتٰی کہ یہ کہنے سے بھی باز نہیں آتے کہ یہ سب اس کے اعمال کا نتیجہ ہے جو اس کے سامنے آ رہا ہے ـ ہم کیسے دنیا میں حساب کتاب کا رجسٹر کھول کر بیٹھ جاتے ہیں ـ حالانکہ ہمارا رب انتہائی رحیم و کریم ہے ‘ مغفرت فرمانے والا ہے ‘ جو توبہ کے دروازے ہر وقت ہمارے لیے کھلے رکھتا ہے ـ صدقِ دل سے معافی مانگنے پر معاف کر دیتا ہے ـ ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا نہیں دیتا ـ ہمارے اعمال ظاہر نہیں کرتا ـ ہمارے رازوں کی پاسداری کرتا ہے ‘ پردہ پوشی کرتا ہے ـ پھر ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ ہم کون ہوتے ہیں سزا و جزا کا فیصلہ کرنے والے ‘ لوگوں کے رازوں کو افشاں کرنے والے ـ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم سب نے اپنی اپنی قبر میں جانا ہے اور صرف اپنے ہی اعمال کے جواب دہ ہیں تو پھر اپنی فکر کیوں نہیں کرتے ـ دوسروں کے بارے میں سوچ کر خود کو ہلکان کیوں کرتے ہیں اور ان کی زندگیاں طعنوں’ کوسنوں سے اجیرن کیوں کر دیتے ہیںـ
ہم تو وہ لوگ ہیں جو کسی کی مدد بھی کرتے ہیں تو احسان جتلاتے ہیں ساری زندگی کے لیے ان کو باتیں سناتے ہیں ـ خاندان میں داستانیں سنا کر ان کو رسوا کرتے ہیں ـ غریب رشتہ داروں کی عزتِ نفس کو خوب اچھی طرح مسلتے ہیں ـ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خدا کا شکر ادا کریں کہ اُس ذات نے ہمیں توفیق عطا کی ہے اور بانٹنے والوں میں سے شامل کیا ہے ـ اِس میں ہمارا کوئی کمال نہیں کیونکہ ہم نے اس ذات کے نوازے ہوئے میں سے دینا ہے ـ لیکن ہم پرچار کر کے’ تصویریں بنا کر ‘ سوشل میڈیا پر ڈال کر دِلی سکون محسوس کرتے ہیں پھر توقع کرتے ہیں کہ ہماری کی گئی نیکی قبول ہو گئی ہے ـ
حدیث کا مفہوم ہے کہ : “صدقہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو ـ ”
ہم کسی کا دل دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ـ اپنے لفظوں سے ایسے تیر چبھوتے ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے ‘ روح تک چھلنی ہو جاتی ہے ـ ہم دوسروں کو کم تر اور خود کو برتر جانتے ہیں ـ ہمیں اپنے فیصلے’ اپنی سوچ و رویے درست جب کہ دوسرے کی بات اور عمل غلط نظر آتا ہے ـ لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں لیکن خود عمل نہیں کرتے ـ ویسے بھی نصیحت کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ عمل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے ـ ہمیں اپنی کمی’ غلطی ا ور کوتاہیاں نظر نہیں آتی کیونکہ ہمیں دوسروں کی عیب جوئی سے فرصت نہیں ملتی ـ
ہمارے دل سے احترام ‘ محبت’ خلوص ‘ پاسداری’ وفا سب ناپید ہوتا جارہا ہے ہم مطلب پرست ہوتے جا رہے ہیں ـ لوگوں سے میل ملاپ’ تعلقات ان کی حیثیت ‘ اعلیٰ عہدہ دیکھ کر استوار کرتے ہیں ـ پھر نالاں ہوتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہماری دعائیں قبول نہیں کرتا ـ خدارا ابھی بھی وقت ہے خود پر اپنی سوچ پر کام کریں تاکہ ہم اپنے بچوں کی تربیت بہتر انداز میں کر سکیں اور ایک اچھا اور پُرسکون معاشرے کہ بنیاد ڈال سکیں ـ آسانیاں بانٹنے والے بنیں ـ

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دنیا ایک عجب تماشا ہے/عاصمہ حسن

Leave a Reply