• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی خواتین اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا بیان/نعیم اختر ربّانی

پاکستانی خواتین اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا بیان/نعیم اختر ربّانی

فیمنسٹ خواتین کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ پاکستانی خواتین کے متعلق جو بھی بے بنیاد بات کریں گی تو وہ مان لی جائے گی ، کوئی جواب نہیں آئے گا ، ردِ عمل کی فضا قائم نہ ہو گی۔ کیوں کہ خواتین کا احترام و تکریم اس معاشرے میں حد درجہ زیادہ ہے۔ بہت سی غیر متعلقہ باتیں اور افواہیں صرف اس لیے نظر انداز کر دی جاتی ہیں کہ اس سے خواتین کی حفاظت و عصمت کا پرچار ہی ہو رہا ہے۔

مگر اس بار ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی گفتگو کو کوئی نظر انداز کرنے کو تیار نہیں ہے مگر محترمہ کئی بار اپنا مؤقف تبدیل کر چکی ہیں ، ان کے ہمنوا ہر دس منٹ بعد نئے مؤقف کے ساتھ ان کی تائید کو تشریف لا رہے ہیں۔ کئی دیگر فیمنسٹ خواتین بھی اس میدان میں اپنا نام روشن کرنے کے لیے اُتر چکی ہیں۔ مگر کیا کریں اب عوام یہ ہضم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

پہلے تو خواتین کی عزت و احترام اور تکریم کی باتیں ہوتی تھیں۔ مگر اب خواتین کی تکریم و تعظیم کے لیے ان سے متعلقہ ایسی جھوٹی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ خود ان کی عزت کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

اس جدید دور میں چاہے وہ قبائلی علاقے ہوں ، اندرونِ سندھ ہو یا سرائیکی پٹی کے لوگ۔ ہر طرف جدت ، ٹیکنالوجی کا وجود پایا جاتا ہے۔ خصوصاً سمارٹ فون ہر ایک کے پاس ہے۔

آج تک کسی نے بھی ایک وڈیو ایسی نہیں دیکھی کہ کسی نے کہا ہو کہ اس علاقے میں ، یا اس مخصوص خاتون کے ساتھ ایسا ہوا ہے یا ہو رہا ہے۔

دراصل مقدمہ یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی شرمگاہوں پر تہہ بند باندھ کر تالے لگائے جاتے ہیں اور ان کی شرمگاہوں کو سیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ مرد حضرات اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی خواتین کی عصمت محفوظ رہے یا دوسرے الفاظ میں کہ کسی غیر مرد کے قریب نہ جا سکیں۔

پہلے تو اس بات کو عموماً ذکر کیا گیا اور جب کہا گیا کہ پاکستان میں ایسا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تو پھر یہ موقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات ، سرائیکی پٹی کے علاقے ، اندرون سندھ ، بلوچستان کے قبائل وغیرہ میں اس طرح کے کیسز عام ہیں۔ لیکن پھر جب شمالی علاقہ جات کے مکینوں نے اس موقف کو شدت سے رد کیا تو پھر کہا گیا کہ نہیں کہیں کہیں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں۔ لیکن جب پھر بھی بات نہ بنی تو کہا گیا کہ شمالی علاقہ جات میں تو نہیں ہوتا مگر دیگر علاقوں میں ایسے کیسز بہت ہیں۔

اس کے بعد چند دیگر فیمنسٹ خواتین کی رائے بھی سامنے آئی جنہوں نے اس طرح کے دعوے کیے۔ مگر ہماری بات اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو آج تک اس کی بھنک کیوں نہ پڑی؟ اس کا اعلان کیوں نہ کیا گیا ؟ کوئی ویڈیو کیوں نہ بنی؟ اس ظلم کے خلاف آج تک کسی نے لکھا کیوں نہیں ؟

آپ خود سوچیں کہ اس طرح کا کیس آج تک رپورٹ کیوں نہ ہوا؟ ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندے ، پرنٹ میڈیا کے نامہ نگار ، الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے ہر علاقے میں موجود ہیں۔ ان میں سے کسی نے آج تک اس طرح کے کیس پر کوئی گفتگو نہیں کی۔

نمائندوں کے علاوہ بھی آپ دیکھتے ہیں کہ کہیں کچھ بُرا ہو رہا ہوتا ہے تو کوئی بھی شخص کھڑا ہو کر ویڈیو بنا لیتا ہے اور اگلے ہی لمحے وہ ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے۔ عوامی ردعمل آتا ہے پھر قانون حرکت میں آتا ہے مگر آج تک کسی ایک شخص کو یہ خیال نہ آیا کہ وہ اس طرح کے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھا سکے؟

Advertisements
julia rana solicitors london

ان سب درج بالا باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں اس طرح کے کام کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو کم از کم ایک کیس تو پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں رپورٹ ہو سکتا۔ جبکہ ایسا نہیں ہوا تو یقین کیجیے کہ ڈاکٹر صاحبہ نے بے بنیاد بات کی ہے جو کہ خود خواتین کی عصمت کے خلاف ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply