طائرِ لاہوتی اور جوہرِ ملکوتی/ڈاکٹر اظہر وحید

اقبالؒ کا طائرِ خیال جب مائل بہ سیرِ لاہوت ہوا تو اس نے خود کو جبریل تو نہیں کہا، مگر بالِ جبریل ضرور کہا ہے۔ چنانچہ ”بالِ جبریل“ میں کہتے ہیں:

Advertisements
julia rana solicitors london

تیرا جوہر ہے نُوری، پاک ہے تُو
فروغِ دیدہِ افلاک ہے تُو
تیرے صیدِ زبوں، افرشتہ و حُور
کہ شاہینِ شہِ لولاکؐ ہے تُو
اقبالؒ جسے عارفِ خودی کہتا ہے، کوئی تو اس کا مخاطب ہو گا، اقبال جس کے جوہر کو نوری کہتا ہے اور جسے ہوا و ہوس، ہر قسم کی دنیاوی اغراض، غرضیکہ بشریت کی ہر علت سے پاک گردانتا ہے، وہ کوئی تخیلاتی مخلوق نہیں ہو گی بلکہ ایک جیتی جاگتی شخصیت ہو گی۔ کوئی طائرِ لاہوتی تو ہو گا جو اس رزق سے موت اچھی سمجھتا ہو گا، جس رزق سے اس کی جولانی پرواز میں کوتاہی آ جاتی ہے۔ کوئی تو ہو گا جو شکم پر دل کو ترجیح دیتا ہے۔ عام طور پر فقیر کا بیان اس کے اپنے سفر کا بیان ہوتا ہے، وہ جو بات بیان کرتا ہے، وہ جگ بیتی نہیں ہوتی بلکہ اس پر بیت جانے والی کوئی بات ہوتی ہے۔ سچ پوچھیں تو بات جب تک بیت نہ جائے، اپنی نہیں ہوتی …… اور جو بات اپنی نہ ہو، وہ بیان ہو کر بھی اپنی نہیں رہتی۔ بہرطور اللہ کے فقیر کی باتیں یا تو وہ باتیں ہیں جو اس پر بیت چکی ہیں، یا وہ جو اس پر بیت جانے کو بے تاب ہیں۔ فقیر ماضی نہیں بولتا، بلکہ حال بولتا ہے، اس کا بیان جہاں اس کے حال کا شاہد ہوتا ہے وہاں اس کے لامتناہی مستبقل کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ ساغر و مینا کا بیان مئے الفت پیے بغیر ممکن ہی نہیں۔ لازم ہے کہ ایسے بیان کو شاعرانہ تعلّی نہ سمجھا جائے، بلکہ باری تعالیٰ کا ایک احسان لازوال سمجھا جائے …… یہاں تو بس ایسا ہے کہ
بڑھ کر جو تھام لے، مینا اسی کا ہے
اس تمہیدِ طولانی کا مدعا یہ ہے کہ ”بالِ جبریل“ کی ہمراہی میں ”طائرِ لاہوتی“ کی پرواز کی سرسراہٹ پر کان دھرے جائیں۔
انسان کی حقیقت دو واضح حصوں میں منقسم ہے۔ ایک اس کا بشری پرت ہے اور ایک ملکوتی فلک ہے۔ زمین ایک ہے، آسمان تہہ در تہہ ہیں …… افلاک فلک در فلک ہیں …… جیسے موج، موج در موج ہے۔ زمینِ وجود واحد ہے، لیکن اس پر تنے ہوئے افلاک تا حدِ نظر ہیں …… اور یہ نظر اپنی اپنی ہے۔ زمین پر رینگنے والے ایک شعور نے یہ کھوج نکالی کہ انسان کی ابتدا بندر ہے، بلند نگاہ رکھنے والوں نے جہاں یہ کہا ”فکرِ ہر کس بقدرِ ہمت
او ست“ (ہر شخص کی فکر اس کی ہمت کے مطابق ہوتی ہے)، وہاں خرد کی گتھیاں سلجھانے والوں نے یہ بھی کہا:
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے
آسمان خیال تہہ در تہہ ہے۔ چنانچہ انسان کے حق میں یہ حکم ایک بشارت کی صورت میں موجود ہے ”ہم تمہیں طبق در طبق اوپر لیے چلیں جائیں گے“ یہ اطباقِ خاک نہیں، بلکہ افلاک ہیں۔
جن لوگوں کو بشریت کے حجابات سے رہائی نصیب ہوئی ہے، جنہیں کسی سلطان کی ہمراہی میسر آئی ہے، انہیں آسمانِ خیال میں منازلِ عروج بمنزلہِ معراج حاصل ہوئی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ خاکی وجود جس خیمہِ خاکدان میں قید ہے، اس پر زمان و مکان کی طنابیں تنی ہوئی ہے۔ اس عالم کو ناسوت کہتے ہیں۔ عالمِ محسوس خواہ کتنا ہی بلند و عمیق کیوں نہ ہو، سب کا سب عالمِ ناسوت کہلائے گا۔ سیاروں اور ستاروں کی سب گزرگاہیں، اپنی کل کہکشاؤں سمیت عالمِ ناسوت ہی ہے۔ آسان تفہیم کے لیے اسے عالمِ اجسام بھی کہا جا سکتا ہے۔ تمام دیدہ و نادیدہ مادہ اپنی خفتہ و بیدار توانائیوں سمیت ناسوتی عالم ہے۔ جسموں کی دنیا اور جسم کے شعور میں رہنے والے اس عالمِ ناسوت سے باہر نہیں نکل پاتے۔ اس کی بنیادی وجہ یقین کا فقدان ہے …… اس سلطان پر یقین کا فقدان جو اقطارالسمٰوات والارض سے باہر لے جانے کے لیے نصرت کا سامان کرتا ہے …… قرآنی اصطلاح میں اسے سلطاناً نصیرا بھی کہتے ہیں۔
عالمِ ملکوت روح کا عالم ہے۔ اس عالم میں افرشتہ و حور ہیں …… حور بھی روح ہے، اگر اسے پلٹ کر پڑھنا آ جائے۔ بیدار روح جب انگڑائی لیتی ہے تو اس کی سب سے پہلی سیرگاہ یہی عالمِ ملکوت ہوا کرتی ہے۔ اگر جسم کو عرض کہا جائے تو اس کا جوہر روح ہے۔ روح کا جوہر عالمِ ملکوت میں کھلتا ہے۔ ملکوت میں دائیں اور بائیں کی تقسیم باقی ہے، یہ عالم بھی حسنات اور سئیات، سعادت اور شقاوت میں تفریق کرتا ہے۔
ملکوت سے ماورا عالمِ جبروت ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں، اور وہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ عالمِ مشیت ہے۔ یہاں بلاشرکتِ غیرے ارادے کی حکمرانی ہے، یہ چون چرا کا محل نہیں۔ شائد یہاں بندے اور مولا کی تفریق بھی معدوم ہے۔ یہاں صرف حکم ہے اور اس حکم کی بہرصورت بجا آوری ہے۔ یہاں سے حکم روانہ ہوتا ہے اور ملکوت میں اطلاع دیتا ہوا، برق رفتاری سے مطلعِ ناسوت میں طلوع ہوتا ہے۔ ناسوت میں پھر اس حکم کے مناسبِ حال اسباب و نتائج کا تعین شروع ہو جاتا ہے۔ ملکوت اور ناسوت دونوں صفات کا جہان ہیں۔ جبروت صفات اور ذات کے درمیان برزخ ہے۔
لاہوت اور ہاہوت ذات کا جہان ہے۔ ذاتی جہان کا بیان صفاتی جہان میں ناپید و عنقا ہے۔ اس جہان میں ذاتی جہان کا فقط ذکر موجود ہے …… مذکور لاموجود ہے۔ قرآن میں بھی فقط اتنا بتایا گیا ہے …… ”پس اپنے بندے پر وحی کی، جو بھی وحی کی“ …… ”وہی“ اور ”وحی“ میں فرق شائد نہ رہا ہو۔ مراد یہ کہ جبریل جو ملکوت کی دنیا میں ایک بلند درجے کا حامل ہے، وہ بھی یہ پیغام لینے کا متحمل نہ تھا …… چہ جائیکہ ناسوت میں رہنے والے اس کے بارے میں چہ مگوئیاں کریں۔ ذات کے جہان کا بیان اجمالی انداز میں بس یونہی کیا گیا ہے، جیسے مرشدی حضرت واصف علی واصف کا یہ بیان کہ
جلوہِ ذات سے آگے تھی فقط ذات ہی ذات
اپنی خودی کا عارف ایک مردِ قلندر اپنا تعارف یوں کرا رہا ہے …… اور یہ تعریف نہیں، تعارف ہے …… تعریف میسر آ جائے تو تعارف کرانا فرض ہو جاتا ہے…… دونوں صورتوں میں۔ راہرو کو اپنی نفی درکار ہوتی ہے، راہبر کو اپنا اثبات۔
میں طائر لاہوتی، میں جوہرِ ملکوتی
ناسوتی نے کب مجھ کو اس حال میں پہچانا
ناسوتی شعور جب ملکوتی جوہر کو پہچاننے سے قاصر رہتا ہے تو اس طائرِ لاہوتی کو کیسے پہچان پائے گا جس کی پرواز کسی اور نہیں مگر سوئے ذات ہے۔ قلندر لوگ کہتے چلے آئے ہیں:
قلندر را قلندر می شاسد
ذات کے متلاشیوں کے لیے خود کو طائر کہنے کی روایت بہت پرانی ہے۔ حضرت بایزید بسطامیؒ اپنی روحانی معراج کے تذکرے میں خود کو ایک طائر کی صورت میں محوِ پرواز دیکھتے ہیں۔ یہ تذکرہ ”کشف المحجوب“ میں یوں درج ہے: ”حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں کہ ابتدا میں جب میں نے واحدانیت کی طرف سیر کی تو میرے باطن کو آسمان پر لے گئے، اور اس نے راستے میں کسی چیز کی طرف نگاہ نہیں کی، اسے بہشت و دوزخ دکھایا تو بھی اس نے توجہ نہ کی، اور جب مجھے کائناتِ عالم اور حجابات سے آگے لے گئے تو میں ایک پرندہ ہو گیا، جس کا جسم احدیت سے بنا تھا اور پرو بال قِدم سے، پس میں تنزیہہ و تقدیس کی ہوا میں اڑتا رہا حتیٰ کہ میں ازلیت کے میدان میں جا پہنچا۔۔۔“
باطن کے آسمانوں کو اپنی سیر گاہ بنانے والوں کی پرواز کا ادراک زمینی جبلتوں میں جکڑے ہوئے ناسوتی شعور کیسے کریں گے۔ نہیں کر سکتے۔ وہ اسے جانتے ہیں، یہ اسے نہیں پہچان پاتے!!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply