پہلے کچھ سوالات
پہلی اور بنیادی بات : اسلامی نظام بطور نظام پچھلے دو ہزار سال سے کس ملک میں رائج تھا؟ اور آج بھی یہ کس مسلمان ملک میں رائج ہے؟
دوسری بات : یہ کس فقہ کا اسلامی نظام ہو گا؟ کیا دوسرے فقہ والا اس نظام کو مانے گا؟ (نوّے فیصد فقہ روایات پر مشتمل ہے، اور ہر فقہ کی اپنی اپنی روایات ہیں) ۔
تیسری بات: اس ملک میں جو مسلمان ایک دوسرے کے فرقے والوں کو ک-ا-ف-ر کہہ کہہ کر پکارتے ہیں، کیا وہ اس ایک فرضی اسلامی نظام کو مانیں گے؟
چوتھی بات: جو مسلمان ایک کلمہ، ایک نماز، ایک عید ، ایک روزہ، ایک زکوٰۃ، ایک وضو، ایک اذان ، ایک نکاح، ایک طلاق، ایک وقتِ نماز، پر راضی نہیں ہوتے، ایک دوسرے کا ذبح ہُوا نہیں کھاتے، ایک دوسرے کی مسجد میں نماز پڑھنا گوارا نہیں ہے کیا یہ پاکستانی مسلمان ، ایک اسلامی نظام پر راضی ہوں گے؟
پانچویں بات: یہ اسلامی نظام بنے گا کیسے؟ قرآن یا روایات یا فقہ پر؟
چھٹی بات: جن مسلمانوں کا قرآن کا ایک ترجمہ ، ایک روایت یا ایک فقہ نہیں ہے ، وہ ایک اسلامی نظام پر کیسے متفق ہوں گے؟
ساتویں بات: جس علاقے میں جو مسلمان ایک قومی زبان پر متفق نہیں ہوتے ، پانی کی تقسیم پر متفق نہیں ہوتے، جہاں جاگ پنجابی جاگ، سندھی اور بلوچ نیشنلزم اور پشتون ولی کے نعرے لگاتے ہوں، وہ مسلمان ایک اسلامی فارمولے پر سرِ تسلیم خم کر دیں گے؟
اگر مذہب اور اسلامی نظام قوموں کی بائینڈنگ فورس ہوتا تو آج بنگلہ دیش نامی ملک کا کوئی وجود نہ ہوتا۔۔
عام آدمی کو پچھلے ستر سال سے اسلام کے نام پر بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ مذہب کا سہارا لے کر پہلے ملک بنایا، پھر پچھلے ستر سال سے مذہب کے نام پر دہشتگردی کو سپورٹ کیا گیا۔
آج کل کے حساب سے یہ اسلامی نظام کی صدا بےوقت کی راگنی ہے، ادھر اور بھی دکھ ہیں محبت کے علاوہ۔ پہلے اس ملک کی فسطائیت پر تو بولیں، جہاں دن دیہاڑے لوگوں کو سٹیٹ اُٹھا کر لے جاتی ہے۔ سٹیٹ جب خود ظلم کو بڑھاوا دے تو کون سا اسلامی نظام اور کون سا اسلام؟ ان اسلامسٹ کے ناقابل ِعمل مشوروں کی وجہ سے مسلمان نوجوان اب ایتھیسٹ بنتا جارہا ہے۔
ایک اور نکتہ کی طرف بھی دھیان دیجیے کہ باوجود اتنا مذہبی معاشرہ ہونے کے اس وقت اسی ملک کے مسلمان ، فراڈ، بلیک میلنگ، دہشتگردی، ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکٹنگ، ملاوٹ ، جھوٹ، رشوت کمیشن کھانے جیسی قبیح سوشل برائیوں میں ٹاپ پر ہیں۔ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹتے ہیں۔ تو اس بات پر سوچیے کہ مسئلہ کہیں اور ہے نا کہ کسی فرضی اسلامی سسٹم لانے میں۔
سوچیں اگر کہیں کسی فرقہ کا اسلامی نظام آگیا تو کتنی تباہی مچے گی۔
پاکستان کا مسلمان اس وقت مذہبی، سیاسی اور سوشل منافقت کے اس معیار پر کھڑا ہے جہاں دنیا کی کوئی اور قوم موجود نہیں۔
ان اسلامسٹ کو اسلامی نظام کو سوچتے ہوۓ یہ بڑا دلکش اورخوش نما لگتا ہو گا، مگر حقیقت میں نفاذ ممکن نہیں۔
پاکستانی مسلمانوں کے نزدیک اسلامی شریعت کوئی ایسا بنا بنایا فریم ورک ہے جو ان کے تمام مسائل حل کر کے ان کو دنیا کی سُپر پاور بنا سکتا ہے۔
ایک دوست نے بہت خوبصورت انداز میں اس فرضی سسٹم کے بارے میں سوال پوچھا ہے کہ
کیا ایسا ممکن ہے کہ قوانین کے ایک ایسے پرانے نظام کو جس نے سینکڑوں سال سے کسی بھی معاشرے میں غیر موثر طور پر کام کیا ہو اور نہ ہی وہ نافذ ہُوا ہو، اسے ایک پرانی الماری سے جھاڑ پونچھ کر کے نکالا جائے اور اس بوسیدہ متروک نظام کو موجودہ پیچیدہ حکومتی سسٹم اور ماڈرن ادق مسائل سے نمٹنے کے لیے نافذ کر دیا جاۓ ؟
بقول منظور احمد صاحب کے،مذہب ، قومیت اور حب الوطنی کا اوور ڈوز ہمیشہ قوموں کو عالم سکرات میں رکھتا ہے اور ہم تو ایک طویل عرصے سے اس ہینگ اوور کا شکار ہیں اور جن چیزوں کے سبب بیمار ہوئے علاج کے لیے بھی وہی چیزیں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
تحریر کو مفتی محمد خان صاحب کی تقریر کے ایک ٹکڑے پر ختم کرتے ہیں کہ

جناب حیدر جاوید سید صاحب روزنامہ “مشرق “پشاور کے اپنے ایک کالم میں راوی ہیں کہ مفتی محمدخان قادری صاحب نے کہا “ماضی کے کسی نظام کو آئیڈیل قرار دے کر لوگوں کی ذہن سازی کرنا جرم ہے۔ ہر عہد اپنے لئے اس عہد کی ضرورتوں کے مطابق نظام کی تشکیل چاہتا ہے۔ اپنے زندہ وجود کو بھلا کر ہزار بارہ سو سال پیچھے کے ریاستی نظام اور سماج میں لے جانا ممکن نہیں”۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں