گزشتہ قسط کا لنک
پڑاؤ:
ہماراپڑاو پہاڑوں میں گِھری ایک خیمہ بستی تھی ۔جب ہم یہاں پہنچے تو سورج سر پہ کھڑاتھا۔ہماری جیپ رینگتی ہوئی ایک خیمے کے آگے جاکر رُک گئی۔سامان اُتارا گیا۔یہاں خیموں کے سامنے ایک ہوٹل تھا،جو خود ایک خیمہ تھا۔ہمارے پڑوس میں سارے خیمہ زن یہیں سے کھاناکھاتے تھے۔قطار در قطار لگے خیموں کے اپنے ہوٹل تھے اَور وہ لوگ ان چھپروں سے کھاناکھاتے تھے۔ دواریا ندی یہاں دودھ رنگ میں بہے جارہی تھی۔تمام خیمے ایک ڈھلانی میدان میں نصب تھے۔ہوٹلوں کی چمنیوں سے دُھواں اُٹھ رہاتھا۔خیمہ بستی پر نظر ڈالیں تو یُوں لگ رہاتھاجیسے کوئی لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔بس کچھ دن سستانے ،آرام کرنے ،کھانے اَور تازہ دم ہونے کے بعد لشکر اُٹھ جائے گا۔
یہ جگہ ایک پیالانما وادی تھی۔خیموں پر ریاست کشمیر کے جھنڈے لہرارہے تھے۔ندی پار ڈھلانوں پر گھوڑے چر رہے تھے۔ہمارے اِردگرد سر بہ فلک چوٹیاں تھیں۔یہ ساری پھول دار گھاس سے بھری تھیں ۔ان کے قدموں میں مویشیوں اَور بھیڑ بکریوں کے ریوڑچر رہے تھے ۔ان کے سِرے نوکدار تھے ۔نیلگوں آسمان ان کے اُوپر پھیلاتھا۔
جنوب مغرب میں طلاق پوڑی (پہاڑ ،چوٹی )تھی ۔اُس کے آگے کی چوٹی پر گلیشئر سورہاتھا۔جب کہ بادلوں کی سفید ٹکڑیاں اس کے سوئے ہوئے وجود کو چھوکر دیکھ رہی تھیں۔نیچے دواریاں ندی کادُودھ رنگ پانی چھلانگیں مار رہاتھااَور پہاڑی نغمہ اَلاپ رہاتھا۔خیمہ باس اِن مناظر اَورنغموں سے بے نیاز خودمنظری میں پھنسے تھے ۔جو اس جدوجہد سے تھک چکے تھے وہ ڈالڈہ میں بھُنے ہوئے مُرغ اَور بکرے کی بھُنی ہوئی رانوں کے حصّوں سے سلوک فرمانے میں جُت گئے ۔ شمال مغربی سمت کے پہاڑوں کے پیچھے ہنس راج اَور کالاسَر جھیلیں ہیں۔جب کہ شمال کی سمت درّے کے پار اُترتے ہیں تو بٹہ کنڈی نامی علاقہ آتاہے اُس کے آگے وادیِ ناران ہے۔جنوبی سمتوں میں مانسہرہ بہک ،دواریاں سڑک اَور تتلی وادی ہیں ۔ہم اَب تک یہاں کی جنوبی سمت میں سفر کرتے کرتے یہاں تک پہنچے تھے۔
مشرقی سمت ایک بڑاپہاڑ تھا۔خیمہ بستی اس کے قدموں میں بسی ہوئی تھی۔ایک پگڈنڈی نماسڑک اِس پہاڑپر چڑھتی ہے اَور کئی پہاڑی بل کھانے کے بعد جھیل کے قدموں میں جاکر اپنا سر رکھ دیتی ہے۔پھر نہیں اُٹھتی ۔جھیل کے پیچھے فصیل کی ماند کھڑے پہاڑوں کے اُس طرف لال بتی نامی چوٹی ہے۔
چار بج گئے تھے اَور ہم نے اَٹھ مقام کے ڈاک بنگلے میں صبح لذیذناشتہ کیاتھا۔اَگرچہ حسین وادیوں اَور دُودھ رنگ پہاڑی ندیوں کے بیچ ہمارا سفر اچھاتھا۔مگر سواری نے ان پگڈنڈیوں پر چلنے سے زیادہ اُچھلنے اَور اچھالنے کاکام کیاتھا۔صرف چلنا الگ معنی رکھتاہے جب کہ اُچھل اُچھل کر چلنا بالکل ہی دُوسرے ۔ہماری فولادی گھوڑی نے ہمیں اُچھال اُچھال کر یہاں تک پہنچایاتھا۔اس ساری جدوجہد میں وہ خوش ذائقہ پراٹھے،تڑکے پرپکے اَنڈے ، لذیذچھولے اُوراُوپر سے چاے کی بھر ی چینکیں جو اُنڈیل آئے تھے ۔شکم ِپُر نے وہ سب خالی ہونے اَور بدن نے قدرے ناتوانی کااَحساس کروایا۔مگر اس وقت کھانا کھانے کے دو مطلب تھے ۔ایک وقت بربادکرنا اَور اس وادی کودیکھنے کے بجائے یہاں کھانے میں جُت جانا۔دُوسرا ایک بے ضابطہ بسیار خوری ایک سیاح کے لیے ،ایک آوارہ گرد کے لیے بالکل بھی اچھی نہیں ہوتی ۔اُسے یہ خطرہ مول لینے سے دُور رہنا چاہیے کہ وہ ان دُشوار وادیوں میں اِسے دعوت دے ڈالے مگر پھر وہ اسے سنبھلنے کاموقع ہی نہ دے۔سو ہم نے پھل کھائے ،بسکٹ لیے اَور پانی پیا۔نماز عصر کاوقت ہو چکاتھا۔نماز اَدا کی ۔خیمہ جو ہمیں اچھا لگابھاو تاو کرنے کے بعد سامان اُس میں رکھا۔میرے قافلے کے لوگ تھک گئے تھے اَورٹوٹ گئے تھے ۔آج بہت اُچھلے تھے ،گرے تھے ۔اَب کچھ سستاناچاہتے تھے۔مَیں نے چادر گلے میں ڈالی اَور پہاڑ کی سمت اُس پگڈنڈی پر چلنے لگاجو اُوپر جاکر جھیل کے قدموں میں سر رکھ کر سوگئی تھی۔مَیں اس اَداءِ محبت کے تجسس میں اُوپر کو چڑھنے لگا۔
چھوٹے قد کے گھوڑے یہاں درجنوں کے حساب سے تھے۔کچھ سیاحوں کو اٹھائے اُوپر جارہے تھے۔کچھ ڈھلانوں پر رسیلی گھاس چرنے میں مصروف تھے ،کچھ سیاحوں کو کمرپر لادے واپس پڑاو کی طرف اُتر رہے تھے۔قددار گھوڑے ندی پار چراگاہ میں چر رہے تھے ۔یہ اُن سے منفرد تھے ۔ہماری شعبہ تاریخ اَور علم حیوانیات کی سائنس یہ اَندازہ لگارہی ہے کہ گھوڑوں کو جنگل سے پکڑ کر پالتو بنانے کارواج تقریباًچار ہزار سال قبل مسیح میں شروع ہوا۔تب دُنیا کی بہت سی جگہوں پر اِنسان کے اِس وفادار دوست سے خوداِنسان تک واقف نہ تھا۔سمجھا جاتاہے کہ موہنجوڈارو اَور ہڑپہ کے معروف شہروں میں بھی جب یہ جانور نیانیالایاگیاتو لوگ اِسے تجسس سے دیکھنے لگے ۔ہماری ڈی این اے کی شماریات کبھی کبھار لڑکھڑا جاتی ہے اَور ہمیں چلتے چلتے رُک کربتاتی ہے کہ ‘نہیں گھوڑے تو ۲۲۰۰۰سال پہلے پالتو بنائے گئے ۔۵۵۰۰سال قبل تو لوگ ان کادُودھ اَور گوشت اِستعمال کرتے تھے ۔جو آج بھی قدیم دفن شدہ برتنوں کی جانچ سے ملتاہے۔معلوم نہیں ڈی این اے کی شماریات ابھی اَور کتنا لڑکھڑاے گی اَور رستہ روک کر بولے گی ۔۔۔اَو ۔۔نو ۔۔ہ۔۔۔یہ اتنے سال قبل کاثبوت ہمیں ابھی ملاہے۔
چڑھائی دِقت دے رہی تھی ،سانسیں پھول رہی تھیں اَور وجود پر تھکن کے آثار تھے ۔آکسیجن لمحہ بہ لمحہ کم ہورہی تھی۔نشیبی وادیوں اَور سہل زندگی کے عادی پھیپھڑے ،اِن کایہاں اس بلندی پر ،اِس چڑھائی میں پریشان ہونا لازم ٹھہرتاہے۔مَیں رُکانہیں مسلسل اُوپر آگے بڑھتارہا۔پسینہ سارے وجود اَور اُونی ٹوپی کے اَند ر چھپے بالوں سے پھوٹ پڑاتھا۔دھڑکنیں تیز ہورہی تھیں اَور مَیں تھا کہ چڑھائی چڑھتاجارہاتھا۔قدرے چوڑی پگڈنڈی ،جس پر ایک پہاڑی جیپ چل سکتی ہے۔مگر یہاں کسی جیپ کاآنا ممنوع تھا۔بس چوپاے اَور دوپائے ہی یہاں چلے آرہے تھے۔چوپائے تو بس گوبر گرا رہے تھے مگر دوپائے ہر طرح کی رنگین غلاظتیں ۔
ہر سیاح فطرت شناس نہیں ہوتا،ناہی اس کاقدر دان ہوتاہے۔سیاحت آج کی دُنیامیں رواج ہے اَور کاروبار ہے۔حال آنکہ یہ اس سب کے برعکس ایک عبادت ہے ۔جس کاکوئی مسلک ،مندر،مسجد اَور تیرتھ نہیں ۔اَگر یہ کوئی مسلک یامذہب ہے تو پوری زمین ہی مندر ہے،گرجا ہے اَورمسجد ہے۔
مَیں ۱۴۰۰۰فٹ کی بلندی کے قریب تر تھا۔ کچھ دیر رُکا تو سانسیں اَور دھڑکنیں بحال ہو گئیں ۔نوکیلی چوٹیاں کھڑی تھیں اِن چوٹیوں کی گود میں وہ آبی پیالاتھا جسے دیکھنے لوگ یہاں آئے تھے۔ بہت دور نیچے خیمہ بستی کے اِنسان بونے لگ رہے تھے۔مجھے دو ہم راہی مل گئے۔صدام حسین دواریاں سیری کے رہنے والے تھے۔یہ فوج میں ملازم ہیں ۔چھٹیوں میں گھر آئے ہوئے تھے۔اِن دنوں یہاں چلے آئے۔ان کے بھائی اَور رشتہ دار وں کے گھوڑے ہیں۔جوسیاحوں کو کمر پر بٹھا کر اُوپر لے جاتے ہیں اَور پھر وہاں سے نیچے لے آتے ہیں۔
اِس بلندی پر اَور بالخصوص یہاں دوپھولوں کی بہتات ہے۔سُرخ رنگ کاچھوٹا پھُول اَور نیلے ڈنٹھل والانیلا پھُول ۔سُرخ رنگت کے اِس پھُول کو میسلون کہتے ہیں۔اِس کی دو قسمیں ہیں۔ایک یہ جو ہمارے اِردگر د جو بہتات میں تھی ۔اس نے پوری چوٹی کو اَور پار سامنے بائیں جانب کی ڈھلوان کو خاص کر سُرخ لبادہ اوڑھا لیا تھا۔دُوسری قسم کی میسلون اَعلی ٰ نسل کی ہے اَور اُسی سے کشمیری چاے بنتی ہے۔پار ڈھلوان اَور اُس کی چوٹی کو‘رتاسَر ’ کہتے ہیں۔اَور یہ جھیل جس کی طرف ہم بڑھ رہے تھے دراَصل ‘رتاسَر ’ جھیل بھی ہے۔سُرخ لبادے کی نسبت سے یہ َرتاکہلاتاہے۔
میسلون کی جڑوں سے بنی چاے اَگر کسی ماہر کاری گر نے بنائی ہو اَور اِس کے دیگر لوازمات کھوپرا،کشمش ،اَلائچی و دار چینی ڈال کر خوب پکائی ہوئی تو مزہ دوبالاکردیتی ہے اَورساری تھکن دُور کردیتی ہے۔ہمارے بڑے بڑے ہوٹلوں پر بننے والی یہ چاے کہنے توکشمیری چائئے ہوتی ہے۔مگر حقیقت میں اُبلاہواسرخ پانی ہوتاہے۔
ہم سرکتے ،رستوں پر آگے بڑھ رہے تھے۔میرے قافلے کے لوگ پیچھے رہ گئے تھے۔جب مَیں نکل رہاتھاتو وہ سب بکرا پکوانے کے خواہش مند تھے۔باورچی اَور اِس کے معاون کو سمجھا رہے تھے کہ کیسے پکاناہے۔دَم پخت تو لازمی ہو وغیرہ وغیرہ۔
اَگرچہ صاف اصول تو یہ ہے کہ آپ باورچی کو بولیں کہ صاحب ہمیں یہ کھانا ،کھاناہے۔اَور وہ عملہ مقررہ وقت میں وہ شے مع لوازمات آپ کو پیش کردے۔آپ پہلانوالامنہ میں ڈالیں تو آنکھیں بند ہوجائیں اَور نوالا حلق سے اُترے تو واہ ۔۔۔مزہ آگیا۔منہ سے بے ساختہ نکلے۔مگر یہاں معاملہ اُلٹ ہے۔یہاں کاری گر ،کاری گر نہیں ہوتا۔حکمران ،حکمران نہیں ہوتا۔استاد ،اُستاد کم دھیاڑی دار زیادہ ہوتاہے۔یہاں ہر جگہ اَیسے ہی لوگ براجمان ہوٹل کھولے ،مزے کادم پخت ،کشمیری چائے فروخت کررہے ہیں۔جس کرسی پر آپ براجمان ہیں ۔اَگر اس کی صلاحیت آپ میں نہیں تو آپ نے اس پر ناجائزقبضہ کر رکھاہے۔بھلے آپ نے رٹ کر،پڑھ کر،یاپھر لکھ کر میرٹ میں پہلانمبر حاصل کر لیےہوں۔یہاں میرٹ نام کی چیز بھی خو د لاحق اَحتساب ہے۔چپراسیوں ،چوکیداروں ،ڈاکٹروں ،پروفیسروں سے لے کر ملک کے مقتدرطبقے تک ،اَکثر یت یہی میرٹ رکھتی ہے۔
جب اتنے بکھیڑے ہوں ،اس درجے کے میرٹ ہوں،اتنے ہی قابضین ہوں تو میرے قافلے کے لوگوں کو مجبوراً باورچیوں کو یوں نمک ،مرچ ،پانی ،آگ سے لے کر چولھابند ہونے تک کی ساری چیزوں کی تفصیل تمام درجوں تک دہرانا کچھ اَیسابھی بُرانہیں۔جب قومی واجتماعی اعتماد پر اس درجہ حملے ہورہے ہوں تو صرف آوارہ گردوں کایہ قافلہ کہاں تک صبر کرے گا۔
خیمہ بستی اَور اِک پاگل گڈریے کاپڑاو:
سیاحوں کے گھوڑے چھوٹے قد کے ہیں ۔ پڑاو کے اِردگر د بلندیوں اَور ڈھلانوں پر چرتے چھوٹے قد کے یہ گھوڑے اَور خیمہ بستی ،خان اعظم نام کے پاگل گڈریے کے پڑاو کامنظر پیش کررہے تھے۔وہ پاگل گڈریاجس نے اِنسانی سروں کے مینار بناے اَور اِنسانی کھوپڑیوں میں گھوڑی کے دُودھ کی بنی شراب سے خمار کے جام چڑھاے۔ پھر مست ہوا،مستی سے بدمستی تک اَور پھر اندھے جنون تک وہ اَیسے ہی بڑھتاگیا۔یہ بدمست سیلاب کسی سے روکے نہ رُکا۔بن ،صحرا،جنگل ،شہراَور تہذیبیں آن کی آن میں سرنگوں ہوتی گئیں ،کٹتی گئیں اَور مٹتی گئیں ۔پھریہ گڈریا بھی ایک دن مٹ گیا۔ہاں باقیات نے چنگیزیت نام پایا یہ نام آج بھی موجودہے۔
فطرت کے اَپنے اُصول ہیں ۔ورنہ اَیسے پربتوں اَور نخلستانوں میں ،جہاں آب شاریں نغمے سناتی ہیں،جھرنے گرتے ہیں ،برفیں خوش نمامنظر پیش کرتی ہیں ،خوش بوئیں اُڑتی پھرتی ہیں،سربہ فلک چوٹیاں چُپ ہیں اَور حیرت زدہ ہیں ۔خاموشیاں مراقب ہو کر بیٹھی ہیں۔یہاں اَیسے گڈریوں نے ٹھہر کر،رُک کراَور اَیسے نخلستانوں کودیکھ کر اَپنے آہنی خود اَور فولادی زریں اُتار کر پھینک کیوں نادیں ۔۔۔؟اَیسے خود جن میں فساد،جبر ،ظلم اَور اَنا بھری ہوئی تھی۔؟
خودمنظری کے مریض اَور مستیاں کرتے گھوڑے:
جھیل کی طرف اس وادی کے پالے ہوئے گھوڑے لے جاتے ہیں ۔نہیں تو آپ کو آہستہ آہستہ خود چڑھنا پڑتاہے۔کچھ گھوڑے مستیاں کررہے تھے اَور کچھ شرافت کی اَعلیٰ مثال بنے ہوئے تھے۔ایک گھوڑا بِدکا ۔۔۔۔۔پھر اُترائی میں پگڈنڈی پر ذرا بھاگا۔اُس پر دھان پان والی ،منوں وزن پالے خاتون پریشان ہوگئی۔اس پریشانی کااِظہار انھوں نے صرف آنکھیں بند کرکے اَور چیخیں مار کر کیا۔جب تک گھوڑابان نے اپنا شرارتی گھوڑاقابو میں کر لیا۔ان گھوڑوں پر سوار شہری بابو اَور بیبیاں سب خود منظری کے مریض تھے ۔وہ اپنے دستی فون مسالے کی ایک نفیس چھڑی پر جماے یہ سب روگی اپنی تصاویر بنانے میں مصروف تھے یاپھر ویڈیو بنانے میں۔پھولوں ،نخلستانوں،آب شاروں ،جھرنوں ،ڈھاروں اَور ان کے گرداگرد چرتے مویشیوں یاتو گھوڑابان دیکھتے ہیں یاپھر منزلیں مارتے ،دم ہلاتے اِن کے گھوڑے۔
پانی کے بدلتے رنگ:۔
جھیل سے قبل ہمارے بائیں جانب نیچے اک چھوٹی سی تالاب نما جھیل تھی۔اس کاپانی نیلگوں تھا ۔مرکزی جھیل کی نکاسی اک آب شار کی شکل میں بلندی سے لڑھکتی ہے تو ایک دم نیلاپانی دُودھ کی شکل اختیار کرتاہے۔ جب یہی دُودھ رنگ جھرنا زمین پہ آگرتاہے تو اک چھوٹاسانیلاگول آبی پیالاسبزہ زار اَور پھول زاروں کے درمیان بہت پیارالگتاہے۔پھر یہاں سے ایک ندی بنتی ہے ۔نیچے خیمہ بستی کے قریب ایک اَور ندی رتاسَر پہاڑ کی جانب سے آکر اس میں ملتی ہے۔دو دُودھ رنگ ندیاں یہاں ملن کرتی ہیں ۔پھر یہ ٹھنڈا دُودھ سفید آب شاروں میں ڈھلتاہوانیچے کی طرف لُڑھک جاتاہے۔
جاری ہے
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں