جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے روایت شکن اقدامات سے پہلے دو دن میں ہی تہلکا مچا دیا ہے ۔ انہوں نے کچھ ایسے کام کئے ہیں کہ جو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ مثلاً
1۔ وہ طمطراق سے پروٹوکول لیتے لگژری گاڑیوں کے دستے میں سفر کرنے کی بجائے عام کار پر دفتر پہنچے
2۔ وہ گارڈ آف آنر لینےجیسی فضول روایت کو توڑتے ہوئے سیدھے کام پر لگ گئے
3۔ دفتر پہنچ کر انہوں نے اپنے عملے سے کھڑے کھڑے دو چار باتیں کہ جو کئی گھنٹوں کی تقریروں سے بہتر تھیں انہوں نے کہا کہ یاد رکھیے کہ لوگ عدالت میں خوشی سے نہیں آتے اپنے مسائل لیکر آتے ہیں تو برائے کرم ان سے وہی سلوک کریں جو ایک میزبان ایک مہمان سے کرتا ہے
4۔ انہوں نے ملکی تاریخ میں پہلی بار فل کورٹ بنچ کی کاروائی برائے راست ٹی وی سکرینوں پر دکھانے کا بندوبست کیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ جن وکیلوں اور ججوں کو وہ بھاری رقوم دیتے ہیں وہ قانون اور آئین کے علم کے معاملے میں کتنے پانی میں ہیں
5۔ اس سے پہلے انہوں نےاپنا حلف اردو زبان میں اٹھایا اور عدالتی کاروائی کے دوران بھی وہ غلط انگریزی بولنے والے نالائق وکیلوں کا جواب اردو میں دیتے رہے
6۔ اپنی حلف برداری تقریب میں انہوں نے اپنی شریک حیات کو ساتھ کھڑا کیا جو اس وقت ان کے خلاف سازشوں میں بھی تنہا کھڑی تھیں جب ملک کا صدر وزیر اعظم اور دیگر ججز ان کو عدالتوں میں گھسیٹ رہے تھے ۔
6 -انہوں نے عدالتی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون جج کو عدالت عظمی کا رجسٹرا ر مقرر کیا
7۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ چیف جسٹس کہلوانے کی بجائے صرف جسٹس قاضی فائز عیسی کہلوانا پسند کریں گے

ان کے یہ تمام اقدامات واقعی قابل تحسین ہیں اور ہر کوئی ان کی تعریف کر رہا ہے ۔ وہ ایسی تاریخ رقم کر رہے ہیں جو آنے والوں کے لئے مشعل راہ ہوگی ۔ لیکن ان کے ان اقدامات کاعوام کو حقیقی فائدہ اس وقت پہنچے گا جب وہ اس میدان میں کارکردگی دکھائیں گے جو ان کی ڈیوٹی ہے ۔ ملک میں اس وقت ستاون ہزار سے زیادہ کیسز التوا کا شکار ہیں ۔ ملک میں قانون اور انصاف کی حالت یہ ہے کہ ایک والد کو ایک بچے کے بستر مرگ سے بھی دور رکھا گیا اور اس کی تدفین کے وقت بھی پولیس والا اس کے سر پر کھڑا تھا ۔ ملک میں عام نوعیت کی قانونی خلاف ورز ی تو ایک طرف الیکشن تک بھی آئینی مدت میں ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ۔ اس وقت تمام قوم کی نظریں چیف جسٹس صاحب کی جانب لگی ہوئی ہیں اگر تو وہ پاکستان عدالتوں کا دنیا بھر میں امیج بہتر بنانے اور کیسز کو جلد نپٹانے اور جلد انصاف پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو تاریخ میں اپنا نام بنا جائیں گے ورنہ جہاں تک بات ہے ڈراموں کی تو پاکستان میں ایک ایسا ڈرامہ باز جج بھی آیا ہے جو کہتا تھا کہ وہ ڈیم کنارے جھونپڑی بنا کر اس کا پہرہ دے گا ۔ قوم آپ سے کسی ڈیم بنانے کی توقع نہیں رکھتی بس انصاف دے دیجیئے آپ کا اقبال بلند ہوگا ۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں