ناسا نے سیارچے بینو کی مٹی کا سب سے بڑا نمونہ حاصل کر لیا ہے اور یہ خلائی مشنز میں اب تک اپنی نوعیت کا تاریخ ساز لمحہ ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے زمین کے قریب دریافت ہونے والے کاربن سے مالا مال سیارچے بینو کی زمین سے مِٹی کا اب تک کا سب سے بڑا نمونہ حاصل کر لیا ہے اور یہ مشن نظام شمسی کے باہر سے شہاب ثاقب کے نمونے لے کر کامیابی سے زمین پر واپس اتر گیا ہے۔
ناسا کا خلائی کیپسول سیارچے سے 250 گرام مٹی کا نمونہ لے کر 3 ارب 86 کروڑ میل کا فاصلہ طے کر کے امریکی ریاست یوٹاوہ کے صحرامیں اُترا۔ ان نمونوں سے سائنسدانوں کو نظام شمسی کی تشکیل اور زمین کی ابتدا کے بارے میں اہم معلومات ملنے کی امید ہے۔
ناسا نے سیارچے بینو کی مٹی کا نمونہ حاصل کرنے کا مشن سات سال پہلے لانچ کیا تھا، زمین کےقریب کاربن سے بھرپور سیارچہ بینو 1999 میں دریافت ہوا تھا، 1600 فٹ کا یہ سیارچہ ہر 6 سال بعد زمین کے قریب سے گزرتا ہے۔
اس سے پہلے جاپان کا خلائی مشن بھی دو بار سیارچے سے مٹی کے نمونے لے کر آیا ہے لیکن ان کی مقدار اس سے کہیں کم ہے۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں