سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے حالیہ پوڈکاسٹ میں اداکارہ ہاجرہ خان پانیزئی نے اشارۃ سابق وزیر اعظم عمران خان پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو ذاتی زندگی کے دائرے میں آکر جاننا ایک سیاہ تجربہ تھا۔ انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے لڑکیوں کی پارٹیوں اور مبینہ طور پر عمران خان کی جانب سے انکا پیچھا کئے جانے کے حوالے سے بھی انکشافات کیئے۔
تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اندر کے غصے اور غبار کو کہیں نکالنا چاہتی تھیں تب انہیں احساس ہوا کہ انہیں کتاب لکھنی چاہئیے۔ میری سوانح حیات عام لوگوں کے لیے ایک دلچسپ کہانی ہے کیونکہ میں ایک عام لڑکی تھی جو کوئٹہ سے آئی۔ میرے ماں باپ بھی عام سے لوگ تھے۔ میرا شوبز میں کام کرنا، پارٹیوں میں جانا، وہاں پر کسی بہت معروف شخصیت سے ملاقات ہونا اور پھر اس انسان کی جانب سے آپ کا پیچھا کیا جانا، یہ سب میرے تجربات تھے۔
ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا کہ آپ ہی مشہور لوگوں کے پیچھے پڑے ہوں۔ ہر کوئی ایسا نہیں ہوتا۔ میں کرکٹ کی شوقین تھی اور نا ہی سیاست سے کوئی لگاؤ تھا۔ لیکن ظاہر ہے کچھ لوگ ‘قومی ہیرو’ ہوتے ہیں تو آپ ان کی عزت کرتے ہیں۔ اس وقت عمران خان پاکستان کے معروف کرکٹر تھے اور انہوں نے سیاست میں ایک چھوٹے سے پریشر گروپ کی حیثیت سے آغاز کیا تھا۔ تب وہ اتنے بڑے سیاست دان نہیں تھے۔ اب تو وہ ایک سابق وزیراعظم بھی ہیں۔ غالباً یہ 2011 کی بات ہے۔ اداکارہ نے بتایا کہ عمران خان کو اس وقت جاننے کی وجہ سے میرا کیریئر بہت زیادہ مشکلات سے دوچار ہوا۔ بعد ازاں جب کتاب شائع ہوئی تو اس سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اداکارہ نے کہا کہ ہمیں کسی کی نجی زندگی کے بارے میں تب تک علم نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہم اس کو ذاتی طور پر جانتے نہ ہوں۔ یہ میرا ایک بہت ہی سیاہ اور خوفناک تجربہ تھا۔ عمران خان کو جاننا میرے لیے مشکلات کا سبب بنا۔ جب میں واپس آئی تو اس کے لوگوں نے میرے سوشل میڈیا کو ہیک کیا۔ میں نے چونکہ اس کے بارے میں کتاب میں بتایا تھا تو قانونی طور پر مجھے اس بتانے کے لیے ای میل کرنی پڑی۔ میری کتاب کی کتنی کاپیاں فروخت ہوئیں یا کس کس جگہ پر وہ دستیاب تھی مجھے علم نہیں ہو سکا کیوںکہ میرا ای میل بھی ہیک کیا گیا اور میں دوبارہ اس ایجنسی سے رابطہ بحال نہیں کر سکی۔ پھر انہوں نے بھی کتاب کو ڈراپ کر دیا کیونکہ اس وقت وہ بھی ان کے لیے ٹھیک نہیں تھی۔میری حقیقت اور تجربات تھے۔ جتنا مجھے فلمسازی اور اداکاری کا شوق تھا اتنا ہی دور ہٹنا پڑا۔ پھر میڈیا کے لوگ ایسے ہیں کہ ان کی صرف لابنگ نہیں بلکہ گروہ ہیں جو پارٹیوں میں لڑکیوں کو بلواتے ہیں۔ ایلیٹ سرکل میں یہ بہت عام سی بات ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ کتاب میں بتایا ہے کہ جب آپ ایسی پارٹی میں جائیں اور کوئی ‘قومی ہیرو’ یا کوئی معروف شخص آپ کا تعاقب کرے تب لگتا ہے کہ واہ کیا بات ہے۔ لیکن پھر جب آپ اس انسان کو ذاتی طور پر جاننے لگتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کتنی بدقسمتی ہے۔ اس کتاب میں میری زندگی کی پوری حقیقت اور تجربات لکھے ہیں جنہوں نے مجھے توڑا اور بنایا۔ اس کے بعد میری سوشل میڈیا پر ٹرولنگ ہوئی۔ جس طرح پی ٹی آئی کی ایک فاشسٹ حکومت تھی تو یہ لوگ بہت سرگرم تھے۔ میڈیا میں بھی اکثریت اس کی پارٹی اور حکومت کے حمایتی تھے۔ ڈر تو ہمیشہ لگتا ہے کہ کوئی آپ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تب میرے والد بھی زندہ تھے اور پی ٹی آئی کا حصہ تھے جن کا تعارف بدقسمتی سے میں نے ہی کروایا تھا
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں