کچھ تو احساسِ زیاں کرلیں /شہزاد ملک

قطع نظر اس کے کہ قصور کس کا ہے اس وقت ملکی معاشی حالات جس تباہی سے دوچار ہیں ان کی بحالی کے لئے حکومت کے ساتھ عوام کو بھی کوشش کرنی چاہیے جو قومیں دنیا میں باعزت ہو کر جینا چاہتی ہیں وہ اس مقام تک پہنچنے کے لئے اجتماعی جد و جہد کرتی ہیں اور بالآخر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہیں ماضی میں دو عالمگیر جنگوں میں جاپان سمیت یورپ بری طرح تباہ ہوا تھا لیکن ان کی حکومتوں اور عوام نے مل کر اپنے ملکوں کو اس تباہی سے نکال کر جس طرح ترقی کے راستے پر ڈالا یہ تاریخ کا حصہ ہے اور دنیا کے لئے قابل تقلید بھی ہے۔

ہمارے ہاں الٹا حساب ہے ہم بہت کاہل سست اور سہل پسند قوم ہیں اللہ نے اس خطے کو ہر قسم کے وسائل سے نوازا ہے لیکن ہماری حکومتوں سمیت عوام نے ان قدرتی وسائل کو ترقی دے کر آمدنی کا ذریعہ بنانے کی بجائے ان سے اغماض برتا اور قرضوں کی معیشت کو فروغ دے کر ہر چھوٹی بڑی چیز درآمد کرنے کی آسان پالیسی اپنالی جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ملکی وسائل نظر انداز کرنے سے وہ بے ثمر ہوکر رہ گئے ہماری معیشت زرعی تھی جس کی وجہ سے ہم خوراک میں خود کفیل تھے کپاس نہ صرف ہماری ملکی ضروریات پوری کرتی تھی بلکہ ہم اسے برآمد کرکے زرمبادلہ بھی کماتے تھے زراعت کو جدید خطوط پر ترقی دے کر اپنی ملکی آمدنی بڑھانے کی بجائے ہم نے کھیتوں میں محنت چھوڑ کر خوراک سمیت ہر چھوٹی بڑی چیز درآمد کرکے زرمبادلہ ان پر خرچ کرنا شروع کردیا اس درآمدی پالیسی نے ہماری معیشت کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور قرضوں کی دلدل میں ہم گردن تک دھنس چکے ہیں سال ہا سال سے اسی ڈنگ ٹپاؤ روش پر چلنے کا نتیجہ موجودہ خوفناک مہنگائی کی شکل میں بر آمد ہورہا ہے اب بھی ہم سبق سیکھ کر اصلاح احوال کی کوشش کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے دست بگریباں ہیں ایک دوسرے پر دشنام طرازی انتہا تک پہنچی ہوئی ہے اور اقتدار کی کشمکش میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ آنے والے وقت کی سختیوں کا اندازہ نہیں کرپا رہے بجائے اس قیامت کے مقابلے کی تیاری کرنے کے ہم آنکھیں بند کئے اس کے منتظر ہیں اہل ثروت کو اس کڑے وقت میں پیارے نبی کے زمانے کا عہد مواخات یاد رکھنا چاہیے جب انصار مدینہ نے بے سرو سامان مہاجرین مکہ کو اپنے بھائی بنا کر ان کی مدد کی تھی اتنا نہ سہی ہم اپنی بساط کے مطابق کچھ تو اس جیسا کر سکتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن پر اللہ تعالی کی خاص رحمت ہے وہ کاروباری ہیں ملازمت پیشہ ہیں زمیندار ہیں یا صنعت کار ہیں ان کے پاس دفاتر میں یا گھروں میں کئی کئی ملازمین کام کرتے ہیں اگر ہم تھوڑا احساس کرتے ہوئے ان ملازمین کے مالی حالات سے آگاہی حاصل کرکے ان میں سے مستحق لوگوں کی مالی ضروریات میں مکمل نہیں تو جزوی طور پر کچھ معاونت کردیا کریں تو ان کے لئے حالات کی سختی سے نمٹنا اتنا مشکل نہ رہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں اور ان کی مالی حالت سے کسی حد تک ہم آگاہ بھی ہوتے ہیں یہ خود ستائی نہ سمجھی جائے تو مثال ہے کہ ہمارے پاس تین مستقل ملازم ہیں ان میں سے جس کو اپنی کمائی سے ذیادہ کوئی ضرورت درپیش ہوتی ہے تو ہم اس کی مدد کر دیتے ہیں رقم اگر ہماری بساط کے مطابق ہو تو ہم اس سے واپس نہیں لیتے ذیادہ ہو تو دو تین قسطوں میں لے لیتے ہیں اس میں سے مناسب رقم معاف کر دیتے ہیں مثلاً ملازمہ کے گھر کی چھت تبدیل کرنے میں دوسری ملازمہ کے چار سکول جانے والے بچوں کی سالانہ کتابوں اور دوسرے اخراجات میں ڈرائیور کو سال بھر کی گندم خریدنے میں اور مالی کو گھاس کٹائی کی مشین لینے میں مدد کرنے سے ان کو آسانی ہو جاتی ہے اور ہمیں ان کی دعائیں ملتی ہیں صاحب خود ملازمت کرتے ہیں انہوں نے دفتر میں ایک مخصوص رقم کا فنڈ رکھا ہوا ہے جس میں سے دفتر کا چھوٹا عملہ اپنی کسی فوری ضرورت کے لئے کچھ رقم لے لیتا ہے اور مناسب وقت میں واپس کردیتا ہے تاکہ کسی اور کی ضرورت پوری ہو سکے یہ رقم ہر وقت گردش میں رہتی ہے کوئی پیسے لے رہا ہوتا ہے کوئی واپس لوٹا رہا ہوتا ہے اس طرح ان لوگوں کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے اور ہم پر کوئی بوجھ بھی نہیں ہوتا ،کورونا کے دوران یہ طریقۂ کار بہت کار آمد رہا، طبقۂ امراء  اگر کم وسیلہ لوگوں کو سہارا دیں تو برا وقت کاٹنے میں آسانی ہوجائے گی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply