بہتی ندی مذہب کی اصطلاح میں پاک بھی ہوتی ہے اور صاف بھی۔۔ چاہے اس میں گند کی آمیزش ہی کیوں نہ ہو جائے۔ کچھ دور جا کر صاف ہو جاتی ہے۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی اسپائیرل حرکت کرتا ہے۔ یعنی سطح سے نیچے اور پھر کسی اسپرنگ کے بل کی طرح تہہ کو چھو کر واپس اوپر نکل آتا ہے۔ لہذا جو بھی کثافت ہو وہ نیچے رہ جاتی ہے۔ جس طرح اسپرنگ کا ہر بل دوسرے بل سے مشابہت تو رکھتا ہے مگر اس جیسا نہیں ہوتا اسی طرح بہتا پانی سطح سے جب تہہ تک جا کر دوبارہ سطح پر آتا ہے تو وہ پہلے جیسا نہیں ہوتا ۔ ہر منٹ ،ہر لمحہ اور ہر انچ پر وہ پرانا پانی نئے پانی میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔اس کے اندر صفائی اور نیا پن آچکا ہوتا ہے اور یہ سب اتنی تیزی سے ہو رہا ہے کہ ہمیں پانی کی سطح ہموار محسوس ہوتی ہے۔ اسے آپ قدرتی ری سا ئیکلنگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ فلسفہ انسانی زندگی کی مثال بہتی ندی سے دیتا ہے کہ 5منٹ قبل انسانی زندگی کی ندی جو تھی پانچ منٹ بعد وہ نہیں رہے گی۔ اور یہ گزرے ہوئے 5 منٹ دوبارہ زندگی میں کبھی نہیں آئیں گے۔ جیسے ندی جب کسی پہاڑی سے رواں ہوئی تو اس کے پانی کا ریلا جو میدان میں آگیا وہ دوبارہ کبھی بھی ان پہاڑیوں کا حصہ نہیں بن سکے گا اور پہاڑی بندے اس ندی کو ایک شور شرابہ کرنے والی ،پتھروں سے سر پٹخنے والی بپھری ہوئی الھڑ نوجوان جیسی سمجھیں گے جو تنگ سیلابی راستوں سے بمشکل نکل رہی ہو گی جبکہ جوں جوں یہ ندی میدان کے قریب ہوتی جائے گی شور اور بہاؤ میں سکون اور سنجیدگی ،گہرائی اور پھیلاؤ آتا جائے گا۔ نوجوان بپھری پہاڑی ندی میں اگر گندگی ڈالی جائے تو اپنی تیزی کے باعث فوری اسے تہہ میں ڈال کر آگے بڑھ جائے گی، جبکہ جوں جوں اس کا بہاؤ میدان میں آہستہ ہو گا، اس میں گندگی اور نجاست کے آثار زیادہ رہیں گے تاہم بہتی ہوئی یہ ندی پاک پھر بھی ہو گی کیونکہ وہ اپنی نجاست اور غلاظت کو تہہ میں ماضی میں چھوڑ کر دوبارہ تر وتازہ سطح آب پر نکل آئے گی۔۔ اور یہ عمل تب تک جاری رہے گا جب تک پانی کھڑا نہیں ہو جاتا۔۔ اب اس میں زہریلے مادے تہہ سے آہستہ آہستہ پورے پانی کا مزہ ،بو اور رنگ تبدیل کر دیں گے اب یہ کھڑا پانی اپنی غلاظت اور گند کو اگر تہہ میں ڈال بھی دے تو اسے ری سائیکل نہیں کر سکتا لہذا یہ اس ندی کی موت ہے۔ اس تمام عمل کو کوئی چیز واپس ماضی میں نہیں لے جا سکتی سوائے وقت کے ۔۔ اگر کسی ندی دریا میں 5 بجکر 40 منٹ پر نجاست پھینکی گئی اور 5 بجکر 45 منٹ پر وہ تہہ میں چلی گئی تو یہ وقت کے پانچ منٹ اس کے گواہ ہوں گے۔۔
بس اسی طرح انسان ہے ۔ جب وہ کوئی گناہ،کوئی اچھائی کوئی کام کرتا ہے جتنی دیر وہ عمل کر رہا ہے صرف وقت اس کا گواہ ہے کیونکہ اس عمل کے بعد وہ انسان وہ نہیں رہا جو اس عمل کے دوران تھا اور نہ ہی واپس جا کر وہ اس عمل میں کوئی تبدیلی کر سکتا ہے۔ اس کا ریکارڈ ٹائم کے ساتھ ہی جائے گا۔۔ جو بوقت ضرورت اسے دکھا کر نادم یا خوش کیا جا سکتا ہے۔۔ بالکل اسی طرح جس طرح آجکل خفیہ ویڈیوز ریکارڈ کر کے بعد میں بلیک میل کرنے کے کام آتی ہیں، کوئی شخص اس کئے ہوئے عمل کو ماضی میں جا کر ٹھیک نہیں کر سکتا Undoنہیں کر سکتا۔ اسی طرح جب انسان گناہ کرتا ہے بالکل ندی کی طرح وہ اس کی بنیاد میں محفوظ ہو جاتا ہے اور اس گناہ ،چوری ،رشوت کے بعد کا نیا لمحہ نیا انسان بنا کر دنیا میں پیش کرتا ہے۔
اسی لئے جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس لمحے میں اس کا ایمان اس سے نکل کر آسمان میں معلق ہو جاتا ہے۔۔
سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زنا کرنے والا زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا چوری کے وقت مومن نہیں رہتا ہے اور شراب خور شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا ہے اور دوسرے کا مال لوٹنے والا مومن نہیں رہتا ہے کہ لوٹنے کے وقت لوگ اپنی آنکھیں اٹھا کر اس کو دیکھتے ہوں اور خیانت کرنے والا خیانت کے وقت مومن نہیں رہتا ہے۔ تم ان باتوں سے بچو۔“ ( مشکوات، مسلم ،بخاری)
یہ اس لئے ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں اچھائی اور برائی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ چونکہ گناہ وہ مکمل انہماک اور سوچ سے کرتا ہے تو اس وقت اس کا ایمان منجمد ہو جاتا ہے۔ اور یہ وقت میں محفوظ ہو جائے گا ۔ اب اگر یہ آدھ گھنٹہ ہے ،24 گھنٹے ہیں یا سال یہ وقت ہمارے نامہ اعمال میں محفوظ ہو گیا ۔ اور ہماری زندگی کے ان لمحوں کی تہہ میں بیٹھ گیا۔
لیکن رحمت العالمین کریمﷺکے صدقے جائیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ گناہ کے بعد نیکی ضرور کر لیا کرو وہ گناہ کو مٹا دیتی ہے۔۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ آپ مجھے کوئی خصوصی وصیت کیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم سے کوئی گناہ کا کام ہوجائے تو اس کے بعد کوئی نیک کام کردو ، نیک کام اس گناہ کے اثر کو مٹا دے گا ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ” لاالہ الا اللہ ” نیکی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ یہ تو سب سے افضل نیکی ہے { احمد :5/169 }
اس حدیث پاک میں جو رحمت کا تذکرہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب انسانی زندگی کی بہتی ندی میں وہ وقت نکالا جائے گا جس میں گناہ ہے تو اس کے فوری بعد وہ وقت بھی آجائے گا جس میں نیکی ہو گی اور یہ کریم کی شان ہے کہ جب وہ پکڑ لیتا ہے تو معاف کر دیتا ہے اگر کوئی اس سے معافی مانگنے والا ہو اور وہ پچھلی فائل جو گناہ کی تھی اسے بھی نیکی کی فائل سے تبدیل فرما کر اسے بھی نیکی میں شمار کرتا ہے۔
ترجمہ؛ مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائےاور اچھا کام کرےتو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا۔( الفرقان )
شرط صرف وفا داری ہے کہ بندے کو معلوم ہو کہ غلطی ہوئی، اب اتنی ہی دیر ندامت بھی رہے ،ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جب گناہ کر رہے ہوں تب بھی تسبیح پڑھ رہے ہوتے ہیں جبکہ یہ گناہ کے اوپر ایک اور گناہ ہے کیونکہ اس وقت صرف زبان ہلتی ہے، دماغ ،دل اور جسم مکمل طور پر گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ جتنے انہماک سے ہم گناہ کرتے ہیں کہ جسم کا ایک ایک حصہ ہمارے اس وقت اسی گناہ کی لذت میں ڈوبا ہوتا ہے۔ کاش اس کے بعد اپنی بہتی ندی میں اتنے ہی انہماک سے معذرت و معافی بھی مانگیں اور جسم کے تمام اعضاء بھی بوقت معذرت اظہار معذرت کر رہے ہوں ۔ یہ وقت محفوظ رہے گا۔ زندگی کی ندی بہتی رہنی چاہیے کھڑا پانی بدبودار ہوتا ہے اسی طرح اپنی ضد پر اَڑا بندہ بھی بدبودار ہو جاتا ہے ۔جہاں انسان کی زندگی کی بہتی ندی پر گزرے زمانوں کا حساب ہو گا وہاں سیاہ لمحوں کے ساتھ اگر کچھ موتی بھی ملے، تو یقین کریں اللہ ایسے بندے کے موتیوں کو دنیا کے لئے بھی خوشنما فرما دیں گے اور آخرت میں تو ہم انشاءاللہ دو کریموں کے درمیان ہوں گے۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر.») ضرور بیان کرتے۔( بخاری و دیگر)
وفاداری بشرطِ استواری‘ اصلِ ایماں ہے
مَرے بت خانہ میں‘ تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں