ذرا سوچیں، جب آپ کو یہ پتا چلے کہ پاکستان کی سیاست میں 44 سال سے سرگرم ایک جمہوریت پسند سیاست دان جو پاکستان کی طاقتور پیر جاگیردار اشرافیہ کا ممتاز رکن ہو اور وہ 85ء سے قومی اسمبلی کا رکن چلا آ رہا ہو(اگرچہ درمیان میں وہ 5 سال کے لیے نااہل قرار پایا ہو اور اگلے پانچ سال وہ اسمبلی میں نہ جا سکا ہو اور اسے مینج کرکے ہرا دیا گیا ہو) اور جب اگلی بار پھر انتخابی دنگل ہو اور اسے جیتنے کے لیے ایک ڈپٹی کمشنر کا مرہون منت ہونا پڑے اور پھر اپنی جگہ اپنے بیٹے کو جتوانے کے لیے رات کے بارہ بجے اسے دوبارہ ڈپٹی کمشنر کی منت کرنی پڑے تو آپ کا انتخابی سسٹم پر (اس کی تمام تر بورژوائی حدود میں جو ظاہر ہے میرے بلند ترین سوشلسٹ آدرش سے کہیں پست ترین درجہ ہے) کتنا یقین باقی رہ جائے گا؟ یہ ایک ایسے سیاست دان کی کہانی ہے جو قومی سطح کا سیاست دان سمجھا جاتا ہے اور جمہوری سیاست کی درجہ بندی میں اسے پہلی صف کا سیاست دان مانا جاتا ہے۔
جب ایک ڈپٹی کمشنر یہ دعوا کرے کہ اس جمہوری سیاست دان کے بیٹے کو کتنی لیڈ سے جتوانا ہے یہ انہوں نے پہلے سے طے کر رکھا تھا تو آپ کے دماغ میں کیسی کھلبلی مچے گی ؟
انتخابی حلقہ جس میں جیت پر ہی کسی بھی جمہوری سیاست دان کی سیاست کا دارومدار ہوتا ہے اسے اپنے عمومی جمہوری آدرشوں سے کتنا دور لا پھینکتا ہے؟ اس کا احساس بھی مجھے شدت سے ہوتا رہا۔
میں نے جرمنی کے معروف فکشن نگار کنٹر گراس کا ایک انٹرویو سنا تھا جس میں اس نے لکھا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اسے احساس ہوا کہ اگر وہ مابعد جنگ ادب کی دنیا میں زندہ رہنا چاہتا ہے تو اسے Written on the wall کی بجائے Writing against the wallپر عمل پیرا ہونا ہوگا ۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایک جمہوری عملیت پسندی سیاست کو سیاست کے مرکزی بورژوازی دھارے میں رہنے کے لیے نوشتہ دیوار جو ہوتا ہے اس کے مطابق چلنا ہوتا ہے وگرنہ وہ ہمیشہ کے لیے سیاست سے باہر کردیا جاتا ہے ۔ یہاں پر میرے ذہن میں فوری ایک اور سوال آیا کہ کیا ایک صحافی کو بھی عملیت پسندی کے اسی سیاسی ڈسکورس کو اختیار کرنا چاہیے؟ میرے دل و دماغ نے فوری طور پر اس کی نفی کی ۔ اس نفی نے مجھے اکسایا کہ میں اپنے پڑھنے والوں کو یہ بتاؤں کہ ایک طبقاتی سماج اور اس سماج کو کنٹرول کرنے والی سیکورٹی ریاست میں حکمران طبقات سے تعلق رکھنے والوں کے جمہوری آدرش کس بری طرح سے ان کے طبقاتی کردار کے مقابلے میں پامال ہوتے ہیں اور جب کبھی ان کے طبقاتی مفاد اور جمہوری آدرش میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے تو وہ کیسے اپنے طبقاتی مفاد کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
ایک وقت وہ تھا جب ہمارا زیر بحث جمہوریت پسند پیر جاگیردار سیاست دان اسمبلی کے فلور پر اس ریاست کا انتظامی سربراہ ہوتے ہوئے سیکورٹی اسٹبلشمنٹ کو ریاست اندر ریاست قائم کرنے پر للکار رہا تھا ( چاہے اس کی انقلابی لفاظی محض زبانی کلامی ہی کیوں نہ تھی ) اور ہم اس کی اس ادا پر صدقے واری ہو رہے تھے ۔ لیکن اب وہ وقت ہے کہ وہ اپنے انتخابی حلقے کو محفوظ کرنے کے لیے ایک ڈپٹی کمشنر کے منت ترلے کر رہا تھا ۔ اتنی بلندی سے اسقدر پستی کا یہ سفر اسے اس لیے طے کرنا پڑا کہ اس کے انتخابی حلقے میں وہ نوجوان ووٹرز کے شعور کی رو کو اپنے حق میں کرنے سے محروم رہا کیونکہ گزشتہ پندرہ سالوں میں اس کے حلقے کے نوجوان ووٹر اس سے جس سطح کی ریڈیکل جمہوری سیاست کی توقع کرتے تھے وہ، اس کو اختیار کرنے سے قاصر رہا ۔ کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ اس کے حلقے کے نوجوان ووٹرز نے اس کے مقابلے میں جس کو ترجیح دی ، کیا وہ ریڈیکل جمہوریت پسندانہ ڈسکورس پر چل رہا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں ۔ کیا اس نوجوان ووٹر گروہ کو کسی انقلابی شعور کے حامل کیڈرز نے ون کرلیا تھا؟ اس کا جواب بھی نفی میں ہے ۔ نوجوان ووٹروں نے اس کے مدمقابل جسے اپنی حمایت سے نوازا ایک ایسے لیڈر کے زیر سایہ ہے جس نے اس سارے نظام کے گند کو بیچ بازار میں لا کر پھینک دیا ہے کیونکہ اس نظام نے اسے Selected blue۔eyedسےDe۔selected persecuted بنا ڈالا اور اس نے کہا ” ہم تو تباہ ہوئے ہیں پلے اس سسٹم کے سلیکٹرز کے بھی کچھ نہیں چھوڑیں گے ” ۔ نوجوانوں کو اس متروک کردیے گئے اور مقتدر سسٹم باہر سب سے زیادہ معتوب و مقہور کردیے گئے شخص کی تخریب محض کی ادا بھا گئی اور وہ اس سسٹم کے سب سے غلیظ اور مکروہ ترین مگر سب سے طاقتور دھڑے کو للکارنے اور اسے الف ننگا کرنے کی ادا کے اسیر ہیں ۔
مقتدر سسٹم کا سب سے غلیظ،مکروہ، گندا اور طاقتور ترین دھڑا ماضی میں ایسے باغیوں کا سامنا کرتا تھا جو جمہوری اور ترقی پسند شعور اور بیانیے کے سب سے بلند ترین درجے پر فائز ہوا کرتے تھے اور ان کے جمہوری کریڈٹ میں بہت کچھ ہوا کرتا تھا ۔ ان باغیوں کو اس وقت کے بہترین شاعروں، ادیبوں ، دانشوروں اور صحافیوں کی پیروی ملتی تھی ۔ اس مرتبہ ایسا نہیں ہے ۔
اس وقت جو باغی سورما کا کاسٹیوم پہن کر مقتدر سسٹم کے سب سے طاقتور دھڑے کو للکار رہا ہے اسے شاعروں میں نہ تو فیض، جالب ، نسرین انجم بھٹی ،شیخ ایاز کی روش پر چلنے والوں کی حمایت حاصل ہے ، نہ اسے محمود علی قصوری، عاصمہ جہانگیر کی روایت کے پیروکار انسانی حقوق کے کارکنوں کی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی نثار عثمانی ، منہاج برنا ، عبدالحمید چھاپرا، رحمت شاہ آفریدی، مظہر علی خان، ناصر زیدی ، حسین نقی ، تفضل مانک جیسے صحافیوں کے راستے پر چلنے والوں کی حمایت حاصل ہے ۔ نہ ہی اس کی حمایت میں امروز ، مساوات ، ویو پوائنٹ، الفتح جیسے اخبارات و رسائل سے بننے والی صحافتی روایت کی حمایت حاصل ہے۔ دیکھا جائے تو آج کی لبرل اور سنٹر لیفٹ کی باقیات تو اس باغی اور اس کے پیروکاروں کے مبینہ کلٹ کو ایک حافظ کے قہر و غضب سے تباہ ہوتے دیکھنے کی شدید آرزو میں مبتلا ہیں جو اس غلیظ ،مکروہ اور طاقتور ترین دھڑے کی سربراہی کر رہا ہے جسے نوجوان نسل سب سے زیادہ قابل نفرت گردانتے ہیں اور جو سیاست دان اس قابل نفرت دھڑے کو دستیاب اسپیس کے نام پر گلے سے لگاتا ہے وہ اسے بھی قابل نفرت سمجھتے ہیں ۔ آپ اس باغی کی بغاوت کے اظہار کو لاکھ ڈرامہ، ڈھونگ، سوانگ قرار دیں اور اس کی فسطائیت پر لاکھوں دلائل دے ڈالیں وہ اسے پرکاہ برابر بھی اہمیت نہیں دیتے کیونکہ آپ کے جو ممدوح سیاست دان ہیں وہ بغاوت اور مزاحمت کے ڈسکورس پر اپنے طبقاتی مفاد کو سب سے مقدم جانتے ہیں اور اس نے لبرل اور سنٹر لیفٹ سیاست کو ایک تعفن زدہ جوہڑ میں بدل دیا ہے جس میں نوجوانوں کو کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی ۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں