اٹھارویں آئینی ترمیم اور اس سے پیشتر ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو کوئی چودہ پندرہ برس ہو چکے اور اس کے نتیجے میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہوئی ہیں، مگر اس ترمیم کے ایک حصّے کا major side effect یعنی وسائل کے حصول اور تقسیم میں موجود rigidity اب ہمیں وہاں لے آئی ہے کہ وفاقی حکومت پہلے دن سے اپنے اخراجات اپنے وسائل سے پورے کرنے سے قاصر ہے اور اس کام کے لئے قرض لینے کا سلسلہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے اور یہی عالم رہا تو آئیندہ چند سال میں وفاق خدانخواستہ insolvent بھی ہو سکتا ہے ۔
2010 سے لے کر آج تک وفاقی قرض کی بڑھوتری کا جو منظر نامہ گراف میں عیاں ہے اس سے یہ بات واضح ہے کہ وسائل کی تقسیم کا موجودہ نظام ، وسائل کے حصول کے موجودہ طریقہ کار سے اب زیادہ دیر چلنا ممکن نہیں ۔ یہ ضرور ہے کہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں اس انتظام کو بدلنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں، مگر اس سال کا اکنامک سروے جو تصویر دکھا رہا ہے وہ سمجھدار لوگوں کے لئے خاصا خوفناک ہے ۔ تازہ ترین اقتصادی سروے کے باب نمبر 9 میں موجود اس چارٹ (9.1) میں 2010 سے پہلے اور بعد کے حالات دیکھیں تو صورت احوال کافی واضح ہے ۔ 2010 سے پہلے کے بندوبست میں وفاقی حکومت اپنے پیر پر کھڑی تھی اور اس کے بعد قرض خواہوں کی بیساکھیوں پر ۔
مری مراد یہ ہے کہ وفاق کو این ایف سی کے ذریعے اس سال ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن میں اگلے مالی سال میں جون تک کل 9،119 ارب روپے ملنے کی امید ہے اور اکیلے قرض کی سروس کے خرچ کا تخمینہ 9،775 ارب روپے ہونے کا امکان ہے ( اصل خرچ پچھلے سال کی طرح اس سے ایک آدھ کھرب زیادہ بھی ہو سکتا ہے ) جو کہ آمدن سے 56 ارب روپے کم ہے یعنی قرض ادا کرنے کو بھی قرض لینا پڑے گا ۔ گویا پچھلے کئی سال سے وفاقی حکومت کے پاس اتنی رقم / وسائل بھی نہیں ہوتے کہ وہ سود اور قرض کی ادائیگی کر سکے ۔
آئین کے تحت کم از کم ملکی دفاع ، قومی شاہراہیں ، ریلوے ، بجلی ، گیس اور پٹرولیم کی ترسیل ، درآمد/ برآمد ، ٹیکسوں کی وصولی، کرنسی ، مالیاتی ادارے ، جہاز رانی ، ہوا بازی ، خلائی پروگرام ، نادرا، پاسپورٹ، وفاقی سروسز ، عدالتیں ، انشورنس ، سٹاک ایکسچینج ، بین الاقوامی معاہدات ، پارلیمنٹ ، الیکشن کمیشن ، ریگولیٹری اتھارٹیز ، مردم شماری ، بین الصوبائی کوآرڈینیشن / تجارت اور دوائیوں کا سینڈرڈ/ قیمت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری ادا کرنے کا خرچ کا تخمینہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں 9،102 ارب روپے ہے ۔
اس سارے معاملے سے وہ خرچ نکال بھی دیں جو وفاقی حکومت انکم سپورٹ ، صوبائی ترقیاتی پروگراموں میں حصہ داری اور عوامی سہولیات ( یوٹیلیٹی سٹور ، بجلی گیس کھاد کی سبسڈی ، گندم / چینی / کھاد کی درآمد وغیرہ) – جو اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داری ہیں تو بھی اس خرچ میں کل 1400 ارب روپے سے کم ہو گا ۔
وفاقی ملازمین کی تنخواہ کم کرکے ، نوکری سے نکال کر بھی سو ارب روپے اور بچ جائیں گے مگر سوال وہی کہ 18،877 ارب کی بجائے 17،377 ارب کا خرچ رہ جائے گا اور آمدن وہی 9،119 ارب روپے ۔ یعنی 8،256 ارب روپے کا مزید قرض ۔
اور یہ اس سال کا قصہ نہیں پچھلے قریب 14 سال سے ہم اسی قسم کی ناممکن صورتحال میں پھنسے ہیں جس سے قرض کی مقدار اور اس کی ادائیگیاں ہر سال پہلے سے بڑھ جاتی ہیں ۔
اب صوبوں کا یہ اعتراض بالکل بجا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی آمدن میں اضافہ کرے اور مزید قرضوں سے اجتناب کرے ۔ اس دلیل کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ آئین میں 2010 سے یہ لکھ دیا گیا ہے کہ وفاق کے کسی بھی نام سے لگائے اور اکٹھے کئے گئے نئے یا پرانے ٹیکسوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت تقسیم کیا جائے گا۔ اس پر مزید یہ کہ کسی بھی مستقبل کے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ موجودہ شرح سے زیادہ تو کیا جا سکتا ہے مگر کم نہیں ۔
آخری این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو ٹیکسوں کی مجموعی آمدن کا قریب 58% اور وفاق کو 42% حصہ دیا گیا ہے ۔ وفاق کے ذمے آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور قبائلی علاقوں کے بھی کچھ خرچ ہیں جس کے بعد وفاق کا حصہ صرف 40% بچتا ہے ۔
اب اگر وفاقی حکومت تمام تر غیر ضروری اخراجات سے جان چھڑا بھی لے تو بھی 8،256 ارب روپے قرض لینے کی بجائے آمدن سے یہ رقم پورا کرنے کے لئے اس رقم کا ڈھائی گنا یعنی 20640 ارب کے مزید ٹیکس وصول کرنے ہوں گے جس میں سے 8256 ارب روپے وفاق کو مل سکیں گے اور 12384 ارب مزید صوبوں کو ۔
نتیجتاً اگلے مالی سال کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف اس بجٹ کے 12970 ارب روپے کے ٹارگٹ کو مزید 20640 ارب بڑھا کر ایف بی آر کے ٹارگٹ کو 33610 ارب روپے پر لے جانا پڑے گا جو اس معیشت میں ادائیگیوں کی سکت سے قریب ڈھائی گنا زیادہ ہے ۔
اتنے ٹیکس اوّل تو وصول کرنا ہی ناممکن ہیں اور بالفرض کوئی اسے جمع بھی کر لے تو تمام معاشی سرگرمی زراعت اور صنعت سرمائے کے فقدان سے ختم ہو جائے گی ۔ ( ٹیکس خون کے عطیے کی طرح ہوتے ہیں ۔ اگر ایک وقت میں خاص مقدار سے زیادہ نکال لئے جائیں تو معاشی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے ) ۔
سب سوچنے سمجھنے والوں کو اب یہ اندازہ ہو جانا چاہیے کہ حالات کی سنگینی دن بدن بڑھ رہی ہے اور ہم کبوتر کی طرح شاید آنکھیں بند کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ کوئی خطرہ نہیں ہے اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ہمارے ملک کے زعما اور اکابرین کو یہ سوچنا ہے موجودہ بندوبست میں وسائل کے حصول اور تقسیم کا یہ نظام فوری تبدیلیوں کا متقاضی ہے ۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ صوبائی حکومتوں کے وسائل اور دائرہ کار میں کمی ملکی مفاد میں نہیں لیکن یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ ایک با معنی اور معاشی طور پر مستحکم وفاق کے بغیر صوبوں کا اپنا وجود غیر یقینی ہو سکتا ہے ۔
ایک viable وفاق کے بغیر ہمارے دفاع اور عدل کے نظام سمیت تقریبا” تمام قومی ادارے خدانخواستہ انحطاط کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس ضمن میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی پر معاہدے کو چھیڑے بغیر بھی بہت سے حل تلاش کئے جا سکتے ہیں اور کچھ حل ان ترامیم کی تھوڑی درستگی سے بھی نکل سکتے ہیں۔
ہمسایہ ملک ، جرمنی ، کینیڈا ، آسٹریلیا اور امریکہ میں موجود دنیا کی بڑے بڑے وفاقی نظام ہائے حکومت میں اس کے بے شمار حل ڈھونڈے گئے ہیں جن کو نقل کرکے ہم بھی اپنے مسائل حل کرنے کی طرف بڑھ سکتے ہیں ۔
مثال کے طور پر جرمنی میں تمام وفاقی ، صوبائی اور مقامی ٹیکس وہاں کے صوبے جمع کرتے ہیں اور بعد میں اس کا 45% صوبوں کو ، 45% وفاق کو اور 10 % مقامی حکومتوں کو دے دیا جاتا ہے۔
بھارت میں نہ صرف وفاقی حکومت کا حصہ صوبوں سے زائد ہے بلکہ سیلز ٹیکس جمع کرنے کا نظام بھی integrated VAT of goods and services
بن چکا ہے ۔امریکہ میں ان سب سے ہٹ کر ایک یکسر الگ نظام ہے ۔
ہمارے ہاں ایک تجربہ یہ بھی ممکن ہے کہ قرض کے پیسوں کی application اگر کسی صوبے تک trace کی جا سکے (آخر یہ 67 کھرب کا قرض اسلام آباد پر تو نہیں لگا ) تو صوبوں کی آمدن بڑھا کر ان سے قرض کی ادائیگی میں حصہ ڈلوایا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ قرض سے آسانی تک وفاق کو کچھ ٹیکسوں پر exclusive حق دے دیا جائے ( اس سہولت کے بے جا استعمال کو روکنے کے لئے ایک ٹائم لائن اور قرض ادائیگی کے اہداف بھی مقرر ہو سکتے ہیں ) ۔
لیکن بہر صورت موجودہ طریقہ کار آنے والے وقت میں بہت زیادہ خرابی کا باعث بن سکتا ہے اور اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ، تمام صوبوں ، وفاق اور معاشی ماہرین کا مل بیٹھ کر اس سب سے بڑے مسئلے پر بات کرنا اور اس کا حل نکالنا ہے۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں