ہاں کڑھی پکوڑا بھی ہوتا ہے اور دو قسم کی روٹی بھی لیکن دونوں ہی نہیں کھائی جاتیں کیونکہ ہمارے فوڈ کلچر سے کچھ مختلف ہیں بس یہی اک پریشانی ہے۔
دوسرا مسئلہ وائی فائی کا تھا بالکل نکما ہے اور سرکاری سم بھی یو فون کی سم کی رومنگ کی ہوئی ہے بس وٹس ایپ کے وائس نوٹ تک ہی کام کرتی ہے۔
مغرب کے وقت مسجد نبوی میں حاضری ہوئی بالکل نزدیک ہی ہے ہمیں 328 نمبر گیٹ لگتا تھا۔ مسجد کو جاتے ہوئے درود شریف پڑھتے رہے مسجد میں داخل ہوتے ہی بے پایاں سکینت طاری ہوگئی۔ میں نے اس سے پہلے کبھی جان بوجھ کر عمرہ ادا نہیں کیا حالانکہ باقی فیملی کر چکی ہے اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ عمرہ کرکے بندہ حج کی طرف کچھ ڈھیلا پڑ جاتا ہے کہ اللہ کا گھر تو دیکھ ہی لیا ہے لیکن نفلی عبادت سے فرض تو ساقط نہیں ہو سکتی دوسرا میں روضہ رسول اور بیت اللہ کی زیارت کی فریش فیلنگ لینا چاہتا تھا۔
بہت خوبصورت مسجد ہے انتظام بہت زبردست ہے ہر چیز سے سلیقہ جھلکتا ہے لیکن مجھے مسجد کے ستون کی تعداد ضرورت سے بہت زیادہ لگی شاید صرف خوبصورتی کے لئے بنائے گئے ہیں لیکن ان کی وجہ سے کچھ گھٹن سی بھی فیل ہوتی ہےیا شاید میں استھما کی وجہ سے کچھ کلیسٹرو فوبک ہوں۔ میرے خیال سے اگر جدید طرز تعمیر کے مطابق تعداد میں ستون ہوں تو ہال کمرے کی گنجائش میں پچیس سے تیس فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔
مسجد کے چاروں جانب کئی ایکڑ پہ پھیلا ہوا صحن ہے جن میں پلاسٹک کی فینس کی مدد سے عورتوں اور مردوں کے نماز ادا کرنے کے لیے جا بجا علیحدہ علیحدہ بلاکس بنائے ہوئے ہیں جن میں قالین کی صفیں بچھی ہوئی ہیں اور اوپر فولڈ ایبل چھتریاں لگی ہوئی ہیں اور بڑے بڑے پنکھے نصب ہیں جن میں سے پانی کی پھوار بھی پڑتی ہے اور بہت لطف آتا ہے اس لئےمیں نے زیادہ تر نمازیں صحن میں ہی ادا کیں۔
باقی جب نماز شروع ہوتی ہے تو پھر جو جہاں پر بھی ہوتا ہے وہ صف بندی کے روایتی و شرعی تقاضوں کے بر خلاف وہیں جائے نماز بچھا لیتا ہے مطلب کہیں مرد خواتین سے آگے ہوتے ہیں تو کہیں خواتین اور بلاکس کی وجہ سے صفوں میں گیپ بھی ہوتا ہے جن میں لوگ چل پھر رہے ہوتے ہیں مطلب یہ بھی کسی اجتہاد کے تحت ہی ہو رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے ورنہ ہمارے والے مولوی اور شاعر تو اتنے ریٹھے ہیں کہ مجال ہے جو زیر زبر ذرا آگے پیچھے ہی ہو جائے اور یہاں لوگ مزے سے جوتے پہنے مسجد میں گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔دوسرا میں نے غور کیا ہے کہ سترہ پہ عمل کرنا پاکستان میں اگر مشکل ہے تو یہاں ناممکن ہے۔
یا پھر ہمیں طفیل ہاشمی صاحب کی اس بات کو ماننا ہوگا کہ سترہ آپ کے سجدے کی جگہ تک ہوتا ہے یا ہمیں ان احادیث کو ریویو کرنا ہوگا جس میں سترہ توڑنے پر سخت وعید فرمائی گئی ہے۔
دوسرا صف میں پاؤں ملانے کا حکم یہاں بھی پورا ہوتا نظر نہیں آتا حالانکہ امام ہر نماز سے پہلے یہ تاکید ضرور کرتا ہے ۔ شاید اس کی ایک وجہ مختلف مسالک کے افراد کا اکٹھا ہونا ہے۔
اچھا ایک اور بات کہوں تو ہمارے نعت خوانوں کو سن کر تو یوں لگتا ہے کہ مدینہ جیسے مجنوؤں کی بستی ہو گی ہر کوئی چاک گریباں پھر رہا ہوگا زار و قطار روتے ہوئے خاک سر میں ڈال رہا ہوگا جوتے نام کی چیز سے تو اہل مدینہ واقف ہی نہ ہوں گے۔
لیکن بھائیو! ایسا کچھ نہیں ہے مدینہ بھی نارمل شہروں کی طرح ایک شہر ہے اور زائرین بھی نارمل انسانوں کی طرح کے انسان ۔ بلکہ سگِ مدینہ تو کیا مجھے تو کوئی سگِ آوارہ بھی دکھائی نہیں دیا۔ اب پتا نہیں یہ وہابیوں کی کارستانی ہے یا کمیٹی والوں کی۔
ہاں روضہ رسول پہ حاضری کے وقت چند لوگ ضرور رو رہے تھے میری خود کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں خوب درود سلام پیش کیا سب ڈیسنٹ انداز میں آ جا رہے تھے ویسے لوگوں کا قبلہ درست رکھنے میں کچھ شْرظوں کا بھی عمل دخل تھا جو کسی بھی زائر کو حد نہیں کراس کرنے دیتے تھے اور لوگوں سے کہتے تھے کہ دعا کے لئے ہاتھ قبلہ رو ہو کر اٹھائیں نا کہ روضے کی طرف منہ کرکے بلکہ کہیں کہیں تو زور زبردستی بھی کر رہے تھے۔
پہلی رات کو ہی ہمارا نمبر ریاض الجنہ کے لئے آ گیا اور تقریباً دو ڈھائی بجے وہاں انٹری ہوئی جہاں تیس چالیس منٹ ملے جس میں روضے کے بالکل نزدیک نوافل ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔ محبوب خدا اور انکے یاروں کے اتنا قریب ہونے پہ دل پہ بیک وقت ایک ہیبت اور سکینت طاری رہی۔
اس کے بعد بھی دو بار مزید حاضری دی اور خدمت میں اپنا اور دوستوں کا فرمائشی سلام عرض کیا۔
اس کے بعد ایک فیس بک فرینڈ نے پیشکش کی اگر دوبارہ جانا ہو بتائیے گا۔ میں نے عرض کی کہ نہیں جو ایک بار جاتا ہے تو وہ ایک سال تک دوبارہ نہیں جا سکتا تاکہ اوروں کو بھی موقع ملے اور دوبارہ جا کر کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے ۔
کہنے لگا نہیں آپ بتائیں کہ جانا ہے؟
میں بولا کیا تمہاری ڈیوٹی ہے یہاں
بولا نہیں لیکن آپ حکم تو کریں
میں نے کہا پھر کیسے کرو گے
بولا کیونکہ آپ بغیر ایپ کے وہاں گئے تھے اس ئے آپکا چانس برقرار ہے اب نْسک ایپ پہ جا کر وقت لے لیں تو دوبارہ موقع مل جائے گا۔
میں بولا شاواشے بھئ! میں سمجھا تھا کہ گورنر مدینہ میرا فیس فرینڈ ہے شاید
پھر بولا کہ کوئی اور خدمت؟
میں بولا یار تْو کہیں سے پان کھلوا دے بس
بولا وہ آپ کو بنگالی محلے سے ملیں گے
لو دَسو! میں پان مَنگیا سی کہ مشورہ ۔۔؟

ہوٹل کا وائی فائی بالکل ناکارہ تھا اور سرکار کی سم بھی صفا چٹ تھی۔ بار بار حج معاونوں سے سیٹنگ کرواتے مگر پھر بیکار ہو جاتی۔ میں نے جب ایک معاون سے ہیلپ کے لئے اس کا نمبر مانگا تو اس نے موبائیلی کا نمبر دیا میں بولا سبحان اللہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ مریض ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ جب میں کھڑا ہوتا ہوں تو میرے گھٹنوں میں درد ہوتا ہے۔ آگے سے ڈاکٹر کہتا ہے میرے بیٹھے ہی ہوتا ہے۔
مطلب انہوں نے تو خود لوکل سمیں رکھیں ہوئی ہیں یعنی انہیں ہماری سم کی حقیقت کا پتا ہے۔ بس یہ جاننا تھا کہ میں نے وہیں کھڑے کھڑے موبائلی لینے کا پروگرام بنا لیا کیونکہ ہوٹل کی لابی میں ہی موبائلی والوں کا کاؤنٹر لگا ہوا تھا جہاں ایک نقاب ہوش دھان پان سی عربن کھڑی تھی میں بیگم کو لے کر وہاں پہنچ گیا اور دو سموں کا کہا آگے سے وہ عربی میں کچھ کہنے لگی میرے فرشتوں کو بھی نہیں پتا چلا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے میں تو بس آمین آمین ہی کہتا رہا۔ بیگم کی قرآن خوانی کچھ کام آئی اور مجھے کہنے لگیں کہ یہ کوئی تاشیرہ مانگ رہی ہے۔
میں نے فوراً لڑکی سے پوچھا کہ ویزہ؟
وہ پھر بولی تاشیرہ
حالانکہ بات ایک ہی تھی یہاں یہ بڑی مصیبت ہے کہ ان سالوں کو انگریزی بالکل نہیں آتی اب بتائیں ویزے سے زیادہ انٹرنیشنل لفظ کیا ہوگا۔ حالانکہ سارا سال ان کا انٹر ایکشن غیر ملکیوں سے رہتا ہے ویسے یہ مسئلہ مجھے تھائی لینڈ میں بھی پیش آیا تھا کہ وہاں میرے کمرے کا فریج خراب ہوگیا اور میں ریسپشن پہ کھڑی لڑکی کو کبھی فریج کہوں کبھی ریفریجریٹر کبھی ڈیپ فریزر مگر اس کے سر سے گزر جائے اور تو اور ماچس کا نہ سمجھا سکا جب تک سگریٹ نہ دکھائی حالانکہ سوسریاں سارا دن گوروں کے نیچے پڑی رہتی ہیں۔
میں نے سوچا اس سے کیا سم لوں سم ڈلوا کے سیٹنگ بھی کروانی ہے یہ تو ویزے پہ ہی دھواں مار گئی ہے آگے اور ذلیل کرے گی۔ خیر میں ہوٹل سے باہر آیا وہاں STC کا کاؤنٹر تھا اس میں مجھے ایک پاکستانی چھوکرا نظر آگیا جو نوابشاہ سندھ کا نکلا اس سے سندھی شندھی ماری تو خوش ہوگیا اور 80 ریال والی سم مجھے 70 میں دے دی دو سموں پہ مجھے بیس ریال کا فائدہ ہوگیا۔ یہاں سمز بہت مہنگی ہیں یہاں آ کر مجھے پاکستان کی کمپنیوں پہ پیار آگیا ۔
لڑکے سے میں نے پوچھا نوابشاھ کے ہو تو زرداری کے ووٹر ہو بولا نہیں عمران خان ۔
بیچارہ گوگلو موگلو سا بچہ تھا سعودیہ میں ہی پیدا ہوا تھا کبھی پاکستان گیا ہی نہیں تھا لیکن سندھی اور کچھ اردو آتی تھی۔
میں نے کہا کہ عمران خان کیوں
بڑے جوش سے بولا جب عمران خان تھا تو ہماری یہاں بڑی عزت تھی پولیس بھی ہم سے تمیز سے بات کرتی تھی۔
میں نے اور اب؟.
بولا اب تو بھنگی بھی بے عزت کر دیتا ہے۔
تو ان کی گھڑی نہیں بیچنی تھی ناں ۔ یہ کہہ کر میں بیگم کا ہاتھ پکڑ کر ہوٹل میں داخل ہو لیا۔
جاری ہے
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں