ڈاکیا اور جولاہا/تاثرات-ارشد ابرار ارش

کسی کہانی کے اختتام پر ، اگر قاری کی ایک آنکھ سے نمکین پانی کا سست رو دھارا ایک سیدھی لکیر بناتا ہوا گردن تک آپہنچے اور دوسری آنکھ میں ایک آبدار موتی پلکوں کی باڑ میں کہیں اٹک جائے  ۔۔
اٹک جائے  کہ اسے ابھی بہنے کا اذن نہ ملا ہو اور وہ ایک شفاف موتی سا قطرہ بہہ نکلنے کو بے تاب بھی ہو تو اس کیفیت کو بھلا کیا نام دیتے ہیں ۔؟
کیا آپ میں سے کوئی  جانتا ہے  ۔؟

پڑھنے والے( دو چار آنسو بہا کر بھی ، کچھ دن کی اداسی اوڑھ کر بھی) شاید اس کرب تک کبھی نہیں پہنچ پاتے جو کہانی لکھتے سمے قلمکار جھیلتا ہے ۔

اور کہانی بھی اگر نتالیہ کی ہو ۔۔۔ نتالیہ جو آستانہ رومی کی بلند محرابوں تلے اپنے بوڑھے بابا کی گھنی داڑھی میں سفید پرندے ڈھونڈتی نہ تھکتی تھی ۔
غم حسین رضہ میں سینہ کوبی کرتی کہ وہ سادات میں سے تھی اور آلٍ نبی ﷺ کا عشق اس کے خمیر کا حصہ تھا ۔ وہ سید زادی ، جس کے سینے کے بیچوں بیچ کہیں ایک دھاتی صلیب ہمہ وقت معلق رہتی تھی اگرچہ سید زادیوں کیلئے یہ عمل معیوب ہے مگر یہ تھا کہ عقیدوں اور مسالک سے ہٹ کر یہ صلیب اسے ایک گونہ سکون دیتی تھی ۔
درحقیقت یہ کرب کی صلیب تھی کہ مصلوب ہونا نتالیہ کیلئے ازل سے طے تھا تبھی تو گھنی سفید داڑھی والے اس کے بابا کہتے تھے

” پتری کو کچھ نہ کہو کہ اسے تلاش ہے اور تلاش کرنے والوں کو وہ کچھ بھی مل جاتا ہے جو نظر نہیں آتا “

مگر بابا کے ہاتھوں میں کاتب کے اوراق نہ تھے کہ وہ جان پاتے اس کی پتری اپنی تمام محبت لٹا کر بھی اور اپنا آپ گنوا کر بھی کچھ نہ پائے  گی ۔

کبھی بھی ، کچھ بھی نہیں ۔۔۔ نہ کوئی  سفید پھڑپھڑاتا پرندہ ، نہ اپنے وجود سے جنم لینے والی اولادوں کا قرب نہ مجازی خدا کی محبت اور نہ ہی اس کے خواب خیال کا شہزادہ۔ ۔ رودین جولاہا ۔
بابا کہاں جانتے تھے کہ اس کی خانقاہوں میں  پلی وہ لاڈلی پتری کہ ایک خلقت جس کے ہاتھ چومنے کو سعادت مانتی ، وہ یوں تہی داماں اور خالی ہاتھ جائے  گی کہ دیکھنے والی ہر آنکھ کا دنیا کی بے ثباتی پر یقین مزید پختہ ہو جاے گا۔

کانونٹ کی تحصیل یافتہ نتالیہ ۔۔۔ جو اپنے رودین کو خط لکھتی ہے ، خط جو دراصل اس کی مکمل زندگی پر محیط ہیں تو وہ لکھتی تھی گر نہ لکھتی تو بلند خانقاہی محرابوں میں اس کا سانس وقت سے بہت پہلے بند ہو جاتا ،کوئی  منقش گنبد اس پر آ گرتا یا پھر وہ کسی دن ایک غیر فطری موت کی شہہ سرخی بن جاتی ۔
اگرچہ خانقاہی ماحول کی پروردہ نتالیہ کے ہاتھوں سے بھی ادرک اور لہسن کی مہک پھوٹتی تھی مگر وہ باقی سیدزادیوں سے الگ تھی اور ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ یہاں مختلف ہونے اور الگ سوچنے والوں کے مقدر میں مصلوب ہونا طے شدہ ہوتا ہے ۔

محبوب مصنف لکھتے ہیں ” عورت اور مرد کبھی ایک دوسرے کو نہیں سمجھ پاتے کہ ان دونوں میں سواۓ انسانی قدر کے کچھ بھی مشترک نہیں ہوتا “

تو بوڑھا رودین جولاہا ہونے سے قبل نہیں سمجھ پاتا تھا کہ
اپنے بدخشانی گھوڑے پر سوار کوئی  محمد علی ڈاکیا اسے حاملہ خوبانیوں کے باغ میں ڈھونڈنے بھلا کیوں آۓ گا ۔؟
ایک سید زادی اسے کیوں اس قدر تسلسل سے نامے لکھتی ہے ۔ چار بچوں کے ایک باپ کو جو اَب ضعیفی کی سرحد کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے وہ کیونکر کسی کا اَن دیکھا محبوب ہو سکتا ہے  ۔ ؟

پھر وہ خود ہی ہمیں سمجھاتے ہیں۔۔۔ یقیناً ہو سکتا ہے کیونکہ محبت ، محبوب کی زیارت سے مشروط نہیں ہوتی اور عشق کے راستے بہت عجب ہوتے ہیں ۔
Strange are the ways of Love

تو بوڑھا رودین حیران تھا کہ اب ، اب جب وہ اپنی ضعیفی کو پاچکا ہے ، اپنے اندر جینے کی کوئی  امنگ مزید نہیں رکھتا کہ زندگی ایک خاص وقت کے بعد اس جیسے کچھ مخصوص لوگوں کیلئے اپنی کشش کھو دیتی ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ محض اپنے حصے کے لمحات مکمل ہونے کے منتظر ہوتے ہیں۔
تو ایسے وقت میں کوئی  نتالیہ کیونکر امریکہ جیسی خوابوں کی سرزمین سے منہ موڑ کر ، اپنی جوان جہان اولاد کو پیچھے چھوڑ کر اس کے بوڑھے ہو چکے وجود کا طواف کرنے آئے  گی ۔

عشق کی کھڈی بننے والے کچھ جولاہے ایسا کر گزرتے ہیں ، اپنے کانوں میں برنے کی کھٹ کھٹ اتارتے ، کھیس بنتے ذات کے کچھ جولاہے واقعی ایسا کر گزرتے ہیں کہ انہیں بس ایک ہی تمنا ہوتی ہے
تھک کر گرنے سے قبل ،وقت مکمل ہونے سے کچھ دیر پہلے ، مصلوب ہونے سے چند لمحے پیشتر صرف ایک بوسہ ، محبوب کی رفاقت کا بس ایک مختصر سا لمحہ یا اس کا ناتواں بازو ہی سہی ، میسر آۓ تو وہ اپنی آخری ہچکی اس نحیف بازو پر لے لیں ، سانسوں کا یہ سفر سمیٹ لیں اور کسی کے دھڑکتے سینے پر سر رکھے تا ابد اپنی آنکھیں موند کر سو جائیں  ۔

کچھ کہانیاں بہت دیر سے کُھلتی ہیں ، پھر کھلتی ہیں تو لٹھے کے تھان کی طرح کھلتی چلتی جاتی ہیں ۔

کچھ کہانیاں گھاگ اور دانا عورتوں کی طرح آسانی سے اپنا آپ عیاں نہیں کرتیں اور ایک بار ایسی کہانی آپ پر کھل جایں  تو آپ چاہے جس خطے کے قاری ہوں اس کہانی کے کردار ہو جاتے ہیں ، کوئی  ایک سطر یا محض کو ئی  ایک جملہ ہو جاتے ہیں ۔
ترگنیف کی نتالیہ یا رودین ہو جاتے ہیں یا پھر تارڑ کے ڈاکیے اور جولاہے بن جاتے ہیں ۔۔

تو اے  میرے محبوب مصنف ۔۔۔ جیسا  کہ  ہم دونوں جانتے ہیں کہ اس جہانٍ امتحان میں ہمارے آنے کی ایک خاص ترتیب ہے مگر ہماری ایگزٹ اور واپسی بے ترتیب ہوتی ہے ۔
یہاں ، کوئی  اسّی سالہ بیمار بوڑھا زندگی کی کچھ مزید ناقابل فراموش بہاریں بھی جی سکتا ہے اور کوئی  تنومند جوان لڑکا اگلے لمحے اپنی آخری سانس لے کر غیر یقینی موت کے سبب خاک کا پیوند بھی ہو سکتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

تو نہیں معلوم ہم دونوں میں سے کس کو واپسی کی زیادہ جلدی ہو مگر میں آپ کی یا اپنی آنکھیں بند ہونے سے قبل ایک بار آپ سے ملنے کی شدید خواہش رکھتا ہوں۔اور پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی  ذات کا جولاہا نہ ہو اور اسے کوئی نتالیہ کی طرح چاہتا بھی نہ ہو ، جو اس کیلئے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی آخری ہچکی لینے اس کے بوڑھے   بازوؤں کی طرف کھنچی چلی آتی ہے تو کیا ایسے بنجر لوگوں پر کو ئی  ایسی لافانی کہانی اُتر سکتی ہے ۔۔؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply