آدم کا سفر/رضوان خالد چوہدری

آئے روز کوئی نیم ملحد ایک نیا شوشہ چھوڑ دیتا ہے تو ایک بحث شروع ہو جاتی ہے اور چونکہ روایتی مذہبی بیانیہ ان سوالوں کا مدلّل جواب نہیں دے سکتا تو ایسا ہر شوشہ کئی ایسے اذہان کو ہمیشہ کے لیے متاثر کر دیتا ہے جو قرآن اور فطرت کے باہمی تعلق پر غور نہیں کرتے۔

آج کل یہ مدعا زوروں پر ہے کہ جب قرآن کے مطابق انسان زمین سے آگے ہیں تو آدم علیہ السلام سے انسان کی تخلیق کے بیان کو قرآن کی کنٹراڈکشن کیوں نہ کہا جائے۔؟

دیکھیے، میری نظر میں آدم کی کہانی نہ آدمؑ کی پیدائش سے شروع ہوتی ہے نہ جنّت میں ختم ہوگی، ہم کہانی کا یہ سادہ سا پہلو تو جانتے ہیں کہ آدم جنّت میں موجود تھے، وہاں ایک ممنوعہ کام کرنے پر زمین پر بھیج دیے گئے، پھر توبہ کرتے رہے جو بالآخر قبول بھی ہوئی، ہم البتہ یہ نہیں جانتے کہ توبہ کی قبولیت کے بعد آدم کو واپس وہیں کیوں نہ بھیج دیا گیا جہاں سے وہ آئے تھے، اصولاً تو یہی ہونا چاہیے تھا۔ یہیں سے آدم کی کہانی کا نسبتاً پیچیدہ حصہ شروع ہوتا ہے۔ کہانی کے اس حصے کا تعلق آدم کی شکل میں انسان کی وحدت اور انکے جنّت میں آنے سے پہلے سے ہے۔

جنّت میں موجود آدم کی شکل میں وحدتِ انسان کی تھیوری کو آپ یوں سمجھیے کہ زمین پر موجود ہر انسان خود بھی تو کھربوں زندہ خلیوں سے مل کر بننے والا ایک وجود ہے، سب خُلیے باہم مل کر اسے ایک شخصیت میں بدل دیتے ہیں۔ یا آپ اس تصور کو روح کی وحدت سے سمجھ لیجیے، اللہ کی روح ایک ہی ہے، قرآن میں روح کا لفظ جمع کے صیغے میں آیا ہی نہیں حالانکہ اُنیس بار یہ لفظ استعمال ہوا، لیکن یہ ایک ہی روح کھربوں انسانوں میں موجود ہوتی ہے۔ ایسے ہی میری تھیوری کے مطابِق جنّت میں موجود آدم قیامت تک زمین پر پیدا ہونے والے اُن انسانوں کی وحدت تھے جنہوں نے اللہ کی خلافت کا وہ عہدِ الست لیا تھا جسکا تذکرہ قرآن میں ہے۔ عہد لینے کے بعد انہیں عارضی طور پر جنّت کے کسی مقام پر بس اس لیے رکھا گیا تھا کہ انکے نفس کے نِہاں خانوں میں اُس انعام کی جھلکیاں مُنعکس ہو جائیں جو خلافت کے امتحان میں کامیابی کی صورت ملنے والا تھا۔

اگر آپ سائنس سٹوڈنٹ ہیں تو وحدتِ انسان کے تصور کو یُوں سمجھ لیجیے کہ مجھ میں اور آپ میں آدمؑ سے نسل در نسل منتقل ہوتے جنیٹِک کوڈ کا کوئی مخصوص حصہ بہرحال موجود ہے۔ ہمیں ضرور نسل در نسل کچھ علم جینز کے ذریعے ملا ہے جیسے مخصوص دنوں میں انڈوں پر بیٹھنے کا علم ہر نئی مُرغی کے لاشعور میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ گویا میرے اور آپکے لاشعور میں جنّت کی یادوں کا کوئی غیر مرئی سا فطری عکس ضرور موجود ہے جو ہمیں نیکی کی ترغیب دلاتا ہے۔ اسی عکس کو انسانی نفس میں جگہ دینے کو انسان کی وحدت یعنی آدمؑ کو ایک مخصوص وقت تک جنّت میں رکھا گیا تھا۔

گویا آدم جنّت میں ممنوعہ کام نہ بھی کرتے تب بھی اُنہیں زمین پر آنا ہی تھا کیونکہ خلافت کا امتحان انسان کو پست ترین شعوری کیفیت اور حالت میں ہی دینا تھا۔ تبھی توبہ کی قبولیت کے باوجود آدم و حوّا واپس جنّت نہیں گئے۔

اب کہانی کے تیسرے حصے کی طرف آتے ہیں، جب آدم و حوّا جنت میں قُربتِ ربّانی کی مخلوق کے لیے طے کردہ انتہا سے لطف اندوز ہو رہے تھے عین اُس وقت زمین پر زمین کی ہی مٹی یعنی ایک ہی جیسے نامیاتی مرکبّات سے رینگنے اور چلنے پھرنے والی مخلوقات ایسے بن سنور رہی تھیں جیسے اُڑنے کے قابل بننے سے پہلے تتلی کبھی رینگنے والا کیڑا بنتی ہے کبھی لاروا کبھی پیوپا۔ یعنی زمین پر ایک خُلیے سے بننے والی زندگی کے ذریعے نت نئے جانوروں کی اقسام الگ ہو رہی تھیں،انہی جانوروں میں ایک نسل دو ٹانگوں دو پیروں اور دو ہاتھوں والے ایک نسبتاً زیادہ ذہین جانوروں کی تھی جو جنگلوں اور غاروں میں رہا کرتی۔ جانوروں کی یہ نسل اپنے دیگر رشتے دار جانوروں کے برعکس اپنی ضرورتوں کا اظہار زبان سے کر سکتی تھی۔

جیسے ہی آدم و حوّا نے جنّت میں کوئی ممنوعہ کام کیا اُنہیں زمین پر جانوروں کی اسی نسل کے ایک مذکر اور ایک مُونث ممبرز میں منتقل کیا گیا۔

نفیس اور لطیف وجود والے آدم و حوّا خود کو دو ٹانگوں والے ان جانوروں کے جسم میں پا کر حیران سے زیادہ پریشان ہوئے ہونگے۔ رو رو کر توبہ کرتے ہونگے۔ توبہ قبول بھی ہوئی لیکن بہرحال اُنہیں اسی حیوانی جسم میں رہ کر خلافتِ ربّانی کا وہ امتحان دینا تھا جس کے لیے آدم سے پہلے نفوسِ انسانی سے عہدِ الست لیا گیا تھا، آدم کی ذات کی پہلی تقسیم نے جنّت میں ہی حوّا کو وجود پذیر کیا، اب زمین پر آدم و حوّا کے اس حیوانی لباس کی بدولت آدم کی وحدت کو تحلیل ہونا تھا، یعنی آدم و حوّا کے جنیٹک کوڈ کی تقسیم در تقسیم کے ذریعے اُن تمام انسانوں کو دنیا میں آ کر اپنا امتحان دینا تھا جنہوں نے آدم سے پہلے کے کسی جہان میں عہدِ الست لیا تھا۔

امتحان کی نوعیت بہرحال بہت سادہ ہے، یہ اللہ کی اُن صفات کی حتی الوسع پریکٹِس کا امتحان ہے جو انسانی وجود کے لیے ممکن ہیں۔ یعنی رحمٰن رحیم غفار رازِق عزیز کے ساتھ ساتھ جبار اور قہار وغیرہ جیسی صفاتِ ربّانی کی حکمت بھری پریکٹِس کا امتحان۔

اب سوال یہ ہے کہ اس امتحان میں کامیابی کے بعد کیا انسان دوبارہ ویسی ہی وحدت بن جائے گا جیسے وہ پہلے جنّت میں آدمؑ کی شکل میں تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہاں، ایک لامتناہی وقت تک جنّت میں طبق در طبق رہنے کے بعد جنّت ہی کے کسی آخری طبق میں وہ دوبارہ ایک وجود بن جائے گا۔

صُوفیا اس وجود کی خالِق کے ساتھ وحدت کے بھی قائل ہیں، میں البتّہ یہ سمجھتا ہوں کہ وحدتُ الوجود درحقیقت وحدتُ المخلوق ہو گی، یہ وہ سٹیج ہو گی جب انسان اللہ کی روح سے ہم آہنگ ہو کر جنّت کی نعمتوں سے بھی بے نیاز ہو چکا ہوگا۔ گویا جنّت کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اب اس موقع پر ایک نئے عہدِ الست کی ضرورت ہو گی تاکہ ایک نئے امتحان کے بعد انسان اپنے خالِق سے کُچھ اور قریب ہو جائے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply