اشاروں کنائیوں کی زبان وہ بہت اچھی طرح سمجھتی تھی کیونکہ وہ طوائف تھی اور گاہک کی رگ رگ سے واقف۔ طوائفوں سے عشق نہیں ،سودا ہوتا ہے۔ لوگ کھلونوں سے دل بہلانے آتے ہیں اور وہ ان کی جیبوں سے اپنا سرمایہ تجارت حاصل کرتی ہیں۔ طوائف سے عشق کا دعویٰ بہت کرتے ہیں لیکن ان کا عشق اس غزل کی مانند ہوتا ہے جس کا مقطع خلوت بے ناموس ہے اس لیے آہ سرد اور لب خشک اسے بھاتے نہیں تھے۔ یہ طلسمات اس کے لیے بے معنی تھے۔
پیر نتھے شاہ تین دن سے عجیب باتیں کر رہا تھا۔ وہ سب سمجھ رہی تھی۔
’’مجھے پرانے پیڑ زیادہ پسند ہیں گھنے، سایہ دار، پروقار۔ رنگین سہ پہر کی گداز تمازت، میٹھی اور مدھم۔ گرمیوں کی سہ پہر میں کچے صحن پر پانی کے چھڑکاؤ کے بعد جو سوندھی سوندھی خوشبو آتی ہے میں اس کا دیوانہ ہوں۔‘‘
وہ خاموش بیٹھی رہی۔ پیر نتھے شاہ اس کے چہرے پر ناگواری کے احساسات بکھرتے دیکھ کر بولا،
’’تمہارا خفا ہونا بجا ہے کیونکہ تم خطرناک حد تک حسین ہو، فربہ اندامی نے تمہارے جسم میں پگھلے ہوئے بلور کا لوچ بھر دیا ہے۔‘‘
اس کی آنکھوں کا کاجل بھوبھل میں بدل گیا۔ بھویں تن گئیں، کالی کالی غصیلی محرابیں!
’’پیر سائیں آپ کوٹھے پر آنا، کچی کلیاں پیش کروں گی۔‘‘
وہ جانتی تھی کہ اکثر طوائفیں نتھ اتروائی کی رسم سے پہلے پیر نتھے شاہ سے شیرینی لیتی تھیں۔
’’مجھے تو تم پسند ہو۔ چڑھتی جوانی کی دھوپ سخت ہوتی ہے اور سہ پہر کی میٹھی۔ تم گھنیرے احساس کی سنہری سہ پہر ہو۔ جس پیڑ پر پہلی بار پھل آیا ہو اس کا پھل ترش ہوتا ہے۔ کچی انبیاں وہ کھائے جو ابھی جوانی کی پیڑھی نہیں چڑھا، جس نے میٹھے آموں کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘
***
وہ گناہ گار تھی، سر سے پاؤں تک گناہوں کی دلدل میں گھری ہوئی۔ دعویٰ پارسائی دور کی بات ہے اس نے تو یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ گناہ اس کا پیشہ تھا، رغبتِ بطالت اس کا فن۔ دولتِ حسن کے سہارے افعالِ ممنوعہ پر نہ صرف عمل کرنا بلکہ انہیں پرکشش و پرتاب بنا کر پیش کرنے کی بھی ماہر تھی۔ پورے شہر میں کون تھا جو گناہ بالذت کی عبارت میں اس کی ہمسری کر سکتا۔ اسے یاد نہیں تھا کہ پچھلے تیس سال میں کبھی کسی شام وہ عیش و نشاط کی محافل میں رونق افروز نہ ہوئی ہو۔ کوئی رات ایسی نہیں تھی جس میں اس نے جنس کی بے پایاں مسرتیں نہ لٹائی ہوں۔ اس گلی کی خاک چھاننے والا ہر دیوانا اس کی نشاط افروز جوانی سے لطف اندوز ہونے کی خواہش میں ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔
آج پیر نتھے شاہ کی زبان سے قرب کی خواہش کا سن کر وہ دنگ رہ گئی۔ اس نےکبھی کسی چاہنے والے کی خواہش کو رد نہیں کیا تھا۔ اور شاہ جی تو منڈی کے معروف پیر تھے.
لیکن وہ تو کچھ اور سوچ کر آئی تھی۔
***
منڈی اپنے دامن میں بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر قسم کی برائی، لذت کام و دہن کے سامان کے ساتھ دولت حسن اور مال و زر کی فراوانی، اس کے ساتھ ہر گلی اور ہر موڑ پر دربار یا سجدہ گاہ۔ پورا سال روح و جسم کے سودے کرنے والے محرم بھی زور شور سے مناتے ہیں۔ گناہوں کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہوئے لوگ گناہوں پر فخر نہیں کرتے، شرمندگی کا اظہار کرکے کفارہ ادا کرتے ہیں۔ ہیرا منڈی ہو یا حرم گیٹ، محرم میں کوٹھوں کو تالے لگ جاتے ہیں۔ صحن سلام و مرثیہ کی محافل سے آباد ہو جاتے ہیں۔
فن کاروں کی جنم بھومی میں موسیقی و گائیکی کے ماہرین جب آل محمدﷺ کے مصائب و آلام بیان کرتے اور حب حسینؑ سے لبریز آواز میں نوحہ پڑھتے ہیں تو پررونق و شاداب شہر کربلا کا تپتا صحرا بن جاتا ہے۔
سب سے زیادہ سوز فہمیدہ سپاں والی کی آواز میں ہے۔
جب لڑکیاں سلام پڑھتیں تو اس کی آواز سب سے جدا سنائی دیتی۔ آواز میں ایسا لوچ تھا کہ وہ چپ ہو جاتی تو در و دیوار گنگنانے لگتے۔ ان سے ساز داؤد کی موسیقیت پھوٹتی دکھائی دیتی۔ بولتی تو کمرے میں چاندی کی کٹوریاں بجنا شروع ہو جاتیں، پرندوں کے غول منڈیروں پر اتر آتے۔ ایک مرتبہ یوں ہوا کہ پیر معصوم شاہ ولی کے مجاور گلی سے گذر رہے تھے، وہ مرثیہ پڑھ رہی تھی۔ جن پر کبھی کسی آواز کا جادو نہیں چلا تھا وہ اپنی مجذوبیت بھول گئے اور اس آواز کا سوز چکھنے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ کہنے لگے کہ اس کی آواز میں کربلا کی تلواروں کی جھنکار شامل ہے۔ تیغ و زرہ و ڈھال کے ٹکرانے کی سنسناہت اس کے ساتھ نوحہ کناں ہے۔ جب اس نے پڑھنا ختم کیا تو وہ بھاگ کر اس کے پاؤں میں گر گئے۔
یہ کیسے ہوگیا؟ پیر معصوم شاہ کے مجاور اور درویش اس کے قدموں میں ڈھیر ہو گئے؟
وہ مجذوب ہیں، دیوانے نہیں!
اگلے دن ہی پیر نتھے شاہ کا پیغام آ گیا کہ اس بار معصوم شاہ ولی کے عرس مبارک پر تینوں دن سلام وہ پڑھے گی۔ مزار اقدس پر معرکہ کربلا کی رثائی اور پیر بابا کی مدح بیان کرنا اس کی حسرت تھی، پوری ہوتی نظر آئی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
مولا کے کرم سے وہ اس سال فلم اسکرین پر بھی جلوہ گر ہوئی تھی۔ بابا فرید شکر گنج کے دربار پر دھمال ڈالی۔ فلم بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔ اب لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کو مرتے جاتے تھے۔
کچھ ہی دن پہلے ناولٹی سینما کے سامنے چوک میں سجے سٹیج پر اس نے وہی مدح گائی۔
”پاکپتن تے آن کھلوتی
بیڑی میری بنے لا
دوروں ٹر کے آئی آں میں
ایس پتن دا توں اے ملاح”
ساری منڈی امڈ آئی۔ سینکڑوں درویش اس کے ساتھ دھمال میں شریک تھے۔ نوٹوں کی برسات کرنے والوں میں تماشبینوں سے زیادہ منڈی کے اپنے باسی تھے۔ طوائفوں نے اس کی بلائیں لیں اور مودا کنجر، تافی کنجر، اچھا شوکر والا، سب اس پر واری واری جا رہے تھے۔ اچھا، نواب آف کالا باغ کا چہیتا، لاہور کا سب سے بڑا بدمعاش، نواب کے کہنے پر اس نے ہی بھٹو صاحب کا ناصر باغ والا جلسہ الٹایا تھا۔ وہ پہلے ہی اس کا پانی بھرتا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر ’شہباز قلندر مست، سخی لال قلندر مست‘ گاتے ہوئے جذب غالب ہوا اور حال پڑ گیا۔ اس نے اپنا گریبان چاک کر دیا۔ پری تمثال بدن دیکھ کر کائنات روشن ہو گئی۔
***
بابا معصوم شاہ ولی کا دربار منڈی کا سب سے پرانا دربار ہے۔ محمد بن قاسم کے حملے کے بعد اہل بیت کے یہ قریبی ساتھی سندھ سے ادھر آ گئے تھے۔ قبر مبارک جس حجرے میں ہے اس کا دروازہ ہمیشہ اندر سے بند رہتا ہے۔ صرف نیک روحوں کو اس مزار میں داخلے کی اجازت ملتی ہے۔ کبھی کسی نے نہیں دیکھا لیکن لوگ بتاتے ہیں کہ ان کے آنے پر دروازہ خود بخود کھل جاتا ہے۔ شاہ جی کا دست مبارک قبر سے باہر نکلتا ہے اور کشتہء عشقِ اہل بیت کو سہارا دے کر اندر لے جاتا ہے۔ اس کے بعد دروازہ پھر ایسے بند ہو جاتا ہے کہ جیسے کبھی کھلا ہی نہ ہو۔
اس مزار کے ہر مجاور سے عہد و پیمان لیا جاتا ہے کہ پارسائی، ترک دنیا اور عاجزی سے پیر کی اطاعت میں رہ کر زندگی بسر کرنی ہے۔ دربار کے ملنگ اور مجاور عجیب و غریب ہیں۔ بہت سے راہداریوں میں، کھلے صحن میں، مزار کے اردگرد موجود قبروں کے درمیان، درختوں کے نیچے، راکھ کا بستر کیے، صرف ایک لنگی میں, ننگ دھڑنگ پڑے رہتے ہیں۔ لمبے گندے ناخن اور بال، جن کو کبھی تراشا یا دھویا نہ گیا ہو، لمبی جٹیں پنڈلیوں تک لٹکتی اور الجھ کر ان میں اس طرح کی گرہیں پڑ جاتی ہیں جیسے خارش زدہ پشمی کتوں کے بالوں میں پڑی ہوتی ہیں۔ انتہائی دبلے پتلے اور سوکھے جسم کے مالک، بھوک ان کی ہڈیوں میں رچ بس گئی ہے۔ طوائفیں ان کو خوارک لا کر دیتی ہیں۔ وہ طوائفیں جن کر گرد جسم کی ہوس کے مارے بھوکے گدھ ہمیشہ منڈلاتے رہتے ہیں، ان کی گرویدہ تھیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ وہ انتہائی مقدس اور پارسا ہستیاں ہیں جو نفسانی خواہشات پر مکمل طور پر قابو پا چکے ہوتے ہیں۔
منڈی کا سب سے انوکھا رنگ یہ ہے کہ اس خانقاہ کی حدود کے اندر اگر کوئی کسی عورت کی طرف گندی نظر سے دیکھے تو مجاور اس کی آنکھیں پھوڑ دیتے ہیں۔ گناہوں کے کیچڑ میں پاکی کا یہ کنول صدیوں سے لہلہا رہا ہے۔
منڈی کی آب و تاب طوائفوں کے جسم کی چمک دمک کے سبب ہے۔ یہ طوائفیں اپنا حسن بالکنیوں پر وار دیتی ہیں اور جوانی گھٹن زدہ کمروں کے اندھیروں میں لٹا کر خون تھوکنا شروع کر دیتی ہیں۔ جب ان کا بچا کھچا ڈھانچه چار کندھوں پر اٹھایا جاتا ہے تو ان کے ساتھ چلنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ پھر رات کے اندھیرے میں، شہر سے باہر، راوی والے قبرستان کے کسی کونے کھدرے میں دفنا دی جاتی ہیں۔
فہمیدہ کی عمر ڈھل رہی تھی، ایسی لاوارث موت سے ڈرتی تھی۔ وہ پیر حضرت معصوم شاہ کے مزار کے احاطے میں دفن ہونے کی خواہش مند تھی۔
***
عرس مبارک کے لیے اس نے ایسے تیاری کی جیسے کربلا و شام کی زیارات پر جا رہی ہو۔ شفون کا کالا کرتا سلوایا اور سلک کی شلوار جو کاجل کی طرح چمکتی تھی، گھر میں مجلس کروائی، غرباء میں کھانا تقسیم کیا اور روانہ ہوگئی۔ اس دن شاہی قلعہ کی محرابوں اور بادشاہی مسجد کے میناروں کے باسی کبوتر بھی غول در غول پھڑپھڑاتے اس کے اوپر منڈلا رہے تھے۔ دربار میں پہنچ کر اس نے مزار شریف کے بند دروازے کی چوکھٹ کو اپنی پوروں سے چھوا اور انہیں چوم کر آنکھوں سے لگا لیا پھر آگے بڑھ کر نتھے شاہ کے پاؤں کو چھو کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور زانو توڑ کر ان کے سامنے یوں بے حس و حرکت بیٹھ گئی جیسے تصویر اتروانا ہے۔
سفید براق چادروں کا فرش، نیچے دبیز قالین بچھے ہوئے تاکہ نششت آرام دہ رہے، پیر صاحب آلتی پالتی مارے تشریف فرما تھے۔ پیر نتھے شاہ بڑے جلال والے سائیں تھے۔ علی مولا کا نعرہ لگاتے تو در و دیوار کانپ اٹھتے۔ ریشمی پردے کمرے میں تقریباً اندھیرا کیے ہوئے تھے۔ باہر صحن سے قوالی کا شورِ مترنم بلند ہو رہا تھا۔ میٹھے سر کانوں میں رس گھول رہے تھے۔ پیر نتھے شاہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ایک مرید کو اشارہ کر کے بلایا،
’’فہمیدہ بائی کو ان کے کمرے میں لے جاؤ۔ ان کے آرام کا خاص خیال رکھنا۔ یہ میری خاص مہمان ہیں۔‘‘
پھر فہمیدہ سے مخاطب ہوا
’’رات کو دستر خوان پر ملاقات ہوگئی۔‘‘
اس کا ماتھا اسی دن ٹھنکا تھا۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ نتھے شاہ کی منزل دستر خوان کی حدود سے آگے ہے۔
وہ سلام پڑھنے آئی تھی۔ اس نے تو معصوم شاہ ولی کی مدح سرائی کرنی تھی۔ وہ پیر جس کے بارے میں اس نے سنا تھا کہ
مدح پیر دی حب دے نال کیجے، جیں دے خادماں دے وچ پیریاں نی
روز حشر دے پیر دے طالباں نوں، ہتھ سجڑے ملن گیاں چیریاں نی
ہیرا منڈی کی گناہوں میں رچی بسی طوائف پیر بننے کا تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی لیکن خادم بننا تو اس کے بس میں تھا۔ روز محشر اس کے سجے ہاتھ میں اعمال نامہ تو شاید نہیں ملنا تھا لیکن وہ پیر کی حب کی طالب ضرور تھی۔ اس نے تو سرشام منقبت امام عالی مقام پڑھتے وقت دربار شریف کی طرف منہ کر کے اسی احاطے میں قبر کی جگہ کی دعا مانگی تھی۔
دو دن سے وہ سوچ رہی تھی کہ اب اسی جگہ پر وہ گناہ کرے گی!
وہ پاک دربار جہاں کسی میں ہمت نہیں کہ طوائفوں کی طرف گندی نگاہ سے دیکھ سکے، جہاں کے مجاور جنسی خواہشات سے مبرا تھے، اس خانقاہ کے پیر بلند پرواز تو پاک اور صاف سوچ کے حامل سمجھے جاتے ہیں لیکن نتھے شاہ منڈی کے اسفل نشینان ہوس پرست کی طرح اس کے سامنے اوندھے منہ آپڑا تھا۔
وہ سخت غصے میں تھی۔
فطرت نے اسے حسن سے نوازا تھا، اس حسن عالم فیروز کو ارباب اشتیاق سے چھپا کر کفران نعمت نہیں کرتی تھی۔ وہ فریبی ستمگر ضرور تھی، غاصبہ نہیں لیکن مولا کے اس بے بہا عطیے کا غلط استعمال بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ مولا کے نام پر دھوکا دینے والے کو اس کی ایک جھلک بھی دکھانا کفر سمجھتی تھی، یہی بات اس نے کہہ دی۔
’’ہزاروں لوگ میرے دیوانے ہیں، میرے حسن کے سامنے کون سجدہ ریز نہیں ہوا! جوان، بوڑھے، کمسن لڑکے، ہوس کے ماہر کھلاڑی، سب میرے بستر کی رنگینیوں میں شریک رہے ہیں۔ میرا جسم بہت سے دل جلوں کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ سب اس جسم سے لطف اندوز ہوئے ۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی وہ رات بھی گذری ہے کہ میری ایک جھلک پانے کو پورا بازار امڈ آیا۔‘‘
نتھے شاہ متملق نگاہوں سے گھور رہا تھا۔
’’میں طوائف ہوں، مجھے کوئی قیمت دے اور سرعام اختلاط کرنا چاہے تو میرے لیے آزردہ خاطر نہ ہوگا۔‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ پیر اٹھ کر قریب آ گیا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
’’میری زندگی میں کچھ ہی راتیں ایسی آتی ہیں جب میری خلوت میں کوئی نہیں ہوتا۔ ان راتوں میں میں اپنی عاشق خود بن جاتی ہوں اور وجود معنوی میرا معشوق۔
طراوت بھری وہ راتیں انوکھی ہوتی ہیں۔
لیکن گزشتہ دو راتوں میں صرف تنہائی میرے ساتھ تھی۔ میں نے اپنا سر اپنے بازو پر بھی رکھنا مناسب نہیں سمجھا۔‘‘
پیر نتھے شاہ بےصبرا ہو رہا تھا۔ وہ اسے گھورے جا رہا تھا۔ لالسا بھری نگاہوں کی حاشیہ پیمائی دیکھ کر غصہ مزید بڑھ گیا۔
’’پیر صاحب یہ جگہ بہت متبرک ہے۔
نہیں ، پیر صاحب نہیں۔
یہ تم کو بھی زیب نہیں دیتا۔ پیری کے خمار میں تم یہ بھول گئے ہو۔‘‘
’’کیا زیب دیتا ہے کیا نہیں، تم مجھے بتاؤ گی؟ طوائف ہمیں اچھا برا سمجھائے گی؟ واہ مولا، کیا دور آگیا ہے!‘‘
پیر کی ڈھٹائی دیکھ کر وہ بارود کا گولہ ہو گئی جو نہ جانے کب بھک ہو جائے۔
’’سمجھانا طوائفوں کا کام نہیں۔ ہمارا پیشہ گناہوں پر پشیمانی نہیں، ان کو رواج دینا ہے۔ ہمارے بدن گناہوں سے آلودہ ہیں۔ تیس سال ہزاروں لوگوں نے مجھے برہنہ دیکھا، بے حساب لوگوں کے پہلو کو گرمایا۔
تو بھی مجھے پانے کو بیتاب ہے لیکن پیر صاحب! یہ تمہاری قسمت میں نہیں۔ تمہارے لیے میرے پاس سوائے انکار کے کچھ نہیں۔ مولا کے نام پر دھوکا دینے والے کو میں ٹھکراتی ہوں۔‘‘
پیر نتھے شاہ اس کی گستاخانہ گفتگو سن کرغصے میں پھنکار اٹھا۔ ضرب گفتار اس کی برداشت سے باہر تھی۔ آگے بڑھ کر اسے جکڑ لیا۔ وہ کوئی کمزور عورت نہیں تھی، کئی طاقتوروں کو پچھاڑ چکی تھی۔ طوائفوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا پیر اس کا کیا مقابلہ کرتا؟
تھوڑی دیر بعد ہی دور گرا ہانپ رہا تھا۔
شکست خوردہ بھیڑئیے نے طمنچہ نکالا اور فائر کردیا۔
ایک مرید بھاگتا ہوا اندر آیا تو دوسرا فائر کر کے اسے بھی ڈھیر کر دیا۔
ملنگ جمع ہو گئے۔
پیر نتھے شاہ کہنے لگا،
’’ہوس کی ماری طوائف دو راتیں بھی صبر نہ کر سکی۔ دونوں بے غیرت اس متبرک جگہ کو ناپاک کر رہے تھے۔ لاشیں اٹھاؤ اور راوی کی گِدھوں کے حوالے کر دو۔‘‘
***
تیز ہوائیں چل پڑیں۔ درختوں کی ٹہنیاں آپس میں ٹکرا کر سینہ کوبی کرنے لگیں۔ فضا میں زنجیر زنی کی جھنکار گونج اٹھی۔ ملنگ لاش کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے چلے۔ کالی کفنی میں لپٹی لاش سے بہتا خون فرش کو یوں سرخ کر رہا تھا جیسے سیاہ پوش عزادروں کے لہو سے گلیاں رنگین ہو جاتی ہیں۔
آج کی شام، شام الم تھی، شام غم تھی۔
شام غریباں کی خالی جھولی دیکھ کر چھدرے بادل افق پر یوں ابھرنا شروع ہوئے جیسے تیروں سے چھدی کالی سیاہ چادر میں لپٹا ذوالجناح امام بارگاہ سپہر بریں سے برآمد ہو کر سوگواران حسینؑ کے سامنے جلوہ گر ہو گیا ہو۔ عزاداروں کی گریہ و زاری اور شور آہ و بکا نے کہرام مچا دیا۔ خون ناحق جوش زن ہوا اور مزار شریف کا ذرہ ذرہ چیخ اٹھا۔
اندھیری رات امڈ آئی۔ یہ رات کائنات پر زینب رنجور کی راتوں کی طرح بھاری تھی۔ کالے سیاہ بادل ماتمی جلوس کی طرح پورے فلک پر چھا گئے۔ بجلی چمکی اور اندھیری رات میں آسمان جگمگا اٹھا۔ صاعقہ زن ابر پنجہ علمدار سے ٹکرایا تو وہ سرخ انگارہ ہو گیا۔ یہ انگارہ تیز ہواؤں میں کچھ دیر تھرتھراتا رہا پھر اس سے خون ٹپکنے لگا۔ لہراتے علم کے زیر سایہ پڑے سر برہنہ لاشے پر ابرِبلا اشک بہانے لگا۔
تعزیہ داروں کے ماتم کی صدا سے عرش کانپ اٹھا۔ تلواروں والا علم لہرایا تو اس کے پھریرے کی ہوا بھی عرش سے جا ٹکرائی۔
قزاق اجل نے نقارہ بجا دیا۔ ایسی ہوا چلی کہ جن و بشر ’الصور الصور‘ پکار اٹھے۔ زبان ملک الموت ’الموت الموت‘ پکارنے لگی۔ تن و سر جدائی کا دکھ سہنے کو تیار ہو گئے۔ قبروں سے ’الحشر الحشر‘ کی آوازیں آنے لگیں۔ النشر کا ہنگامہ پھوٹ پڑا۔ سقر نے اہل سقر کو گھیرنا شروع کر دیا۔

بے کس کے بے کفن لاشے کو اٹھائے ملنگ معصوم شاہ ولی کے مزار کے سامنے پہنچے تو خوفناک گڑگڑاہٹ کا شور بلند ہوا۔ بھاری بھر کم دروازہ خود بخود کھل گیا۔ سب خوفزدہ ہو کر بھاگ اٹھے۔
یوم النشر تک کون انتظار کرے؟
قبر مبارک چاک ہو گئی۔ معصوم شاہ ولی کا دست پاک باہر نکلا اور اسے اٹھا کر اندر لے گیا۔ پھر دروازہ یوں بند ہوا جیسے کبھی کھلا ہی نہیں۔
***
اگلی رات ہی اچھے شوکر والے نے پیر نتھے شاہ کو قتل کرکے لاش راوی میں بہا دی۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں