بند گلی کی سیاست/محمد عامر حسینی

پاکستان تحریک انصاف پر پابندی اور سابق صدر عارف علوی، عمران خان اور سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری پر آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ بھجوانے کا فیصلہ
آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت وفاقی حکومت کے پاس کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے اور آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین کی خلاف ورزی پر ریفرنس سپریم کورٹ بھجوانے کا اختیار ہے۔۔
1973ء کے آئین میں شامل آرٹیکل 17 کا پہلی بار استعمال ذوالفقار علی بھٹو نے بطور وزیراعظم فروری 1975ء میں کیا تھا جس کے تحت نیشنل عوامی پارٹی  ‘ نیپ کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا ۔
اگر پی ٹی آئی پر پابندی لگی تو شہباز شریف دوسرے وزیراعظم ہوں گے جو پی ٹی آئی کے خلاف آئین کے آرٹیکل 17 کا استعمال کریں گے ۔

آئین کے کے آرٹیکل 10 میں ترمیم (جو تیسری ترمیم کہلاتی ) بھٹو صاحب نے کی تھی اور اس میں لفظ دشمن کی تعریف وسیع کرتے ہوئے نیپ اور اس کی قیادت کے خلاف کاروائی کا جواز پیدا کیا گیا اور پھر اسی کے  ساتھ  1975ء میں سپیشل ٹربیونل کورٹ بنائی گئی تھی جس میں نیپ کے خلاف ملک توڑنے، غداری کی سازش کرنے اور مسلح بغاوت کرنے جیسے الزامات کے خلاف کل 26 افراد پر مقدمہ چلایا گیا۔

آج تک آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ نہیں بھیجا گیا یہ پہلی حکومت ہوگی جو اس نوعیت کا ریفرنس سپریم کورٹ میں بھیجے گی ۔
پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی پر پابندی لگی تو اس سے ملک تباہ ہوجائے گا اور ملک میں خانہ جنگی ہوگی ۔
وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ حکومت دونوں اقدامات کے لیے کابینہ سے منظوری لے گی ۔

پیپلزپارٹی کے رہنماء فرحت اللہ بابر نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے ۔ لیکن ان کی رائے کو عام طور پر پی پی پی کی قیادت کی رائے کا عکاس خیال نہیں کیا جاتا ۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت کئی ایک سرکردہ رہنماء ماضی میں عمران خان اور سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری پر آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پیپلزپارٹی پی ٹی آئی پر پابندی لگانے اور اس کے تین رہنماؤں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کرنے کی حمایت کرے گی ؟

ڈان میڈیا گروپ کی آفیشل ویب سائٹ پر شایع ہونے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں سنگل لارجسٹ پارٹی بننے سے روکنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں ۔
مسلم لیگ نواز اور فوجی اسٹبلشمنٹ دونوں میں کم از کم اس بات پر اتفاق رائے چلا آ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کسی بھی طرح سے اپنی پی ٹی آئی شناخت کے طور پر اسمبلیوں میں موجود نہ ہو ۔ اس کے لیے جتنی بھی تکنیکی ہتھکنڈے Technical tactics استعمال کیے جاسکتے ہوں وہ اپنائے جائیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے مسلم لیگ نواز فوجی اسٹبلشمنٹ کی اس رائے سے متفق ہے کہ فئیر پلے سے سیاسی میدان میں پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین عام انتخابات کے دوران یکساں لیول پلئینگ فیلڈ کا مطالبہ دہراتے رہے لیکن سب کو معلوم ہے کہ خود انھیں بھی پنجاب میں لاہور کے ایک حلقے میں بھی یہ یکساں لیول پلئینگ فیلڈ نہیں دیا گیا تھا جبکہ ان کی جماعت کے کئی ایک پنجاب سے تعلق رکھنے والے امیدواران قومی اسمبلی نے یہی شکایت کی تھی ۔ لیکن پیپلزپارٹی نے عام انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن سے اپنے کئی ایک امیدواروں سے ہوئی دھاندلی کے خلاف رجوع نہیں کیا تھا اور نہ انتخابی عذرداریوں کو دائر کیا تھا ۔

مسلم لیگ نواز کی حکومت ایک اقلیتی جماعت کی قیادت میں قائم ہے جس کا سب سے بڑا سہارا کابینہ میں شامل نہ ہونے والی پیپلزپارٹی ہے ۔ اگر پیپلزپارٹی حکومت کے پی ٹی آئی کا دھڑن تختہ کرنے والے اقدامات کی مخالفت کرتی ہے اور حکومت ان اقدامات کو اٹھانے پر اصرار کرتی ہے تو کیا پی پی پی حکومت کو دی جانے والی حمایت سے دستبردار ہوگی ؟ کیا وہ فوجی اسٹبلشمنٹ کی موجودہ قیادت کی ناراضگی مول لے گی ؟

مجھے ایسا لگتا ہے کہ پی پی پی موجودہ حکومت کا خاتمہ کسی صورت نہیں چاہے گی کیونکہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان تاحال پی پی پی سے بات چیت کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور فوجی اسٹبلشمنٹ بھی عمران خان کی بات چیت کے لیے شرائط کو ناقابل قبول سمجھتی ہے۔ اگر پی پی پی اس حکومت کی حمایت واپس لیتی ہے تو فوجی اسٹبلشمنٹ، نواز لیگ کسی صورت نئے انتخابات کی طرف نہیں جائیں گی ۔ آخری صورت مارشل لاء لگانے کی رہ جاتی ہے جو پی پی پی کو کسی صورت قبول نہیں ہوگا ۔
مسلم لیگ نواز اور فوجی اسٹبلشمنٹ عمران خان کو رہا کرنے کے حق میں بالکل نہیں ہیں ۔

مستقبل میں سیاسی عدم استحکام مزید گہرا ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ فوجی اسٹبلشمنٹ کے سامنے پی ٹی آئی ہی بڑا چیلنج نہیں ہے بلکہ اس وقت کے پی کے میں پشتون تحفظ موومنٹ اور بلوچستان یک جہتی کمیٹی کے گرد تعمیر ہونے والی مزاحمتی تحریکیں بھی بہت بڑا چیلنج ہیں ۔ اگر پی ٹی آئی پر پابندی لگتی ہے تو اس صورت میں پنجاب اور کے پی کے میں بھی پی ٹی آئی کسی بڑی سیاسی تحریک کو چلانے کی کوشش کرے گی ۔

مسلم لیگ نواز اپنے سب سے بڑے بیس کیمپ پنجاب میں اس وقت غیرمقبولیت کی حدوں کو چھو رہی ہے ۔ پنجاب میں مرکزی حکومت اور موجودہ صوبائی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف شدید غصہ اور تناو موجود ہے ۔ گزشتہ انتخابات کے نتائج سے یہ اندازہ صاف لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب کے جی ٹی روڈ پر قائم بڑے شہری انتخابی حلقوں میں وہ غیر مقبولیت کا شکار ہے اور وہ بتدریج اپنے حامیوں سے محروم ہو رہی ہے ۔ اس کا احساس خود مسلم لیگ نواز کے اندر اس کے کئی ایک لیڈروں کو ہے ۔ نواز لیگ لاہور ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ ، راولپنڈی ڈویژنوں کے شہری ہیڈکوارٹر میں اپنی حمایت بڑے پیمانے پر کھو چکی ہے ۔ جبکہ سرائیکی وسیب میں پی پی پی کی جگہ پی ٹی آئی لے چکی ہے ۔

مسلم لیگ نواز کے اندر کئی ایک بڑے رہنماء اپنے قائد میاں نواز شریف پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ وفاق اور پنجاب میں نواز،لیگ کے نام پر بننے والی کمزور اور کٹھ پتلی حکومتوں کو اپنی کمزوری بنانا ترک کردیں ایک آزاد سیاست دان کا کردار ادا کرنا شروع کریں ۔

وفاقی حکومت کی موجودہ ٹیکسز کی پالیسی سے پنجاب کے ریٹلر تاجر طبقے میں شدید بے چینی ہے جو مسلم لیگ نواز کا سب سے بڑا حامی طبقہ خیال کیا جاتا ہے جبکہ بجلی اور گیس کے بلوں اور ٹیکسوں کی بھرمار سے درمیانے تنخواہ دار طبقے خاص طور پر سرکاری ملازمین میں بھی سخت بے چینی ہے جو پنجاب میں بڑی تعداد میں نواز لیگ کو ووٹ دیتا آیا ہے ۔ اس طبقے میں بھی نواز لیگ تیزی سے غیر مقبول ہو رہی ہے ۔ اگر مسلم لیگ مزید فوجی اسٹبلشمنٹ کی طرف جھکتی ہے اور آئی ایم ایف کی ریٹلر اور تنخواہ دار طبقات پر بھاری ٹیکسز کی شرائط کو نافذ کرتی ہے تو اس سے مسلم لیگ نواز کی پنجاب میں حمایت اور تیزی سے ختم ہوگی۔

Advertisements
julia rana solicitors

اگر پنجاب میں کوئی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تو فوجی اسٹبلشمنٹ پنجاب سے پڑنے والے عوامی دباؤ کا زیادہ دیر سامنا نہیں کرسکے گی ۔ وہ لامحالہ پی ٹی آئی سے بات چیت کرکے کوئی درمیانی راہ نکالنے کی کوشش کرے گی اس صورت میں مسلم لیگ نواز کا کیا انجام ہوگا ، اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply