اس کی کہانی عجیب ہے اور واقعات کم ہیں لیکن اس میں ایک “پیغام” بہت ہی زبردست، خوفناک اور حقیقت پر مبنی ہے جو دہشت میں ڈال دیتا ہے۔
انسان کی حقیقی عمر بائیں بازو پر درج ہوتی ہے (فلم کے تمام کرداروں اور تمام شرکاء کے لیے)۔ ہدایتکار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ کو دکھائے کہ کس طرح آپ کی عمر کے سیکنڈز، منٹس اور گھنٹے ختم ہو رہے ہیں۔
اور خوفناک بات یہ ہے کہ وہ اپنی عمر کو مالیاتی لین دین میں استعمال کرتے ہیں پیسوں کے بجائے۔ مطلب یہ کہ جب وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنے بازو پر موجود بقیہ عمر کے وقت کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں۔مثلاً، اگر کسی کو کچھ خریدنا ہو تو اسے 30 منٹ یا ایک گھنٹہ یا ایک دن اپنی عمر سے دینا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی مطلوبہ چیز حاصل کر سکے۔ یا اگر وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے بازو کی گھڑی سے کچھ وقت دینا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ سکے کیونکہ وہاں پیسوں کا کوئی لین دین نہیں ہوتا، صرف عمر کا لین دین ہوتا ہے۔
انسان کی حقیقی عمر بائیں بازو پر درج ہوتی ہے (فلم کے تمام کرداروں اور تمام شرکاء کے لیے)۔ ہدایتکار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ کو دکھائے کہ کس طرح آپ کی عمر کے سیکنڈز، منٹس اور گھنٹے ختم ہو رہے ہیں۔
اور خوفناک بات یہ ہے کہ وہ اپنی عمر کو مالیاتی لین دین میں استعمال کرتے ہیں پیسوں کے بجائے۔ مطلب یہ کہ جب وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنے بازو پر موجود بقیہ عمر کے وقت کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں۔مثلاً، اگر کسی کو کچھ خریدنا ہو تو اسے 30 منٹ یا ایک گھنٹہ یا ایک دن اپنی عمر سے دینا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی مطلوبہ چیز حاصل کر سکے۔ یا اگر وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے بازو کی گھڑی سے کچھ وقت دینا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ سکے کیونکہ وہاں پیسوں کا کوئی لین دین نہیں ہوتا، صرف عمر کا لین دین ہوتا ہے۔
مصنف نے حقیقت کی مشابہت میں ایک چیز اور شامل کی ہے جو حقیقی زندگی سے بہت ملتی ہے: یہ کہ اس عمر کی گھڑی میں طبقاتی تقسیم بھی ہوتی ہے (عمر کے غریب اور عمر کے امیر)۔ یعنی کچھ لوگوں کے پاس 100 سال سے زیادہ کا وقت ہوتا ہے اور کچھ لوگ دن کے حساب سے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ جب ان کا وقت ختم ہو جاتا ہے، تو وہ مر جاتے ہیں۔
ایک منظر میں دکھایا گیا ہے کہ بطل اپنے ماں کا انتظار کر رہا ہوتا ہے تاکہ اسے اپنے بازو سے کچھ وقت دے سکے۔ اس کی ماں کی عمر میں صرف ڈیڑھ بچا ہوتا ہے اور اس کی عمر کی بیٹری ختم ہونے والی ہوتی ہے جس کے بعد وہ خود بخود مر جائے گی۔
جب ماں بس میں سوار ہوتی ہے تو ڈرائیور کہتا ہے، “میڈم، کرایہ آپ کی عمر کے دو گھنٹوں کے برابر ہے۔ اور آپ کے پاس صرف ڈیڑھ گھنٹہ ہے۔” اس نے لوگوں کی طرف حیرت اور التجا کی نظر ڈالی، لیکن کسی نے پرواہ نہ کی اور نہ ہی کسی نے اسے کچھ منٹ دیے۔
ماں بس سے اتر کر دوڑتی ہے تاکہ اپنے بیٹے سے مل سکے جس نے اپنی عمر سے دس سال دینے کا ارادہ کیا ہوتا ہے تاکہ وہ زندہ رہ سکے۔
دور سے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی طرف دوڑتے ہیں۔ منٹس گزر رہے ہوتے ہیں، سیکنڈز گزر رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ ملتے ہیں اور ماں اپنے بیٹے کو گلے لگاتی ہے تو وہ فوری مر جاتی ہے کیونکہ اس کی عمر کا آخری سیکنڈ ختم ہو جاتا ہے۔
یہ فلم کا سب سے تکلیف دہ منظر ہے۔
بس میں ماں کی نظر اور لوگوں کا بے پرواہی سے اسے نظر انداز کرنا بہت دکھ بھرا ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے ممکن تھا کہ وہ اسے کچھ منٹ دے دیتا جس سے وہ اپنے بیٹے کے حساب سے دس سال مزید جی سکتی۔
لیکن حقیقت میں کوئی آپ کو اپنی عمر نہیں دے سکتا۔
فلم نے ایک عظیم پیغام دیا ہے:
جب ماں بس میں سوار ہوتی ہے تو ڈرائیور کہتا ہے، “میڈم، کرایہ آپ کی عمر کے دو گھنٹوں کے برابر ہے۔ اور آپ کے پاس صرف ڈیڑھ گھنٹہ ہے۔” اس نے لوگوں کی طرف حیرت اور التجا کی نظر ڈالی، لیکن کسی نے پرواہ نہ کی اور نہ ہی کسی نے اسے کچھ منٹ دیے۔
ماں بس سے اتر کر دوڑتی ہے تاکہ اپنے بیٹے سے مل سکے جس نے اپنی عمر سے دس سال دینے کا ارادہ کیا ہوتا ہے تاکہ وہ زندہ رہ سکے۔
دور سے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی طرف دوڑتے ہیں۔ منٹس گزر رہے ہوتے ہیں، سیکنڈز گزر رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ ملتے ہیں اور ماں اپنے بیٹے کو گلے لگاتی ہے تو وہ فوری مر جاتی ہے کیونکہ اس کی عمر کا آخری سیکنڈ ختم ہو جاتا ہے۔
یہ فلم کا سب سے تکلیف دہ منظر ہے۔
بس میں ماں کی نظر اور لوگوں کا بے پرواہی سے اسے نظر انداز کرنا بہت دکھ بھرا ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے ممکن تھا کہ وہ اسے کچھ منٹ دے دیتا جس سے وہ اپنے بیٹے کے حساب سے دس سال مزید جی سکتی۔
لیکن حقیقت میں کوئی آپ کو اپنی عمر نہیں دے سکتا۔
فلم نے ایک عظیم پیغام دیا ہے:
چاہے آپ نے اپنی زندگی میں کتنی بھی نیکیاں یا بدیاں کی ہوں، جب آپ گرتے ہیں یا کسی مشکل کا سامنا کرتے ہیں، تو آپ کو کوئی بھی نہیں ملے گا جو آپ کو اپنی عمر کے کچھ لمحے دے کر بچا سکے تاکہ آپ دوبارہ کھڑے ہو سکیں۔ کوئی بھی آپ کے لیے اپنی عمر کی قربانی نہیں دے گا تاکہ آپ اپنی مشکل سے نکل سکیں۔
ایک دن آپ گریں گے اور آپ کی بیٹری ختم ہو جائے گی اور آپ کا وقت ختم ہونے کے قریب ہو جائے گا۔ اس وقت صرف آپ کی محنت، کوشش اور خواب ہی آپ کو بچا سکتے ہیں۔
دو لوگ ہی ایسے ہوں گے جو آپ کے لیے اپنی عمر کی بیٹری خالی کرنے کے لیے تیار ہوں گے:
“آپ کی ماں اور آپ کے والدین”۔۔۔
دو لوگ ہی ایسے ہوں گے جو آپ کے لیے اپنی عمر کی بیٹری خالی کرنے کے لیے تیار ہوں گے:
“آپ کی ماں اور آپ کے والدین”۔۔۔
صرف وہی لوگ ہیں جو آپ کو اپنی عمر کے لمحے دینے کے لیے تیار ہوں گے کیونکہ وہ آپ کو اپنی زندگی کے ہر لمحے کے قابل سمجھتے ہیں۔ یہ فطرتی محبت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔
کبھی بھی اپنی زندگی کے لمحے کو بیکار، حسرت، غم، انتقام یا پچھتاوے میں ضائع نہ کریں۔ اگر کوئی شخص جس کے بازو پر عمر کی گھڑی ہوتی اور وہ اپنی عمر کے سیکنڈز اور دنوں کو گرتے ہوئے دیکھتا تو وہ اپنی زندگی کے فیصلوں پر غور کرتا۔
وقت ایک اہم عامل ہے۔
ہم اسے آسانی سے کھو دیتے ہیں!
کبھی بھی اپنی زندگی کے لمحے کو بیکار، حسرت، غم، انتقام یا پچھتاوے میں ضائع نہ کریں۔ اگر کوئی شخص جس کے بازو پر عمر کی گھڑی ہوتی اور وہ اپنی عمر کے سیکنڈز اور دنوں کو گرتے ہوئے دیکھتا تو وہ اپنی زندگی کے فیصلوں پر غور کرتا۔
وقت ایک اہم عامل ہے۔
ہم اسے آسانی سے کھو دیتے ہیں!
بشکریہ فیس بک وال
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں