فضاؤں میں پی ٹی آئی پر پابندی کی تجویز گونجتی ہے- اس فیصلہ نما تجویز کا اعلان وفاقی وزیر جناب عطاء اللّہ نے تقریباً دو ہفتے قبل کیا- اس کے بعد ماحول میں بہت ہل چل ہوئی، مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے اجلاس بھی منعقد ہوئے- ان اجلاسوں میں پی ٹی آئی پر پابندی کی تجویز، ضرورت، مقصد، طریقہ اور اثرات کا جائزہ لیا گیا- ایوان صدر میں بھی مشاورت ہوئی- ٹی وی چینلز پر چند دن تک شور رہا- پھر آہستہ آہستہ دھول بیٹھنے لگی- اس دوران منتخب پارلیمنٹ نے 2017 کے انتخابی قوانین کی وضاحت کے لیے ایک ائینی ترمیم بھی منظور کر لی- سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے ترمیم کی منظوری کے وقت حسب عادت بہت شور شرابا کیا- لیکن شور شرابا کرنے اور اودھم مچانے کا کون سا اخلاقی یا قانونی جواز ہے؟ بھئی اگر آپ کو ترمیم پسند نہیں یا وہ آپ کے ذاتی مفادات کے مطابق نہیں تو جب ایوان میں آپ کو بات کا موقع دیا جاتا ہے تب دلائل کے ساتھ بات کریں اور ترمیم کے خلاف ووٹ کریں- گنتی ہو گی اور منظوری یا نامنظوری کا اعلان ہو جائے گا- شور شرابا کاہے کو؟ پاکستان میں بہت سے لوگ دولت، برادری بازی، دھونس، غنڈہ گردی یا کسی بے بنیاد جذباتی مقبولیت کی وجہ سے بھی پارلیمنٹ میں پہنچ سکتے ہیں- انھیں روکنے کا کوئی قابلِ عمل طریقہ چوں کہ آج تک دریافت نہیں ہو سکا، چناں چہ لازم ہے کہ حلف برداری سے قبل تمیز و آداب سکھانے کا کوئی اہتمام کیا جائے- پارلیمنٹ ایک ایسا قانون بھی وضع کرے کہ ہر عام انتخابات کے فوری بعد نو منتخب ارکان پارلیمان کے لیے کم از کم ایک ہفتے کی تربیتی ورکشاپ منعقد ہو- تمام نئے و پرانے ارکان کے لیے اس ورکشاپ میں حاضری اور بھرپور توجہ لازمی ہو- مجوزہ ورکشاپ میں ارکان کو قومی معاملات و مفادات، اسمبلی قواعد، تمیز سے بات کرنے، مہذب الفاظ کا انتخاب کرنے، قوانین کی منظوری اور مناصب کے انتخاب کے وقت شائستہ رویہ اپنانے کی عملی تربیت دی جائے، عملی مشق کروائی جائے، تحریری امتحان لیا جائے، نمبرز لگائے جائیں اور پھر تصدیقی اسناد جاری کی جائیں جن پر ورکشاپ کے امتحان میں حاصل کردہ نمبرز بھی واضح درج ہوں- 70 فی صد سے کم نمبرز والوں کو دوبارہ ورکشاپ کرائی جائے اور کوئی رکن جب تک 70 فی صد نمبرز حاصل نہ کر سکے، اسے حلف اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے- شاید یہ تجویز ذرا سخت لگے یا بعض لوگ اس کو غیر سنجیدہ کہیں، لیکن عوام کو ایک مہذب پارلیمان سے روشناس کرانے اور نتیجتاً خود عوام کو بھی اجتماعی طور پر مہذب بنانے کا یہ ایک آسان اور قابلِ عمل راستہ ہے-
یہ طالب علم سیاسی جماعتوں پر پابندی کا حامی قطعاً نہیں- لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا پی ٹی آئی واقعی ایک “سیاسی” جماعت ہے- لفظ “سیاسی” کی کون سی تعریف پر پی ٹی آئی پورا اترتی ہے؟ 2010 میں جب چند حلف فراموش، طاقت ور سرکاری ملازمین نے عمران کو گود لیا، تب سے اب تک عمران کے لہجے، اور پی ٹی آئی کے طریقے سے کیا کبھی سیاسی یا جمہوری خوش بو آئی؟ ان کا دوٹوک رویہ ہے کہ اقتدار صرف عمران کے پاس ہو، ورنہ ایک دن بھی ملک میں امن، سکون اور ترقی نہیں ہونے دینا- کسی کو اگر یہ جملہ پسند نہ آئے تو وہ پاکستان کی گزشتہ 15 سالہ سیاسی تاریخ پر غور کر لے ! خود پی ٹی آئی کی ایک خاتون جسے پارلیمنٹ میں بھی پہنچایا جا چکا ہے، اپنے وڈیو پیغام میں واضح کہہ چکی ہے کہ “خان نہیں تو پاکستان نہیں”- نعوذ باللّٰہ- ایسا جملہ اگر کسی اور ملک میں بولا جاتا تو عدالتیں اس عورت اور اس پارٹی کو نشان عبرت بنا دیتیں- لیکن یہ تو پاکستان ہے- 2013 کا انتخاب مسلم لیگ نواز حالات و واقعات اور دنیا کی توقعات کے عین مطابق بآسانی جیت گئی- لیکن اس کے بعد اگلے انتخابات تک عمران اور پی ٹی آئی نے ملک میں ایک دن بھی سکون نہیں ہونے دیا- 2018 سے قبل عمران کی فرمائش پر مسلم لیگ نواز کی ساری قیادت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر قید کر دیا گیا، قومی اسمبلی کے لیے مسلم لیگ نواز کے تقریباً 65 مضبوط ترین امیدواران کو پارٹی ٹکٹ واپس کر کے آزاد امیدوار بننے پر مجبور کیا گیا- اتنے پکے انتظامات کے بعد ملک میں الیکشن نما کام کروایا گیا تو بھی پولنگ کی شام آر ٹی ایس کو جام کرنا پڑا- میدان میں پی ٹی آئی کے علاوہ کسی اور پارٹی کی قیادت موجود نہ تھی- پی ٹی آئی کو اکیلے کھل کھیلنے کا موقع دیا گیا پھر بھی وہ ہار گئی- پھر ہوائی جہازوں، ٹیلی فونز اور فائلوں کے ذریعے عمران کے لیے بندے پورے کرنا پڑے- پونے چار سال عمران نے صرف دو کام کیے؛ تقریریں اور جعلی مقدمے- بنگلہ دیش میں حسینہ واجد نے بھی گزشتہ چند سالوں میں یہی کام کیے تو عوام نے اس کا جو حشر کیا، سب نے دیکھا- عمران کو حسینہ واجد جیسے عوامی غضب سے بچانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کا آئینی اور محفوظ راستہ دلوایا گیا- اتنی غیر معمولی عنایات کے باوجود کون سا کام پی ٹی آئی نے سیاسی انداز میں کیا ہے؟ 2014 کے دھرنے، پارلیمنٹ پر حملہ، سرکاری ٹی وی پر قبضہ، پولیس افسران کے نام لے کر دھمکیاں، پولیس افسران پر حملے، خاتون ججز کے نام لے کر دھمکیاں، ٹی وی اینکرز کو دھمکیاں، نجی ٹی وی چینلز پر پتھراؤ، خواتین صحافیوں پر حملے، جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ، جی ایچ کیو ہر حملہ، کور کمانڈر ہاؤسز پر حملے، سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا کر نہر میں پھینکنا، سوشل میڈیا پر ننگی گالیاں، سیاسی جماعتوں کی خواتین کے خلاف بدترین جعلی کہانیاں اور جعلی وڈیوز، آئی ایم ایف کو خطوط، امریکہ اور یورپ میں پاکستان کے خلاف مظاہرے- اب تو عمران نے خود پٹرول بموں کے استعمال کا بھی اعتراف کر لیا ہے لیکن مجال ہے جو اتنے خوف ناک اعتراف کے باوجود اسے کوئی سزا سنائی جا رہی ہو- یہ سارے کارنامے کسی بھی ملک میں “سیاست” تسلیم نہیں کیے جاتے- اگر یہ سیاست ہے تو پھر غنڈہ گردی، غداری اور دہشت گردی کیا ہو گی؟ ان سب تلخ حقائق کے باوجود اس وقت ہوا پی ٹی آئی کے موافق ہے- پی ٹی آئی پر پابندی کا بہترین موقع 9 مئی 2023 تھا جب پاکستان کی ریاست اور دفاعی تنصیبات پر منظم اور مربوط حملے کیے گئے- اس موقع پر پی ٹی آئی پر پابندی لگا دی جاتی تو انصاف کے اداروں میں چھپے بیٹھے پی ٹی آئی کے سرپرست بھی اس پابندی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے- لیکن ریاست اور حکومت نے وہ موقع ضائع کر دیا- اس سے قبل 2014 میں جب سرکاری ٹی وی پر قبضہ کیا گیا اور جب پارلیمان پر حملہ کیا گیا تب بھی پابندی لگائی جا سکتی تھی- اگرچہ تب بھی بعض طاقت ور ترین سرکاری ملازمین کی مکمل سرپرستی پی ٹی آئی کو حاصل تھی، لیکن نتائج کی پروا کیے بغیر دلیرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعے پابندی عائد لگا دی جاتی تو سرپرستوں کو لینے کے دینے پڑ جاتے- اتنے مواقع ضائع کرنے کے بعد کم از کم یہ موقع نہیں کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جائے جب کہ اداروں میں بیٹھے بعض طاقت ور ترین “فیصلہ ساز” آج بھی پی ٹی آئی کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہیں- اس موقع پر پابندی کو عوامی و عدالتی تائید حاصل ملنا مشکل ہے- ایسے فیصلے کا اثر الٹا بھی ہو سکتا ہے جو مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی سیاست کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو گا- مخصوص نشستوں والے فیصلے پر موثر اور جان دار تبصرہ وہی ہے جو سپریم کورٹ کے معزز ججز جناب جسٹس امین الدین اور جناب جسٹس نعیم الدین نے لکھ دیا ہے- حکومت کے پاس اکثریتی فیصلے کے نتائج سے آئینی انداز میں نمٹنے کے بہت راستے ہیں- پابندی والی تجویز اب بے کار بھی ہے اور نقصان دہ بھی-
اب ذرا حالیہ پیرس اولمپکس کی بات- ایک عدد گولڈ میڈل عالمی سطح پر شاید اتنا اہم نہ ہو، جتنا پاکستان کے لیے رہا- اللّہ تعالیٰ نے کرم کیا اور پنجاب کی ایک تحصیل میاں چنوں کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے 27 سالہ نوجوان ارشد ندیم نے اولمپکس کی 118 سالہ تاریخ کا ریکارڈ توڑ دیا- کھیل کے میدانوں میں پاکستان کا پرچم لہرائے ہوئے بہت سال بیت گئے تھے- عالمی میڈیا کہہ رہا ہے کہ یہ گولڈ میڈل پاکستان کی تاریخ میں کھیلوں کا اب تک کا سب سے بڑا اعزاز ہے- اس سے قبل پاکستان ہاکی، سکواش، سنوکر اور کرکٹ جیسے کھیلوں میں ورلڈ کپس جیت چکا ہے- کرکٹ میں پچاس اوورز، ڈبل وکٹ اور ٹوینٹی ٹوینٹی مقابلوں (تینوں فارمیٹس) میں پاکستان ایک ایک ورلڈ کپ جیت چکا ہے- یہ ٹیم ایونٹس تھے- لیکن اولمپکس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور انفرادی گولڈ میڈل تو بہت بڑی کام یابی ہے- ارشد ندیم بلاشبہ پاکستان کی 77 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا قومی چیمپئن اور کھلاڑی بن کر سامنے آیا ہے- اسے ڈھیروں شاباش- کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ اس چھوٹے سے مقابلے یا پرچم لہرانے سے ہمیں کیا ملا؟ ایسا کہنے والوں کو یہ معلوم نہیں کہ پاکستان کا پرچم جب جب اونچا لہراتا ہے، ہمارا دل جھومتا ہے، آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل کی گہرائیوں تک میں سکون آ جاتا ہے-
وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں—
یہ میرے جسم ، میری روح سے عبارت ہے !
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں