• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہمارے لبرلز بھی اپنا قبلہ درست کریں/شہزاد احمد رضی

ہمارے لبرلز بھی اپنا قبلہ درست کریں/شہزاد احمد رضی

لبرلزم گو ایک قدیم تصور ہے لیکن 17 ویں صدی میں یہ باقاعدہ ایک مشہور اصطلاح بن گئی اور جدید دنیا میں ا س کوبہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔لبرلزم کی تمام تعریفوں میں چند نکات جیسے افراد کے  حقوق، شخصی آزادیاں، جمہوریت وغیرہ مشترک ہیں۔عموماً اسے ہر قسم کی انتہاپسندی کے مقابلے میں ایک معقول تصور گردانا جاتا ہے۔ اہل مغرب خود کو لبرل روایات کا امین کہتے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی لبرلزم کافی حد تک فروغ پاچکا ہے۔ہمارے تعلیمی ادارے، حکومتی ادارے وغیرہ بہت حد تک لبرلزم کے حامی نظر آتے ہیں۔ہمارا معاشرہ بھی مجموعی طور پر لبرل معاشرہ ہی ہے۔ہم ایک دوسرے کے حقوق اور شخصی آزادی کی حفاظت کرتے آئے ہیں۔ہمارے معاشرے میں کبھی ایک دوسرے کے لیے بہت گنجائش ہوا کرتی تھی۔ اب بھی کسی حد تک یہ گنجائش موجود ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرتے کرتے ہمارا ”لوکل لبرلزم“ بھی انتہا پسندی کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ ہمارے ہاں ایک مخصوص کلاس ہے جو خود کو لبرلزم کی محافظ قراردیتی ہے۔ اس کلاس کا دعویٰ ہے کہ یہ مذہبی جنونیت سے بیزار ہے۔ انہیں خواتین کے حقوق کی بہت زیادہ فکر ہے۔ یہ اپنی باتوں، تحریروں اور فرمودات میں جابجا اپنے خیالات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ کیسا لبرلزم ہے کہ یہ طبقہ بھی دوسروں پر اپنے نظریات تھوپتا نظر آتا ہے؟ ان کے لہجے میں بھی طنز ہے۔ حقارت کا پہلو اِن کے ارشادات میں حد درجہ نمایاں ہے۔ یہ عجیب روشن خیالی ہے جو آپ کو صرف اپنی روایات کا تمسخر اڑانے کا حوصلہ دیتی ہے۔؟

پچھلے دنوں غالباً کے پی کے میں ایک بچی نے بورڈ میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ وہ جب انعامات وغیرہ کے حصول کے لیے آئی تو وہ برقع اوڑھے ہوئے تھی۔ ہمارے لبرلز نے اپنی تحریروں میں وہ اودھم مچایا کہ الاماں و الحفیظ۔ انھوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ اس بچی کی شخصی آزادی و انفرادی حقوق پامال ہوگئے۔وہ بچی اپنی اس یادگار لمحے کی تصویر دیوار پر نہ ٹانگ سکے گی وغیرہ وغیرہ۔

سوال یہ ہے کہ اگر وہ بچی بورڈ میں نمایاں پوزیشن حاصل کررہی ہے تو وہ یقیناً کسی نا کسی ادارے کی طالبہ بھی ہوگی۔ وہ پیپر ز وغیرہ دینے کے لیے گھر سے باہر بھی گئی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا باپ اس حد تو روشن خیال ضرور ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو تعلیم حاصل کرنے کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کررہا۔ وہ اسے گھر میں قید نہیں کررہا۔ وہ بچی یقیناً مزید تعلیم بھی حاصل کرے گی اور شاید کسی ادارے میں جاکر حاصل کرے گی۔ یہ ساری باتیں ہمارے لبرلز کو نظر نہیں آتیں۔ انہیں نظر آتا ہے تو اس کا برقع۔ ان کو نظر آتا ہے تو وہ داڑھی والا ”دقیانوسی خیالات“ کا حامل باپ۔

کیا عجب وہ بچی وہ برقع اپنی مرضی سے لے رہی ہو۔ہمارے ہاں بہت ساری بچیاں اور خواتین اپنے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں والی جگہوں پر برقع اور حجاب کو استعمال کرتی ہیں اور یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے۔انھیں عموماً گھر سے کوئی مجبور بھی نہیں کرتابلکہ وہ اپنی مرضی سے یہ کرتی ہیں۔ جس طرح ایک عورت کو حجاب نہ پہننے کا فیصلہ کرنے کی آزادی ہے، اسی طرح ہمارے لبرلز کو ایک عورت کے  حجاب اوڑھنے کا فیصلہ کرنے کی آزادی بھی تسلیم کرنی ہوگی۔ جس طرح ایک مرد داڑھی نہ رکھنے میں آزاد ہے، اسی طرح ایک مرد کوداڑھی رکھنے پر تضحیک کا نشانہ بنانا بھی شخصی آزادی کی توہین ہے۔

ہمارے لبرلز کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ ہمارے کرکٹر زمذہبی ہوگئے ہیں، اس لیے ان کی کارکردگی خراب ہوگئی ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ہاشم آملہ، معین علی جیسے کرکٹر کٹر مذہبی نظریات رکھنے کے باوجود بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ ہمارے کرکٹر کی کارکردگی خراب ہونے کی وجہ مذہب نہیں بلکہ گروپنگ، ہڈحرامی اور سفارش ہے۔

فلسطین کے لوگوں پر ہونے والے مظالم پر دنیا بھر میں احتجاج ہورہے ہیں۔ اکثر جگہوں پر اس میں مسلم و غیر مسلم دونوں شامل نظر آتے ہیں۔فلسطین میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر جہاں مسلمان سراپا احتجاج ہیں وہاں یورپ کے لبرلز غیر مسلم بھی بھرپور طریقے سے احتجاج کررہے ہیں۔ اگر خاموش ہیں تو ہمارے”لوکل لبرلز“ خاموش ہیں۔ یہ خاموشی پراسرار بھی ہے اور افسوسناک بھی۔اس ضمن میں ہمارے مقامی لبرلز کیوں منہ بند کیے بیٹھے ہیں؟کیا وہاں شخصی آزادیاں پامال نہیں ہورہی ہیں؟کیا وہاں انسانی حقوق غصب نہیں ہورہے ہیں؟کیا وہاں عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جارہا؟ اہل فلسطین کے مسائل تو بیحد سنگین اور دردناک ہیں۔ کون سا ظلم ہے جو وہاں پر روا نہیں رکھا جارہا؟ اس پر ہمارے لبرلز کی خاموشی ناقابل فہم ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہمارے ہاں اگر مذہبی انتہاپسندی ایک سنگین مسئلہ ہے تو لبرل انتہاپسندی بھی بہت سارے مسائل کی وجہ بنتی ہے۔ملک میں کوئی بھی واقعہ ہوجائے، ہمارا لبرل طبقہ مذہب کو کوسنے لگتا ہے۔ہرانفرادی و اجتماعی حماقت کوبلاسوچے سمجھے مذہب کے کھاتے میں ڈال دیا جاتاہے۔لبرلزم کی کسی بھی تعریف میں مذہب بیزاری تو ہرگز نہیں لیکن ہمارے لبرلز کو خداجانے کیوں مذہب سے چڑ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں ہر طرح کے نظریات انتہا پسند ہوتے جارہے ہیں۔ ہم اپنی سوچ اور خیالا ت میں کٹر ہوتے جارہے ہیں۔ ہم دوسروں کو موقع دینے پر آمادہ ہی نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا ہمارے خیالات سے لازماً متفق ہو ورنہ اسے جینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔انتہاپسندی چاہے نظریات کی ہویا عمل کی، کسی طوربھی پسندیدہ نتائج کی حامل نہیں ہوسکتی۔عمل اور ردِعمل کا ایک سلسلہ ہے جو ہمارے منقسم معاشرے کو مزید تقسیم کررہا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کو سپیس دینی ہوگی۔ اگر ہم دوسروں تک اپنے نظریات پہنچانا چاہتے ہیں تو ہمیں بات چیت کرنی ہوگی۔ ہمیں دلائل کا سہارا لینا ہوگا۔جس طرح ہم یہ نہیں چاہتے کہ دوسرے ہم پر اپنے نظریات مسلط نہ کریں، اسی طرح ہمیں دوسروں کے نظریات، عقائد اور روایات کا بھی احترام کرنا ہوگا اور انھیں تضحیک اور حقارت کا نشانہ بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply