خاموشی/عامر حسینی

شہر کا نام *کوسمو* تھا—ایک ایسا شہر جو دن کی روشنی میں چمکتا اور رات کی تاریکی میں سسکتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں کے لوگ جینے کی کوشش کرتے تھے، مگر زیادہ تر اپنی زندگیوں کی چمک کو کھو چکے تھے۔ اسی شہر کے ایک گوشے میں، ایک قدیم عمارت کی چھت کے نیچے، ایک آدمی رہتا تھا جسے بہت سے لوگ جانتے تھے مگر بہت کم لوگ سمجھ پائے تھے۔
اس کا نام *زاہد* تھا—ایک کارٹونسٹ جس نے اپنے قلم کی نوک سے ملک کی ہر بڑی کہانی کو اپنی سچائیوں کے رنگوں میں پرویا تھا۔ اس کی تخلیقات نے آمریت کے سرد دور میں مزاحمت کی چنگاریاں بھڑکائیں، اور جمہوریت کے دعوے داروں کی کھوکھلی باتوں کو بے نقاب کیا۔ زاہد کے کارٹون ملک کے نامور اخبارات میں چھپتے رہے، لوگوں کے دلوں کو جیتتے رہے، اور اس کے قلم نے ہر دور کے حکمرانوں کو آئینہ دکھایا۔
مگر آج زاہد کی حالت کچھ اور تھی۔ اس کا دل بڑھ چکا تھا، گردے آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ رہے تھے، اور وہ برین ہیمرج کا شکار ہو چکا تھا۔ وہ اب بھی اپنے اسٹوڈیو میں بیٹھا تھا، مگر اس کے ہاتھوں میں وہ جوش اور توانائی نہیں تھی جو کبھی اس کے کام کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ زاہد کی آنکھیں، جو کبھی اس کے تخیل کی گہرائیوں کی عکاسی کرتی تھیں، اب یاسیت کے گہرے سائے میں ڈوبی ہوئی تھیں۔
زاہد کے اسٹوڈیو میں دیواروں پر لٹکے ہوئے کارٹونز اور پینٹنگز اس کے فن کے آخری دور کی نشانیاں تھیں—وہ دور جسے زاہد اپنے آخری کام کے طور پر دیکھتا تھا، جو اس کی موت تک جاری رہے گا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا وقت قریب تھا، اور اس نے اس حقیقت کو قبول کر لیا تھا۔ لیکن اس کے دل میں ایک خوف بھی تھا، ایک خوف جسے وہ بیان کرنے سے گھبراتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آج کا دور ماضی کی آمریت سے زیادہ خطرناک تھا، اور آج کے حکمرانوں کو عکاسی کے ذریعے بے نقاب کرنا خودکشی کے مترادف ہو سکتا تھا۔
زاہد ایک ایسی تنہائی کا شکار تھا جو اس کے دل کو کھوکھلا کر رہی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اسے ایک سازش کے تحت تنہا کر دیا گیا ہے، جیسے کسی نے اس کے ارد گرد کے تمام رشتے اور تعلقات کو ختم کر دیا ہو، اور اسے ایک ویران جزیرے پر چھوڑ دیا ہو جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ اپنی زندگی کے تمام اہم واقعات کا گواہ تھا، مگر انہیں بیان کرنے سے قاصر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اگر اس نے اپنی سچائیوں کو بیان کیا، تو وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو تباہ کر دے گا۔
راوی جب پہلی بار زاہد سے ملنے گیا، تو اس نے دیکھا کہ زاہد کے لہجے کی شوخی، جو کبھی اس کی شناخت تھی، غائب ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھیں، جو کبھی زندگی سے بھرپور ہوتی تھیں، اب یاسیت کے بوجھ تلے دب چکی تھیں۔ زاہد نے راوی کو اپنے جنم سے لے کر حال تک کی داستان سنائی، جس میں خوشبودار حسین عورتوں کا ذکر بار بار آتا تھا—عورتیں جو زاہد کے تخیل کا حصہ تھیں، جنہوں نے اس کی زندگی میں محبت کی خوشبو بکھیری، مگر حقیقت میں وہ سب خوابوں کا حصہ بن چکی تھیں۔
زاہد نے راوی کو بتایا کہ وہ اپنی وژول سوانح عمری لکھنا چاہتا تھا، مگر اس کے دل میں ایک خوف نے گھر بنا لیا تھا، جو اسے اپنے خیالات کو صفحے پر اتارنے سے روکتا تھا۔ “میں نے جو کچھ دیکھا، جو کچھ محسوس کیا، اسے بیان کرنا چاہتا ہوں، مگر مجھے لگتا ہے کہ اگر میں نے ایسا کیا تو میں زندہ نہیں رہوں گا۔” زاہد نے دھیمی آواز میں کہا۔
راوی نے زاہد کو تسلی دینے کی کوشش کی، مگر وہ جانتا تھا کہ زاہد کے دل میں خوف کی جڑیں گہری ہو چکی تھیں۔ زاہد نے ایک آخری نظر اپنی پینٹنگز پر ڈالی اور پھر راوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “جانتے ہو، یہ سب میری زندگی کا آخری باب ہے۔ میں نے ہمیشہ سچائی کو بیان کیا، مگر اب لگتا ہے کہ سچائی خود مجھ سے روٹھ گئی ہے۔”
راوی نے زاہد سے پوچھا، “اور تمہارا وژول سوانح عمری؟” زاہد نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “میں اسے کبھی نہیں لکھوں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں، یہ دنیا اس سچائی کو برداشت نہیں کر سکتی جو میرے اندر چھپی ہے۔” راوی خاموش ہو گیا، کیونکہ اس نے زاہد کے الفاظ میں وہ تلخ سچائی محسوس کر لی تھی، جو کسی بھی تخلیق کار کی سب سے بڑی اذیت ہوتی ہے۔
زاہد نے اپنے آخری الفاظ میں کہا، “میں نے ہمیشہ سچ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اپنے ہاتھوں سے اسے تخلیق کیا، مگر آج جب میرے پاس کہنے کے لیے سب سے زیادہ سچ ہے، میں خاموش ہوں۔ شاید یہی میری سب سے بڑی ناکامی ہے، یا شاید یہی میری سب سے بڑی کامیابی ہوگی—کہ میں نے سچ کو خود تک محدود رکھا، اور دنیا کو اس کے سامنے جھکنے پر مجبور نہیں کیا۔”
زاہد کی زندگی کے آخری لمحات میں، وہ خاموشی سے اپنے اسٹوڈیو میں بیٹھا رہا، اپنی تخلیقات کے درمیان، ان سچائیوں کے ساتھ جو کبھی اس کے قلم سے نکل کر دنیا کے سامنے آئیں، مگر اب وہی سچائیاں اس کے دل کے بوجھ بن چکی تھیں۔ اور پھر، جیسے وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا، اس کے اسٹوڈیو میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی—ایک ایسی خاموشی جس نے اس کے فن کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھ دیا، مگر اس کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبا دیا۔
آخرکار، راوی نے سوچا کہ شاید زاہد کی اصل طاقت اس کی خاموشی میں تھی۔ اس نے دنیا کو اپنی سچائیوں سے جیت لیا تھا، مگر اس کے اندر چھپی ہوئی سچائیاں، جو کبھی بیان نہ ہو سکیں، وہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا راز رہیں-
زاہد کے اسٹوڈیو کی خاموشی میں ایک گونج باقی تھی، جیسے اس کے الفاظ ابھی تک ہوا میں تیر رہے ہوں، اور اس کے تخلیق کردہ کارٹونز اور پینٹنگز، جو دیواروں پر لٹک رہے تھے، جیسے اس کی کہانی کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ راوی، جو زاہد کے آخری الفاظ کا گواہ تھا، اس خاموشی میں کچھ وقت بیٹھا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ زاہد کی زندگی کی یہ کہانی اب اس کی ذمہ داری بن چکی تھی، مگر وہ بھی زاہد کی طرح اس سچائی کے بوجھ کو محسوس کرنے لگا تھا۔
زاہد کی موت کے بعد، اس کے اسٹوڈیو کی خبریں میڈیا میں آئیں۔ لوگ اس کے فن کی تعریف کرتے رہے، اس کی زندگی کے آخری دور کو ایک عظیم تخلیقی سفر قرار دیتے رہے، مگر کوئی بھی اس گہرائی کو نہیں سمجھ سکا جو زاہد کے دل میں چھپی ہوئی تھی۔ اس کے کارٹونز اب بھی لوگوں کے درمیان گفتگو کا موضوع بنے رہے، مگر ان کی حقیقت کو کسی نے پوری طرح محسوس نہیں کیا۔
راوی نے زاہد کے اسٹوڈیو کا دورہ دوبارہ کیا، اور وہاں وہی خاموشی اور تنہائی پائی جو اس دن تھی جب زاہد زندہ تھا۔ اس نے زاہد کی آخری تخلیقات کو دیکھا، ان پینٹنگز اور کارٹونز کو جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئے تھے، اور اسے محسوس ہوا کہ زاہد نے اپنے کام میں ایک غیر مرئی پیغام چھوڑا تھا۔
ایک دن، جب راوی زاہد کے اسٹوڈیو کی صفائی کر رہا تھا، اسے ایک پرانی ڈائری ملی جو زاہد کے ذاتی کاغذات میں چھپی ہوئی تھی۔ اس ڈائری میں زاہد نے اپنی زندگی کے آخری سالوں کی روداد لکھی تھی، جس میں اس کی تنہائی، خوف، اور ان رازوں کا ذکر تھا جو اس نے اپنے دل میں چھپائے تھے۔
ڈائری کے آخری صفحات میں زاہد نے کچھ اور زیادہ ذاتی خیالات کو بیان کیا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ اس کی زندگی کے آخری لمحات میں وہ خود کو ایک ایسے خلا میں محسوس کرتا تھا جہاں کوئی آواز نہیں تھی، کوئی روشنی نہیں تھی، صرف ایک اندھیرا تھا جو اس کے وجود کو گھیر رہا تھا۔ مگر اس اندھیرے میں بھی زاہد نے ایک عجیب سی سکون محسوس کیا، جیسے وہ اپنی تمام زندگی کی جدوجہد کے بعد آخرکار خود کو تسلیم کر رہا ہو۔
زاہد نے اپنی ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا، “میں نے ہمیشہ سچائی کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کی، مگر شاید میں نے کبھی اسے مکمل طور پر نہیں سمجھا۔ اب جب میں اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ہوں، مجھے احساس ہو رہا ہے کہ سچائی کوئی خارجی چیز نہیں، بلکہ ایک داخلی کیفیت ہے۔ سچائی وہ ہے جو ہم خود سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، اور شاید اسی لیے میں اپنی سچائیوں کو کبھی بیان نہیں کر پایا۔”
راوی نے زاہد کی اس ڈائری کو پڑھ کر محسوس کیا کہ زاہد کی کہانی کا حقیقی پنچ لائن اس کے الفاظ میں نہیں، بلکہ اس کی خاموشی میں تھا۔ زاہد نے سچائی کو خود تک محدود رکھا، اور اس خاموشی میں وہ سچائی اتنی گہری ہو گئی کہ اسے بیان کرنا ممکن نہیں تھا۔
راوی نے زاہد کی ڈائری کو ایک جانب رکھ دیا اور اس کے اسٹوڈیو سے باہر نکل آیا۔ اس نے سوچا کہ شاید یہی زاہد کی اصل کامیابی تھی—کہ اس نے اپنی سچائی کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا، بلکہ اسے اپنے دل کی گہرائیوں میں محفوظ رکھا، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہے گی۔
زاہد کی کہانی ختم ہو چکی تھی، مگر اس کی سچائی ہمیشہ کے لیے اس کے فن میں چھپی رہی۔ راوی نے فیصلہ کیا کہ وہ زاہد کی کہانی کو لوگوں تک پہنچائے گا، مگر اس میں وہی خاموشی رکھے گا جو زاہد کی سچائی تھی۔ اور یوں، زاہد کی کہانی ایک ایسی کہانی بن گئی جس کا پنچ لائن خود راوی کے دل میں چھپا رہ گیا—ایک ایسی سچائی جو بیان کرنے کے بجائے ہمیشہ کے لیے خاموشی میں دفن ہو گئی۔

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply