ایک سال ہوسٹل نما عمارت میں گذارنے کے بعد جیسے ہی سیکیورٹی کلیرنس ہوئی ہم نے بھی بازار کے قریب ایک گھر ڈھونڈا اور اس میں منتقل ہوگئے گھر کا کورڈ ایریا تو کافی تھا لیکن مین دروازے سے باہر ساری جگہ کچی زمین تھی گیٹ سے گھر کے اندر آنے تک جوتوں سے لگ کر گرد جو گھر کے اندر آتی اس سے فرش پر ریت نما مٹی پھیل جاتی اس سے میرا دل بہت گھبراتا تھا اس کا کچھ حل سوچنا تھا دروازے کے آگے دو سٹیپ بنے تھے جن پر گھر کے باتھ رومز میں لگی ٹائلز کے بچے کھچے ٹکڑوں سے موزائیک کی طرح ڈیزائن بنا ہوا تھا جو بڑا خوبصورت لگتا تھا لیکن وہ بھی ہوا سے اڑتی دھول سے اٹا رہتا تھا کہ وہاں ہر وقت تیز ہوا چلتی رہتی کچے صحن میں گیٹ گے پاس مری مری کا بہت خوبصورت درخت تھا جس کے لمبے نوکیلے سبز پتوں میں چھوٹے بیروں کی شکل کے شوخ سرخ رنگ کے پھلوں کے لٹکتے ہوئے گچھے بہت بھلے لگتے تھے یہ پھل کڑوے اور کھانے کے قابل نہیں تھے اس درخت کے ایک مضبوط ٹہنے کے ساتھ بچوں کے لئے جھولا ڈال دیا گیا
اس گھر میں آنے کے تین چار ماہ بعد چھٹی پر پاکستان آئے تو واپسی میں ڈیلیا زینیا فلاکس اور کئی اور طرح کے پھولوں اور سبزیوں کے بیج ساتھ لے گئے سبزیوں کے بیج تو ملک صاحب نے زمینداروں میں بانٹ دئیے پھولوں کے بیج گھر کے لئے تھے وہاں عمارتیں بنانے کے لئے قدرتی پتھروں کا ذیادہ استعمال ہوتا تھا اس گھر کے مالکوں نے گھر تو بنا لیا تھا لیکن اس کے اطراف میں تعمیر کے دوران ٹوٹ کر گرنے والے پتھروں کے سنگریزے صاف نہیں کئے تھے چھٹی سے واپس آکر ہم نے گھر کا حلیہ سنوارنے کا تہیہ کر لیا سب سے پہلے مرحلے میں بچوں اور ملازمہ کو ساتھ لگا کر گھر کے اطراف بکھرے ہوئے سنگریزے اکٹھے کئے ملک صاحب نے دروازے کے سامنے بنی دو سیڑھیوں کے اطراف سے لے کر گیٹ تک کی پیمائش کرکے سیدھا راستہ بنا دیا ہم نے سنگریزوں کو دھوکر صاف کیا تو بہت خوبصورت پیلے سبز سفید اور نیلے رنگ نکھر گئے ان میں سے بڑے پتھروں کو دونوں طرف کناروں پر رکھ کر بارڈر بنایا اور درمیان میں چھوٹے سنگریزے بھر دئیے اس محنت کے نتیجے میں صدر دروازے سے گیٹ تک سنگریزوں کی روش بن گئی صحن میں ایک دم ایک ستھری سی تبدیلی آگئی دھلے دھلائے سنگریزوں کی چمک بڑی خوبصورت تھی مگر اس حسن کو دائیں بائیں کچی جگہ سے اڑتی دھول سے بچانے کا مرحلہ درپیش تھا ملک صاحب کے پاس باغبانی کے جدید سامان کی کٹ تھی اس میں سے اوزار نکال کر پتھروں کی روش اور مین دروازے کے دونوں طرف کیاریاں کھودی گئیں اور پاکستان سے لائے ہوئے پھولوں کے بیج نکال کر روش کے ایک طرف زینیا اور دوسری طرف ڈیلیا کے بیج بو دئیے اور دروازے کے دونوں طرف دیواروں کے ساتھ بنی کیاریوں میں دوسرے پھولوں کے بیج مکس کرکے لگا دئیے گئے اگرچہ ان سب پھولوں کے لگانے کا پاکستان میں موسم الگ الگ تھا مگر ہم نے سب اکٹھے ہی لگا دئیے کیونکہ وہاں سارا سال موسم یکساں رہتا تھا نہ ذیادہ ٹھنڈا نہ ذیادہ گرم تو ہم نے سارے بیج لگانے کا تجربہ کر لیا نیم پہاڑی علاقے کی مٹی بھربھری اور ہوا دار تھی روز پانی ملنے لگا تو اگلے دو ہفتوں میں بیجوں نے ننھے پودوں کی شکل میں زمین سے باہر سر نکال کر جھانکنا شروع کردیا اپنے پہلے تجربے کی کامیابی پر ہم بہت خوش ہوئے پودے دن بدن بڑھتے گئے اور دو اڑھائی ماہ کی محنت اور دیکھ بھال نے گھر کے صحن کو گل و گلزار کردیا کیاریاں رنگا رنگ پھولوں سے بھر گئیں ڈیلیا اور زینیا نے وہ قد کاٹھ نکالا کہ کہیں ایسا دیکھا نہ تھا اس زمین میں پہلی بار کوئی بیج ڈالے گئے تھے اس لئے طاقتور زمین اور مناسب آب و ہوا میں پھولوں کا اتنا بڑا سائز اور بے حد شوخ اور چمکیلے رنگ پاکستان میں مری اور اسلام آباد کے سوا کہیں نہ دیکھے تھے بلکہ ڈیلیا اور زینیا کا قد پتوں اور پھولوں کا سائز اور رنگ تو بہت غیر معمولی تھے پتھروں کی روش کے دونوں طرف ان پھولوں کی باڑ بن گئی تھی جو مکس کلرز کے پھولوں سے لدی بہت حسین لگتی تھی دوسری کیاریوں میں کھلے پھول الگ ہی بہار دکھا رہے تھے صحن کا باقی جو کچا حصہ بچ گیا تھا وہاں ہم روزانہ پانی کا چھڑکاؤ کردیا کرتے گھر کی مالکن ایک معمر اور چڑچڑے مزاج کی خاتون تھیں جب ایک بار اپنے گھر کا جائزہ لینے آئیں تو اس وقت ہر بات پر ناک بھوں چڑھاتی رہی تھیں بچوں کو بالکل پسند نہ آئی تھیں اس بار آئیں تو ہمارے خوبصورت گلستان نے انکے قدم باہر ہی روک لئے مٹی سے اٹےصحن کو چمنستان بنا دیکھ کرحیران ہو رہی تھیں ہمارے لئے ان کی آنکھوں میں ستائش تھی چہرے کی کرختگی بھی نرمی میں بدل گئی
ان دنوں جو مہمان بھی ہمارے گھر آتا ہمارے پھولوں کو دیکھ کر خوش ہوتا بچے درخت پر ڈالے جھولے پر جھولتے اور خوش ہوتے
یہ ہماری اور ہمارے بچوں کی مشترکہ محنت تھی جس نے گھر کو رنگ و بو کا گہوارہ بنا دیا اس میں وہاں کے موسم کا بھی بڑا حصہ تھا نہ سرد کہرے سے پودے ٹھٹھرے نہ گرم لو نے انہیں جھلسا یا موافق آب و ہوا نے پھولوں کی زندگی اور تر و تازگی دیر تک قائم رکھی۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں