اسلام کے سیاسی نظام میں اخلاقیات کی اہمیت/آغر ندیم سحرؔ

جب معاشرے کے مسیحا، سماج سدھار کی بجائے سماج بگاڑ کا باعث بننے لگیں، جب اپنے منتخب کردہ نمائندے ایوانوں میں بیٹھ کر اپنے ہی لوگوں کے حقوق غصب کرنے لگیں، جب محافظ ہی ڈاکہ زنی پر اتر آئیں اور مبلغین و دانشور تشکیلِ نو کی بجائے تخریب کاری پر اتر آئے تو سماج خوفناک صورت اختیار کر جاتا ہے۔ ایسے میں ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں اور علمائے کرام سمیٹ سماج سیوک کے علم برداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے معاشرے کی تشکیل نو میں اپنا کردار ادا کریں۔

جس ملک کی چھہتر سالہ تاریخ، انگریز استعمار سے بھی بدتر ہو، جہاں کا نام نہاد جمہوری نظام بھی آمریت کی گود میں بڑا ہوا ہو، وہاں ایوانوں میں بیٹھنے والوں سے اخلاقیات کی توقع فانوسِ خیال کے سوا کچھ نہیں۔

آپا حمیدہ شاہین، ایک بلند پایہ تخلیق کار ہیں، انھوں نے اپنی نئی کتاب “اسلام کے سیاسی نظام میں اخلاقیات کی اہمیت” میں اسلام کے سیاسی نظام کی برکتوں پر بھی روشنی ڈالی ہے اور پاکستان جیسے پس ماندہ اور فرسودہ نظام رکھنے والے ممالک میں اخلاقی قدروں کی پامالی پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔

یہ واقعی ایک نیا موضوع ہے، ہم صحافی صبح و شام اس پر بات کرتے ہیں کہ سیاست دانوں کو تہذیب اور شائستگی کا دامن تھامنے کی اشد ضرورت ہے مگر ہمارا نظام ایسا بنا دیا گیا ہے کہ اس سے خیر، بھلائی اور اخلاق کی توقع ناممکن نہ سہی، مشکل ضرور ہے۔

آپا حمیدہ شاہین نے حضرت سر سید احمد خان کی طرح پاکستان کے اندرونی و بیرونی انتشار کی وجہ تلاش کی اور اسے ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا، یہ امر قابلِ تحسین بھی ہے اور قابلِ توجہ بھی۔

ہمارے شعراء ایسے موضوعات پر بہت کم بات کرتے ہیں، انھیں لگتا ہے کہ ہم صرف خیالی پلاؤ بنانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں، سماج سدھار کا کام ہمارا مسئلہ نہیں حالانکہ یہ ایک پست خیال ہے۔ قلم کار کسی بھی معاشرے کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے، اس کا لکھا سماج کی بہتری میں بہت بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔

لہذا ہمارے قلم کاروں، استادوں، شاعروں اور واعظوں کو معاشرے کی قدروں کو بہتر بنانے، سماج کی تعمیرِ نو اور سیاسی نظام کی تشکیلِ نو کے لیے اپنا منفرد کردار ادا کرنا ہوگا، یہی واحد طریقہ ہے جس سے ہم اپنی نسلوں کو ایک بہتر پاکستان دے سکتے ہیں۔

جمہوری نظام کہ مضبوطی اور ایوان کی بالادستی میں اخلاقی رویوں کی کتنی اہمیت ہے، ہم سب جانتے ہیں، ان قدروں پر مکالمے کی ضرورت ہے جس کا آغاز آپا حمیدہ شاہین نے کیا، میں آپا کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ یہ کام ہم سب قلم کاروں کا کرنے کا ہے، جو انھوں نے کیا۔ ہم سب کو ان سے سبق دیکھنا چاہیے۔

Advertisements
julia rana solicitors

میں آپا حمیدہ شاہین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو مجھ ناچیز کو اتنی اہم کتاب ارسال کی۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply