کیکر کا درخت/فرزانہ افضل

آج کل پاکستان بھر میں جو “ہلچل” مچی ہوئی ہے اس کے جھٹکے اوورسیز پاکستانیوں کو بھی شدت سے لگ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دائیں بازو اور بائیں بازو کے نظریات والے لوگوں کے درمیان ایک جنگ سی چھڑی ہوئی ہے، بائیں طرف والے لوگ ہتھیاروں سے لیس تنقیدی نشانے کر رہے ہیں مگر دائیں بازو والے بھی کم نہیں ،وہ بھی ان کی پوسٹوں پر جا کر بم پھینکتے ہیں، یعنی خوب مقابلہ بازی ہو رہی ہے۔ مگر اس پوری سچویشن کو اگر کوئی لوگ انجوائے کر رہے ہیں تو وہ ہیں ایتھی ایسٹس یعنی ملحدین ، آسان اردو میں جو لوگ کسی مذہب کو نہیں مانتے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ بھئ یہی ہے اسلام ، جو ڈاکٹر ذاکر نائیک بیان کر رہے ہیں وہ اسلام کو ایک جابرانہ اور شدید سخت قسم کے مذہب کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اس لیے تو ہم اس کو مانتے نہیں۔ اور ڈاکٹر صاحب نے پاکستان میں اپنے جلسوں میں سوال و جواب کی نشست کے دوران لوگوں سے جو جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ خصوصا ًنوجوان نسل کو دین سے متنفر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے 12 لاکھ غیر مسلم افراد کو مسلمان تو کیا مگر ڈر اس بات کا ہے کہ ان کی پاکستان کی حالیہ تقریروں اور رویے کی وجہ سے کئی مسلمان دین اسلام کو ماننا چھوڑ دیں۔ کافروں کو تو مسلمان کر دیا مگر اس وقت جو حرکتیں کر رہے ہیں وہ مسلمانوں کو غیر مسلم میں تبدیل کر دینے والی ہیں۔

سب سے پہلا واقعہ تو سویٹ ہوم میں بچیوں کو شیلڈ دینے سے انکار کرنے پر مبنی تھا جس کا جواز ڈاکٹر نائک نے یہ پیش کیا کہ وہ نامحرم بچیوں کو چھونا نہیں چاہتے تھے اس لیے سٹیج سے اتر گئے وہ آرگنائزر کو صاف کہتے ہوئے سنائی دیئے “دیئر از نو مکسنگ آف جینڈر” ہم سب نے ویڈیو میں یہ دیکھا۔ مگر ان کے چاہنے والوں نے، جو نہ یہ دیکھ پائے نہ سن پائے ، ان کے اس قدم پر پردہ پوشی کے لیے عذر دیا کہ ان کو اگلے پروگرام پر جانا تھا اور وہ پہلے ہی سویٹ ہوم کے پروگرام میں 30 منٹ لیٹ ہو گئے تھے اس لیے وہ سٹیج سے اتر گئے کہ شیلڈ دینا اس کا حصہ نہ تھا۔ معصوم بچیوں کو شیلڈ پکڑانے میں کب چھونے کی نوبت آتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان یتیم بچیوں کی ایک طرح سے بےعزتی کی، اور ان کو لڑکوں سے کمتر گردانا۔ کیونکہ لڑکوں کو سٹیج سے نیچے اتر کر شیلڈ دی گئی۔ انہیں چاہیے تھا کہ لڑکیوں سے بھی برابری کا سلوک کرتے۔ اس کے بعد ایک پروگرام میں پیڈو فیلیا یعنی بچوں سے زیادتی کے بارے میں سوال کرنے والی لڑکی کو ڈانٹ دیا الٹا اس کو  معافی مانگنے کو کہا کہ تمہارا سوال ہی غلط ہے۔ صاف ظاہر تھا کہ یا تو انہیں اس مسئلے کا حل یا جواب معلوم نہیں اور یا وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔ اگر ایسا تھا تو بات کو ٹالنے کا یہ طریقہ نہ تھا کہ بھرے مجمع میں ایک خاتون کی انسلٹ کریں۔

ایک اور موقع پر ایک ٹرانس جینڈر کو تمسخرانہ انداز میں چھکا کہہ دیا، اگر موصوف مغرب کے کسی ملک میں ہوتے تو ان پر قانونی کاروائی ہوتی۔ خیر برطانیہ اور امریکہ میں تو یہ ویسے ہی بین ہیں۔

اینکر فریحہ کے ساتھ انٹرویو میں عورت کے کام کرنے کے حوالے سے بہت سی پابندیاں بیان کیں۔ جو کہ اس قدر غیر حقیقی ہیں یعنی عورت مردوں کے ساتھ کام نہیں کر سکتی اگر کرے تو فل حجاب یا نقاب میں کرے، اور شوہر یا باپ یا بھائی کی اجازت کے بنا کام نہیں کر سکتی۔ موصوف جس دین کا  پرچار کر رہے ہیں ہم بھی اسی دین کو مانتے ہیں ۔ ہمارے علم کے مطابق تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ بین الاقوامی سطح پر تجارت کرتی تھیں اور رسول پاک خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے پاس ملازمت کرتے تھے۔ اور حضرت خدیجہ کے دل کو رسول پاک کی خوبیاں بھا گئیں اور انہوں نے ان کو خود پروپوز کیا ۔ اس طرح کے اور واقعات بھی احادیث میں ملتے ہیں۔ جنگوں کے دوران صحابی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی تھیں اور زخمیوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کے فرائض انجام دیتی تھیں۔ جہاں تک پردے کا سوال ہے تو اسلام میں چہرہ ڈھانپنے کا کہیں بھی حکم نہیں ہے، ہاتھ اور پیر بھی کھلے رہتے ہیں۔ باقی جسم ڈھانپنے کا حکم ہے۔ جو عورتیں بیوہ، مطلقہ، یا جن کی شادی کسی وجہ سے نہ ہو سکی ہو، ان سب کو بازاری عورتیں یا پبلک پراپرٹی کا ٹائٹل دے دیا۔ میری نانی اماں جو جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی تھیں، انہوں نے شوہر کی وفات کے بعد وسیع و عریض رقبے کی زمینوں کو سنبھالا کیونکہ دو بیٹے ملک سے باہر تھے، اور کچھ بیٹیوں کی شادی ابھی ہونا باقی تھی، انہوں نے تمام فرائض نہایت شاندار اور باعزت طریقے سے انجام دیئے۔ مجھے کچھ یاد پڑتا ہے، جب میں نانی جان جنہیں ہم سب ماں جی کہتے تھے، اپنے بڑے سے حویلی نما گھر میں ایک خوبصورت تخت پر براجمان ہو کر مزارعوں کے ساتھ فصلوں کا حساب ، آڑھت  کا حساب ، منڈیوں کا بھاؤ کرتے دیکھتی تھی تو دل ہی دل میں بہت متاثر ہوتی تھی۔ وہ بہت مضبوط عورت تھیں اور تمام مزارعوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ان کا بہت حسن سلوک تھا۔ اور میری امی اور خالاؤں نے ہم بچوں پر یہ لازم کیا تھا کہ ہم مزارعوں کو ماموں اور ان کی بیویوں کو ممانی کہیں ۔ اس وقت یہ لکھتے ہوئے احساس ہو رہا ہے کہ شاید کہیں نہ کہیں ماں جی میری رول ماڈل تھیں۔

کچھ مجبور بیواؤں کے ایسے حالات ہوتے ہیں کہ انہیں چھوٹی بڑی کسی بھی قسم کی نوکری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا پڑتا ہے اور ڈاکٹر صاحب کو اس بات کا خیال نہیں کہ ہمارے معاشرے میں تنہا عورت یعنی بیوہ اور طلاق یافتہ کا کوئی پُرسان حال نہیں ہوتا۔ مشکل حالات میں اپنے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ بلکہ طلاق لینے والی عورت کو تو اس کے خاندان والے اکثر اوقات صاف کہہ دیتے ہیں کہ اپنی ذمہ داری پر علیحدگی لینا، اور اگر بد قسمتی سے ایسی لڑکی یا عورت والدین کے گھر آ کر بیٹھ جاتی ہے تو اس کے اپنے ہی بھائی بھابھی حتی کہ والدین بھی اس سے بیزار ہو جاتے ہیں اور اس کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ تو ان حالات میں وہ عورت اپنے گھر والوں سے کام کرنے کی اجازت مانگتی پھرے گی جو پہلے ہی اس کی ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتے تھے۔ پھر ڈاکٹر صاحب عورتوں کو شادی شدہ مرد سے نکاح کرنے یعنی دوسری بیوی بننے کی صلاح دے رہے ہیں۔ عرب ثقافت میں ایسا عام ہے کیونکہ وہ چار بیویوں کے ساتھ برابر کا انصاف مالی لحاظ اور وقت کے لحاظ سے کر سکتے ہیں اور ان کے کلچر میں یہ طریقہ ہمیشہ سے رائج ہے اس لیے قابل قبول ہے۔ مگر عرب ملکوں کو چھوڑ کر پاکستان یا مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے آج کے سوشل سسٹم میں یہ ممکن ہے؟ جن لوگوں نے دو شادیاں کی ہیں کیا وہ ان سے انصاف کر پائے ہیں اور کیا ایسی شادیوں میں تمام فریقین خوش رہ پائے ہیں۔؟ ایسی شادیاں جہاں بھی ہوئی ہیں جوتوں میں دال ہی بٹی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

واہ ڈاکٹر ذاکر نائیک! آپ تو بہت بڑے معلم ہیں اتنی سی بات نظر نہیں آتی۔ پولیگیمی یعنی ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا آج کے دور میں معاشی اعتبار اور جذباتی دونوں طریقوں سے ممکن نہیں۔ جی این این کے اسی انٹرویو جس کا ذکر پہلے کیا ہے ، میں ارشاد فرما دیا کہ اگر ٹیلی ویژن اینکر خاتون ہوگی اور اس کو 20 منٹ تک دیکھنے پر کسی مرد کے اندر ہلچل نہیں ہوگی تو اس کے اندر یقیناً کوئی نقص ہے اسے چاہیے کہ وہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروائے ۔ یعنی ہر مرد کا ایمان اتنا کمزور ہے جذبات اس قدر ہچکولے کھاتے رہتے ہیں۔ لگتا ہے ڈاکٹر صاحب کا یہ ذاتی تجربہ ہے۔ ایسے تو خواتین دنیا کے ہر شعبے میں برابر کا کام کر رہی ہیں تو کیا ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام مرد حضرات کے ہارمونز ہر وقت ہائی پر رہتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالی نے مرد اور عورت دونوں میں جنسی ہارمونز ڈالے ہیں تو پھر یہ بھی  ممکن ہے کہ عورتوں کے جذبات بھی مردوں کو دیکھ کر مچلتے ہوں۔ اور اگر ٹی وی دیکھنے کی مثال ہے تو پھر ڈاکٹر نائک کے اسلامی قوانین و ضوابط کے مطابق عورتوں پر ٹی وی دیکھنا ممنوع قرار دے دینا چاہیے کیونکہ وہاں پر مرد اینکر آتے ہیں۔ پاکستان کے معاشرے میں پہلے ہی خواتین سے متعلق اس قدر بد گمانی ہے ڈاکٹر ذاکر نائیک اس میں ڈھیروں ڈھیر اضافہ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو چاہیے تھا کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے پاکستان کے سوشل سسٹم کو یا سماجی نظام   میں بہتری لانے کی تلقین کرتے اور عوام کو اس لحاظ سے نصیحت اور تجاویز دیتے۔ انہوں نے عورتوں اور مرد کی  برابری کی کوئی بات نہیں کی، اپنے قول و فعل سے عورتوں کو کمتر قرار دیا ،یہاں تک کہ غیر شادی شدہ کو پبلک پراپرٹی کا ٹائٹل دے دیا۔ عورتوں کے وجود کو صرف جنسی تسکین کے سانچے میں تولا ،اسی لیے ان پر اتنی پابندیوں کی بات کی۔ پاکستان میں زیادتی اور ریپ کیسز عام ہیں ان کے بارے میں مردوں کو خدا خوفی دلاتے اور آخرت کے عذاب سے ڈراتے۔ لاکھوں کروڑوں لوگ ان کی بات سنتے ہیں تو منفی باتوں کی بجائے مثبت باتیں کرتے ، بچیوں کی تعلیم کی ترویج کرتے ، خود بتا رہے ہیں کہ میں تو اربوں روپے کے گھر میں رہتا ہوں، اور لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ آخرت کی فکر کرو دنیا میں کچھ نہیں۔ اپنے ملینز فالورز کا گھمنڈ ہے کہ ایک سوال کرنے والے عام شخص کو چیلنج کر رہے ہیں کہ پہلے اتنے فالورز لے کر آؤ پھر مجھ سے بات کرنا۔ بادشاہی مسجد میں واجد کے گندم کے بارے سوال کا  جواب   چنا دیا۔ اصل میں انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ پہلے سے سوال لیتے اور ڈاکٹر صاحب کو پہنچاتے تاکہ ڈاکٹر صاحب پروگرام سے پہلے اس کی تیاری کر لیتے ۔ جب ڈاکٹر صاحب کو جواب نہیں آتا تو بھڑک اٹھتے ہیں اور اگلے بندے کی بےعزتی کر دیتے ہیں۔اتنا بڑا عالم اور مقرر جس کے لاکھوں کروڑوں فالورز ہوں، پبلک کے کسی بھی عام مرد یا عورت سے مقابلے پر اتر آتا ہے۔ اور کافی نچلے درجے کی زبان بھی استعمال کرتے ہیں کہ آپ کو شرم نہیں آتی، شرم کریں، معافی مانگیں، وغیرہ وغیرہ۔ ان کا انداز گلی میں کھڑی ہو کر لڑنے والی محلے کی اَن پڑھ عورتوں کا سا ہے۔ جب اس درجہ جارحانہ اور بدتمیزانہ انداز گفتگو ہوگا تو کون آپ کی بات کا اثر لے گا۔ ڈاکٹر صاحب تنگ دل اور تنگ نظر واقع ہوئے ہیں۔ اتنا علم حاصل کرنے کے باوجود روشن خیالی نہیں آئی ۔ کہتے ہیں جس پیڑ پر زیادہ پھل لگتا ہے، اس کی شاخیں جھکی رہتی ہیں۔ مگر ڈاکٹر صاحب پھل دار درخت کی نسبت کیکر کے درخت زیادہ معلوم ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائک جو ایک متنازع  شخصیت ہیں اور ان پر بھارت کی جانب سے منی لانڈرنگ کا چارج ہے اور نفرت انگیز تقریروں کے ذریعے نوجوانوں میں انتہا پسندی پھیلانے کا الزام ہے، بھارت نے ان کا پاسپورٹ کینسل کر دیا تھا اور وہ انڈیا سے مفرور ہو کر ملیشیا میں رہائش پذیر ہیں۔ پاکستان نے ان کو عزت دی مگر صاحب پاکستانی انٹرنیشنل ایئر لائن کو ہی لتاڑ گئے۔ اور کہہ گئے کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی نہیں، چیف منسٹر مریم نواز کیا ہوگا آپ کا۔ اور بلائیں ایسے مہمان۔ پاکستان نے ان کو سٹیٹ گیسٹ کے طور پر ایک مہینے کے دورے کی دعوت دی جب کہ ملک میں بدامنی کی صورتحال ہے ۔ یہ ایسے مذہبی انتہا پسند کو بلوانے کا قطعی نامناسب وقت تھا۔ شاید عوام کی توجہ ملک کے سیاسی مسائل سے ہٹانے کے لیے یہ فیصلہ لیا گیا۔ دو ہفتے تو گزر چکے ہیں جن میں کافی ہلچل مچ چکی ہے، اب باقی کے دو ہفتے خدا خیر ہی کرے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply