اردو شاعری کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ایسے شاعروں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جنھوں نے سماجی تغیرات اور معاشرتی مسائل اور جبر کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ مرد لکھنے والوں کے ساتھ خواتین بھی اس میدان میں پیش پیش رہیں۔خواتین نے جہاں اپنے ذاتی دکھوں اور تجربات کو اپنی شاعری میں سمویا،وہیں نسرین انجم بھٹی،ثمینہ راجہ،کشور ناہید،زاہد حنا اور فہمیدہ ریاض بھی نظر آتی ہیں، جنھوں نے محض اپنا دکھ نہیں لکھا بلکہ سماج کی ہر اس عورت کو موضوع سخن بنایا جو سماجی اور معاشرتی پابندیوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ایک ایسی عورت جس کی آواز کوئی سن نہیں رہا تھا،جس کا دکھ کوئی لکھ نہیں رہا تھا،اس کا دکھ اور کرب ان شاعرات نے لکھا۔
موجودہ ادبی منظر نامے پر ایک اور نام جگمگا رہا ہے جس نے پیش رئووں کی سنت کو زندہ کیا اور عورت کے درد کو اپنا موضوع بنایا،اس شاعرہ کا نام حمیدہ شاہین ہے۔حمیدہ شاہین کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے دیگر درجنوں خواتین شاعرات کی طرح واویلا نہیں مچایا،نہ ہی ’’تانیثی کارڈ‘‘کھیلا بلکہ انھوں نے اپنی شناخت ایک ایسی شاعرہ کی بنائی جو اپنی تہذیب،مشرقی ثقافت اور ماحول سے پوری طرح واقف ہے۔مجھے ان کی شاعری پڑھتے ہوئے ایک دفعہ بھی ایسا نہیں لگا کہ حمیدہ شاہین خاتون ہونے کا فائدہ اٹھا رہی ہیں یاپھر نسائی ووٹ کے ذریعے ادبی وقار حاصل کرنا چاہتی ہے،ان کا مسئلہ نسائی آوازوں سے بہت الگ ہے،یہ مرد کو حاکم تصور کرتی ہیں مگر اس کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس بھی دلاتی ہے۔یہ ایسی مردانہ حاکمیت کی قائل نہیں جہاں عورت کا وجود بے معنی ہو جائے یا پھر جہاں عورت ایک ’’سیکس سمبل ‘‘سمجھی جائے ۔حمیدہ شاہین نے اپنی حاکمیت یا اپنا وجود منوانے کے لیے مرد کا کردار کہیں بھی داغ دار نہیں کیا،ورنہ ہمارے ہاں نسائی آوازوں میں یہ رویہ پوری شدت سے موجود ہے۔ایسی شاعرات کو بھی قومی تسلیم کیا گیا جن کے ہاں مرد کی حاکمیت کو گالی تصور کیا گیا اور عورت کی طاقت اور وقار بحال کرنے کے لیے مرد کو ہوس پرست اور وحشی قرار دیا گیا۔حمیدہ شاہین کی شاعری کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ انھوں نے رو دھو کر ہمدردی نہیں سمیٹی،نہ ہی انھوں نے مرد کی انا کو پائوں تلے روندا اور اس کا تمسخر اڑایا بلکہ ’’دستک ‘‘سے لے کر’’ آر پار‘‘ تک،حمیدہ شاہین نے اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔آپ نے اپنے عہد کی عورت کو بھی احتجاج کرنے، چیخنے اور چلانے سے منع کیا اور اسے اپنی طاقت کو دریافت کرنے کا مشور دیا،بالکل ایسے ،جیسے ان کا اپنا کلام ایک عورت کی داخلی کیفیات کا آئینہ دار ہے۔
حمیدہ شاہین کے ہاں ایسے ڈھیروں اشعار ہیں جن میں عورت ایک اعلیٰ مرتبے پر فائز ہے۔حمیدہ شاہین نے عورت کے وجود کو ایک نئی معنویت دی،اسے زندگی کو مسخر کرنے کے نئے طریقے بتائے۔وہ عورت جس نے خارجی جبر سے اپنی داخلی دنیا کو خود ہی برباد کر ڈالا تھا،حمیدہ شاہین نے اسے ازسرنو دریافت کرنے کا ہنر سکھایا۔دور گائوں کی پگڈنڈیوں پر دوڑتی،اپنے خواب ہوا میں اچھالتی معصوم لڑکی کو جدید زندگی کے اسرار بھی سکھائے اور اسے شہر کی چکا چوند دنیا کے ذائقے سے بھی روشناس کروایا۔حمیدہ شاہین نے روایت سے انحراف کیے بغیر ،اپنا راستہ بنایا،ان کی زمینیں بھی اپنی ہیں اور غزل کی عمارت بھی۔ان غزلوں کی ایک واضح پہچان سادگی و پرکاری ہے،ان کے یہاں الفاظ و تراکیب کے انتخاب و استعمال میں ایک خاص رکھ رکھائو اور احساس ِ حسن پایا جاتا ہے،علامتی و استعاراتی نظام بھی چونکا دینے والا ہے۔
حمیدہ شاہین نے اپنی غزل کے منظرنامے کو حیرت انگیز تصویروں اور خوش نما رنگوں سے زیب و زینت عطا کی ہے۔آپ نے پامال لفظیات،پٹی ہوئی تراکیب،بوسیدہ استعارات و تشبیہات اور پژمردہ علامتوں کو اپنے فکر کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اپنی فکر کے شایان شاں نئے تکنیکی سانچے وضع کیے،یہی وجہ ہے کہ ان کے منفرد لہجے نے جہاں نغمگی،غنائیت اور ترنم کے ذریعے تفکر و سنجیدگی پیدا کی ،وہیں تنوع اور جدت بیان نے ان کے کلام کو مزید چمک عطا کی۔ حمیدہ شاہین نے اپنی شاعری میں لسانی تجربات بھی کیے اور موضوعاتی و اسلوبیاتی بھی،انھوں نے اپنے داخلی و خارجی ارتقا کو رکنے نہیں دیا،یہ ارتقا ان کے شعری جہاں کو مزید روشن کر رہا ہے،ان کے ہاں موضوعات کا تنوع بنیادی طور پر ان کے کثیر المطالعہ ہونے کی دلیل ہے۔کوئی بھی قلم کار اس وقت تک اچھا اور بڑا ادب تخلیق نہیں کر سکتا،جب تک وہ اپنے عہد کے ادب سے پوری طرح واقف نہ ہو۔حمیدہ شاہین کی شاعری اور ان کے تنقیدی مضامین اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ اپنے گردوپیش سے ناواقف نہیں،انھوں نے روایت اور جدت سے ناطہ برقرار رکھا ہے،وہ لکھنے کے ساتھ ساتھ مسلسل پڑھ بھی رہی ہیں،آپ نئی بات کہنا جانتی ہیں اور یہ بھی ارتقائی عمل کے ذریعے ممکن ہوا،’’دستک‘‘ ،’’دشت ِوجود‘‘ اور’ ’ آر پار‘‘،یہ تینوں کتب اس بات کی گواہ ہیں کہ آپ کی شاعری کے موضوعات جہاں ان کے اطراف اور خارج سے متعین ہوئے ہیں،وہیں انسان کی داخلی و خارجی کیفیات اور پیچیدگیاں بھی ان کا موضوع ہیں،آپ نے اپنے اندر اور باہر جو بھی تبدیلی محسوس کی،اسے شعری قالب میں ڈھالا۔
حمیدہ شاہین کے ہاں تخیل کی فراوانی اور تخلیقی قوت جس جمالیاتی ہیئت میں ڈھلتی ہے،اس سے انسان کو قوت اور حوصلہ ملتا ہے،آپ نے زندگی کے تلخ تجربات کا اظہار کہیں علامتی انداز میں کیا اور کہیں واشگاف ۔مادی ترقی نے انسان کو جس انتشار اور جنگ سے دو چار کیا ہے،اس میں انسان اپنی شناخت کھو چکا،حمیدہ شاہین کی شاعری اس شناخت کی تلاش بھی ہے یعنی انسان کی تلاش،وہ انسان جس کی آنکھیں شہر کی چکا چوند زندگی اور سائنسی ایجادات کی کثرت سے چوندھیا گئی ہیں۔حمیدہ شاہین ان آنکھوں کو بھی دیکھنے کی سکت اور حوصلہ عطا کرتی ہے۔حمیدہ شاہین نے اپنے موضوعات،ڈکشن اور اسلوب کی وجہ سے خواتین ہی نہیں مردوں کے لیے بھی ایک نیا ٹرینڈ سیٹ کیا،مجھے یہ بات کہنے میں ذرا تامل نہیں کہ خواتین سمیت ہمارے بہت سے سینئر لکھنے والے بھی حمیدہ شاہین جیسا شعر کہنا چاہتے ہیں،یہ کامیابی اور قوت انھوں نے اپنی ریاضت سے کمائی ہے،خدا ن کی علمی و ادبی ریاضت میں مزید برکت پیدا کرے،آمین۔
آخر میں صرف ایک شعر ملاحظہ کیجیے:
جہاں میں نیند بناتی ہوں وہ جگہ اک دن
چمک پڑی تو سبھی کچھ نہ خواب ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(یہ مضمون یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں سجائی گئی حمیدہ شاہین کے اعزاز میں ایک شام میں پیٹھا گیا تھا۔)
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں