کہانی کی دنیا میں ناصر عباس نیر کا پہلا پڑاؤ “خاک کی مہک” تھا۔ اس مجموعے نے ان کے قارئین کو اس لیے حیران کیا تھا کہ وہ بہ ظاہر پہلی بار کہانی کار کے طور پر سامنے آئے تھے۔ حالاں کہ انھوں نے لکھنے کا آغاز کہانی سے ہی کیا تھا۔ اس دور میں لکھی گئی ان کی کچھ کہانیاں ملک کے ممتاز رسائل اور ڈائجسٹوں میں شایع بھی ہوئی تھیں لیکن بعد ازاں انھوں نے کہانی سے اپنی محبت ترک کرنے کی بجائے اسے دل میں موجزن کیا اور تنقید کے میدان میں اترے اور عصر حاضر کے شہ سوار قرار پائے۔ گزشتہ محبت نے انگڑائی لی تو ایک بار پھر اپنے قلم کو کہانی کی سمت موڑا اور اپنے قارئین کو ایک دو نہیں پانچ افسانوی مجموعے “خاک کی مہک”، ” فرشتہ نہیں آیا”، “راکھ سے لکھی گئی کتاب”، “ایک زمانہ ختم ہوا ہے” اور “جب تک ہے زمین”کی صورت میں مطالعاتی سرشاری عطا کی۔ اور اب ان تمام کہانیوں کو ایک ضخیم مجموعے کی صورت میں یکجا کر دیا ہے۔
“خاک کی مہک” نیر صاحب کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ کسی صنف میں لکھی جانے والی پہلی کتاب اس کے مصنف کے لیے ایک آزمائش ہوتی ہے اور بالخصوص اس مصنف کے لیے جس نے تنقید میں اپنی شناخت قائم کر لی ہو اور اب وہ تخلیق کی وادیوں میں گھومنا چاہتا ہو۔ چناں چہ ایسے مصنف پر ذمہ داری کا بوجھ زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ اس سے عہدہ برآ ہونے کی سکت اور ہمت و حوصلہ بھی رکھتا ہو۔ تو یقیناً وہ یہاں بھی اپنے قارئین کو مایوس نہیں کرتا۔ پہلے مجموعے کا خمیر ایسی خاک سے اٹھایا گیا ہے جو مصنف کے گھر، گاؤں، شہر، وطن، ارض اور وجودِ انسانی کی خاک ہے جو دراصل لفظ خاک کی معنوی توسیع ہے۔ ان افسانوں میں انسانی وجود سے متعلق سوالات، انسانی نفسیات کی گہرائی اور گیرائی اور سیاسی و سماجی گھمبیرتا کو آشکار کیا گیا ہے۔
کسی ایک ہی صنف میں دوسری کتاب لکھنا مصنف کے لیے دہری ذمہ داری کا موجب بنتی ہے۔ اس کے لیے پہلا اور بنیادی جواز تکرار اور اعادہ سے کنارہ کش ہونا ہے۔ نیر صاحب اس بات کی بخوبی جانکاری رکھتے ہیں۔ یہاں بھی انھوں نے اپنے دیگر موضوعات کی مانند کہانی نویسی میں بھی اعادہ کی پرچھائیں نہیں پڑنے دی اور یکسر نئے موضوعات کا اہتمام کیا۔ گویا: “روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ” (افتخار عارف)۔ دوسرا مجموعہ “فرشتہ نہیں آیا” میں کسی کہانی کو دہرایا نہیں گیا بلکہ ایک کہانی کے بطن سے دوسری کہانی ضرور اُگی ہے۔
“راکھ سے لکھی گئی کتاب” نیر صاحب کی کہانیوں کا تیسرا مجموعہ ہے۔ عنوان پڑھتے ہی دھیان فوراً کتب سوزی کی طرف جاتا ہے۔ لیکن اس میں محض کتب سوزی کا تذکرہ نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں بننے والی راکھ سے بھی کسی کتاب کا متن لکھا جا سکتا ہے۔ اس مجموعے کی ایک اور اہم کہانی” درخت باتیں ہی نہیں کرتے” ماحول دوستی کی ہرچارک اور بشر مرکزیت اجارہ داری کو چیلنج کرتی ہے۔ کتاب کے دیگر کہانیوں میں یکسر نئے اور اچھوتے موضوعات ملتے ہیں۔
“ایک زمانہ ختم ہوا ہے” نیر صاحب کی کہانیوں کا چوتھا درشن ہے۔ اس مجموعے میں بارہ کہانیاں ہیں۔ “تمھارا قانون۔۔۔۔۔” اس مجموعے کی پہلی کہانی ہے جو ہر پل کروٹ بدلتی ہے۔ قید خانے کا ایک قیدی اپنے مطالبے کے حصول کے لیے ہر وقت کوشاں اور اس حد تک کوشاں کہ بھوک ہڑتال کر ڈالی۔ اسے موت سے بچانے کے لیے جیل ڈاکٹر کا قیدی کو زبردستی خوراک کی نالی کے ذریعے خوراک پہنچانا، قیدی کا قے کرنا۔ کہانی اس وقت نیا موڑ لیتی ہے جب جیل خانے میں ایک نیا پولیس آفیسر آتا ہے۔ جس نے فلسفے اور قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ آفیسر کا قیدی سے مکالمہ دلچسپ بھی ہے اور کئی گتھیوں کو سلجھاتا بھی ہے۔ وہ قیدی کے سامنے سوال قائم کرتا ہے اور پھر خود ہی ان کے فلسفیانہ اور مُسکت جواب دے کر قیدی کو بے بس بھی کر دیتا ہے۔ بعض اوقات تو ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ یہ آفسیر خود کہانی کار ہے۔
“جب تک ہے زمین” میں گیارہ کہانیاں اور سات خواب کہانیاں ہیں۔ ان کہانیوں کی قرأت سے معلوم ہوتا ہے کہ کہانی کار کے پاس موضوعات کی یکسانیت نہیں بلکہ تنوع ہے۔ اسلوب اور موضوع کی مانند ان کہانیوں کے کرداروں میں بھی غیر معمولی نیا پن ہے۔ کرداروں کی نفسیاتی پیچیدگیاں، الجھنیں، سلجھنیں، خدشات، تحفظات، خوف اور وسوسے انسانی تجربے کی بدلتی کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ کہانی کار کے افسانوی کردار محض انسان نہیں بلکہ دوسری مخلوقات چرند، پرند اور نباتات بھی ہیں جو اُن کی ماحول دوستی پر استدلال قائم کرتے ہیں اور شاید اسی لیے اس مجموعے کا عنوان بھی ماحولیات سے متعلق ہے۔ اس کائنات میں محض انسان کی اجارہ داری نہیں بلکہ دوسری مخلوقات کو بھی جینے کا پورا حق حاصل ہے۔ گویا بشر مرکزیت کو ردّ کیا گیا ہے۔
نیر صاحب نے اپنی کہانیوں کے مجموعہ کے آخر میں “میری کہانی کی کہانی: میری زبانی” کے عنوان سے ایک طویل پس نوشت (postscript) لکھی ہے جو دل چسپ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت فکر انگیز بھی ہے۔ اس میں انھوں نے ادب کے میدان بالخصوص کہانی کی دنیا میں اپنی آمد کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک ڈائجسٹ میں کہانی کے چھپنے پر اپنے پسندیدہ استاد کی ڈانٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“یہ ڈائجسٹ مجھے گورنمنٹ کالج فیصل آباد کے پتے پر بھیجا گیا تھا۔ ہمارے ایک استاد نے اسے وصول کیا۔ اسے کھولا اور وہ کہانی پڑھ لی۔ انھوں نے مجھے ڈائجسٹ دکھایا اور پوچھا کہ یہ کہانی میں نے لکھی ہے؟ میں نے اقبال کیا۔ مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ کوئی سنجیدہ کام کیا کروں۔ کہانی جیسی بے کار صنف میں خود کو ضائع نہ کروں۔ میں سخت شرمندہ ہوا۔ وہ واحد استاد تھے جن کی کلاس میں شوق سے پڑھتا تھا۔ اور کلاس کے بعد ان کے کمرے میں خاصا وقت گزارا کرتا تھا۔ مجھے یہ پوچھنے کی جرات تو نہ ہوئی کہ انھوں نے میرے نام کی ڈاک کیوں کھولی۔ ان کی شخصیت کا احترام اور ان کے علم کا رعب اس قدر تھا کہ میں نے ان کی ڈانٹ کو ان کا حکم سمجھا۔ بعد میں دو ایک کہانیاں گھسیٹی ہوں گی مگر سچ یہ ہے کہ وہ کہانی، میری کہانی لکھنے کی حس کے لیے موت کا پیغام ثابت ہوئی۔”
جس موضوع اور پس منظر میں یہ کہانی لکھی گئی تھی، قیاس کیا جا سکتا ہے کہ شاید اسی وجہ سے استاد صاحب نے انھیں ڈانٹا ہو۔
یہیں پر نیر صاحب اپنے ایک اور استاد ڈاکٹر سید احسن زیدی کا تذکرہ بھی کرتے ہیں کہ انھوں نے جب وزیر آغا کی نثر نگاری پر ایم اے کا مقالہ لکھا تو اسے پڑھ کر زیدی صاحب نے انھیں کہا کہ “ناصر! تم میں تنقید لکھنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ تنقید نہیں لکھو گے تو خود پر ظلم کرو گے۔ ”
یہاں دو قسم کے اساتذہ کے متضاد رویے نظر آتے ہیں۔ ایک کو کہانی میں شاید اپنا چہرہ نظر آیا اور اس نے تشکیلی دور سے گزرتے اپنے شاگرد کو ڈانٹ دیا۔ لیکن شاگرد نے اس ڈانٹ کو اپنے جیون کا روگ نہیں بنایا اور طویل عرصے کے لیے اپنے شوق میں توقف کیا۔ لیکن بعد ازاں کہانیوں کے تحیر آمیز متون پیش کیے۔
جب کہ دوسرے استاد کو اپنے شاگرد میں تنقید جیسی علمی سرگرمی کے آثار دکھائی دیے تو دلی خوش کا اظہار کیا اور اسے ترغیب دی۔ گویا ایک استاد نے کہانی سے دل کھٹا کیا تھا تو دوسرے نے تنقید میں دل لگانے کی نصیحت کی۔
نیر صاحب کی کہانی میں کہانی سے رغبت اور مشرقی و مغربی فکشن کے وسیع مطالعات سے آگاہی ہوتی ہے۔ اس تحریر کو پڑھ کر حیرت ہوتی یے کہ ایک بڑے دماغ کا تشکیلی دور کس نوعیت کا تھا، دلچسپی اور بیزاری کے کون کون سے سامان فراواں تھے۔ اپنی تصوہر کے ساتھ پہلی تحریر کی اشاعت؛ دیر بہت دیر تک اس سرشاری میں رہنا؛ دراصل ایک مہمیز تھی جو انھیں آگے سے آگے بڑھا رہی تھی۔ ریڈیو پر اپنا نام سننا کس قدر خوش کن کیفیت ہو سکتی ہے، فی زمانہ اس کا محض تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔
نیر صاحب نے کالج کے دنوں میں باقاعدہ ڈائری لکھنا شروع کی تھی، یہ وہ دن تھے جب وہ جذباتی کیفیات سے گزر رہے تھے اور یہی ڈائری ان کی تنہائی کی سب سے بڑی رفیق اور ان کی وحشت کی سب سے معتبر گواہی تھی۔ وہ دن میں کئی کئی بار ڈائری لکھتے تھے۔ ان کے بقول :
“بلاشبہ ہزاروں صفحات میں نے لکھے ہوں گے۔ اس زمانے میں مجھے خاموشی، تنہائی، اداسی اور وحشت میں راکھ ہونے سے، ڈائری نویسی نے بچایا۔ اگر ڈائری نہ ہوتی میں شاید کسی صحرا کا رخ کرتا یا کسی مزار کا؛ میں مجنوں بن جاتا یا ملنگ۔ میں سوچتا ہوں جو لوگ صحرا اور مزاروں کا رخ کرتے ہیں، وہ تحریر کی دنیا میں بسنے کے تجربے سے محروم ہوا کرتے ہیں۔ ہماری وحشت کو صرف ہماری تحریر ہی سہار سکتی ہے، ہمارے جسم و ذہن و دل تو نہیں۔ سنا ہے مجنونانہ رقص بھی، وحشت کو سنبھال سکتا ہے، مگر میں اس کے تجربے سے محروم رہا ہوں۔ ”
شاید اسی ڈائری نویسی کے شوق نے ان سے “ہائیڈل برگ کی ڈائری” بھی لکھوائی جو پوسٹ ڈاکٹرل فیلوشپ کے سلسلے میں ہائیڈل برگ جرمنی میں ان کے قیام کا روزنامچہ ہے۔ یہ محض روزنامچہ نہیں بلکہ مرعوبیت طاری کیے بغیر اس میں ہائیڈل برگ میں گزرے شب و روز، وہاں کی تاریخ و تہذیب، ادب، سیاست و سماج، مناظر، عمارات اور رسوم و رواج کا تخلیقی اظہار ہے۔
نیر صاحب ڈائری نویسی سے کہانی کی طرف آئے۔ حالاں کہ اس دور میں ان پر شاعری کی دیوی بھی مہربان ہوئی تھی لیکن انھوں نے زیادہ التفات نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ جس طرح باریک بینی سے چیزوں، رویوں کو دیکھنے لگے تھے اور ان سب کیفیات کی اندرونی اور بیرونی دنیاؤں کو کھوجتے تھے؛ اس کے تخلیقی اظہار کے لیے انھیں کہانی نویسی ہی مناسب محسوس ہوئی اور کہانیاں بھی یکسر مختلف اور خاص طرح کیں۔
ناصر عباس نیر نے اپنی کہانی کی کہانی میں متعدد سوال قائم کرکے ان کے تشفی آمیز جواب بھی دیے ہیں۔ ان کی کہانی کاری پر ان مفروضوں کا بھی مسکت جواب دیا ہے جو بے سروپا ہیں۔ یہ ایسے لوگوں کی ذہنی اختراع تھی جنھوں نے نیر کی کہانیاں پڑھے بغیر یہ رائے قائم کی تھی کہ یہ ایک نقاد کے لکھے ہوئے افسانے ہیں۔ اس بارے میں ان کا نقطہ نظر ہے:
“اس بات سے میں کیسے انکار کر سکتا ہوں کہ میں ایک برا بھلا نقاد ہوں اور یہ افسانے میں نے ہی لکھے ہیں۔ ظاہر ہے یہ احباب بس اتنی سی بات تو نہیں کہتے۔ ان کے اس تاثر میں ہلکا سا طنز چھپا ہوتا ہے۔ وہ طنزاّ کہتے ہیں کہ میں بہ طور نقاد ان افسانوں میں شامل ہوں۔ میں اس طنز پر مسکرایا ضرور ہوں، جواب نہیں لکھا۔۔۔۔۔۔ پہلی بات یہ کہ مجھے اس سے کوئی الجھن نہیں کہ میرے افسانوں میں میری تنقید شامل ہے لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ کہاں اور کس صورت اور کس اثر کے ساتھ؟ کیا میری تنقید میرے افسانوی عمل کا حصہ بنی ہے یا افسانوں کے موضوعات اور اسلوب میں کہیں کہیں شامل ہوئی ہے؟ میرے احباب نے یہ سوال نہیں اٹھائے۔ وہ تاثر سے آگے نہیں گئے۔ انھوں نے اس ضمن میں کوئی باقاعدہ تنقیدی رائے قائم نہیں کی۔”
اگر نقاد کہانی کار بھی ہو یا کہانی کار نقاد بھی ہو تو اس کے قاری یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ نقاد نیر نے جس طرح کسی تخلیقی شہ پاروں کو پرکھنے اور جانچنے کے معیارات اور ان کی تعریفات کی تھیں، کہانی کار نیر خود اپنے تخلیقی عمل میں اپنے وضع کردہ اصولوں سے کس حد تک انصاف کر پائے ہیں۔
ناصر عباس نیر کے تمام افسانوں کا یہ مجموعہ ان کی کہانیت کا اختتام نہیں بلکہ کہانی کا نیا پڑاؤ ہے جو ناول کی صورت میں جنم لے گا۔
سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے بڑھیا کاغذ، عمدہ طباعت، معیاری جلد بندی اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ اس مجموعے کو طابعانہ جمالیات سے مزین کر دیا ہے۔
درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں
سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
(میر)
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں