کہتے ہیں، تاریخ خود کو دہراتی ہے، مگر بعض اوقات ایسا لگتا ہے جیسے تاریخ کو کسی مزاحیہ ناول نگار نے لکھا ہو۔ خاص طور پر جب لبرل ازم کا حال دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی سنجیدہ نظریہ نہیں، بلکہ ایک ستم ظریف لطیفہ ہے جو ہر موڑ پر اپنے ہی اصولوں کا مذاق بنا رہا ہے۔ آزادیٔ اظہار کا جھنڈا بلند کرنے والے خود سب سے بڑے سنسر بورڈ بنے بیٹھے ہیں۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے وہ تمام دروازے بند کر رہے ہیں جہاں سے کوئی محنت کش، کوئی مظلوم یا کوئی بے باک قلمکار اپنی سچائی کی صدا بلند کر سکتا ہو۔ جیسے کسی نے کہا تھا، “ہمارے زمانے میں آزادی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہم روز یہ دیکھتے ہیں کہ ہمیں کتنا خاموش کر دیا گیا ہے۔”
اب دیکھیے نا، امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس یورپ کو جمہوریت پر لیکچر دیتے ہیں۔ وہی وینس جو اپنی ہی جمہوریت کے کفن میں آخری کیل ٹھونک چکے ہیں۔ یہی صاحب آزادیٔ اظہار کے بھی بڑے علمبردار ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی مزدور اپنے حقوق کی بات کرے یا کوئی لکھاری سرمایہ داری کے مظالم پر قلم اٹھائے، تو وہی آزادی ایک گہرے کنویں میں غوطہ لگا لیتی ہے۔ یہ منافقت صرف امریکا تک محدود نہیں، بلکہ یورپ اور پاکستان میں بھی یہی ڈرامہ چل رہا ہے۔ آزادیٔ رائے دی جاتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہی رائے دی جائے جو طاقتور طبقات کے مفادات کے عین مطابق ہو۔ گویا آزادی تو ہے، لیکن چھن جانے کی صورت میں کمپنی کسی قسم کی ذمہ دار نہیں ہوگی! جیسے غالب نے کہا تھا، “قید میں ہے تیری گلی کی ہوا، کچھ ہم ہی پا بہ زنجیر نہیں۔”
سیاسی اور معاشی منافقت تو خیر سمجھ آتی ہے، لیکن سب سے دلچسپ لطیفہ ادب اور فکشن کے میدان میں نظر آتا ہے۔ مخصوص اشرافیہ کے نظریات کو “اعلیٰ ادب” کا تمغہ دے دیا جاتا ہے، جبکہ عام آدمی کے دکھوں پر مبنی کہانیوں کو “پروپیگنڈا” کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی سرمایہ دار طبقے کی محبتوں، جدائیوں اور فلسفیانہ الجھنوں پر ناول لکھے تو وہ “عظیم کلاسیک” کہلاتا ہے، لیکن اگر کوئی کسانوں، مزدوروں اور دبے کچلے طبقات کی کہانی لکھے تو اسے یا تو مارکسزم کے کھاتے میں ڈال کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا پھر “ادبی عدم توازن” کا طعنہ دے کر بے وزن کر دیا جاتا ہے۔ یہی تضاد مغرب میں بھی چل رہا ہے اور مشرق میں بھی۔ اگر کوئی مغربی مصنف ذرا نرم لہجے میں سرمایہ داری کی کسی کمزوری کی نشاندہی کرے تو وہ “سماجی حقیقت نگاری” کے زمرے میں آ جاتا ہے، لیکن اگر کوئی مشرقی مصنف اسی نظام کی کمر توڑ کر رکھ دے تو اسے باغی، انتہا پسند یا محض “معاشی جذباتیت” کا شکار قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند ادب یا تو نان فکشن کی فائلوں میں دب کر مر جاتا ہے، یا کسی مخصوص نظریاتی دائرے میں قید کر دیا جاتا ہے تاکہ “اصل ادب” پر کوئی آنچ نہ آئے۔ گویا لکھنے کی اجازت ہے، لیکن وہی لکھا جائے جو سسٹم کے حق میں ہو۔
یہ تضاد محض ایک ادبی لطیفہ نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی فکری دیوار کا رخ کھول دیتا ہے۔ جو لوگ محنت کش طبقے کے ادب کو “سیاسی ایجنڈا” کہہ کر رد کرتے ہیں، وہ خود سرمایہ داروں کے درباری ادب کو آفاقی ادب کا تاج پہنا دیتے ہیں۔ جاگیرداروں کی محبت کہانیوں کو “ادبی لطافت” کا درجہ حاصل ہے، جبکہ مزدوروں کے حالاتِ زندگی کو بیان کرنا “تھکا دینے والی حقیقت پسندی” قرار دیا جاتا ہے۔ یہی حال سیاست میں ہے، معیشت میں ہے، سماجی گفتگو میں ہے۔ مزدوروں کی تحریک انتہا پسندی، ہڑتالیں معیشت کے خلاف سازش، ترقی پسند ادب “ادبی انحراف” اور سرمایہ داروں کی خوشامد “اعلیٰ ادبی روایت”! لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ فریب زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ جیسے ہی دنیا بھر میں نئے ادیب، شاعر اور فکشن نگار سامنے آ رہے ہیں، وہ سرمایہ دارانہ فکشن کے بنائے اصولوں کو پاؤں تلے روند رہے ہیں۔ اب ادب صرف اشرافیہ کے تفریحی کھیل کے بجائے انقلابی ہتھیار بن رہا ہے۔ اور جب قلم واقعی آزاد ہوتا ہے، تو سب سے پہلے سنسر شپ کے محل لرزتے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:
“کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں!”
سوال یہ نہیں کہ ترقی پسند ادب “ادبی معیار” پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ادب کی سرحدوں کا تعین ہمیشہ اشرافیہ ہی کیوں کرے؟ اگر ادب کا مطلب صرف جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور سامراجی حکمرانوں کی محبت بھری داستانیں ہیں، تو ہمیں ایسا ادب درکار نہیں۔ ہمیں وہ ادب چاہیے جو حقیقت کے قریب ہو، جو جبر کے خلاف ہو، اور جو اس ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی جدوجہد میں ہمارا ساتھی بنے۔ کیونکہ اگر ادب سرمایہ داری کا غلام بن جائے، تو وہ ادب نہیں، اشتہار بن جاتا ہے—اور ہمیں اشتہار نہیں، انقلاب چاہیے!
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں