• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کراچی میں منشیات، خاموش نسل کشی یا بے بسی کا نوحہ?- قادر خان یوسف زئی

کراچی میں منشیات، خاموش نسل کشی یا بے بسی کا نوحہ?- قادر خان یوسف زئی

کراچی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا لیکن اب رات کے تاریک سائے گہرے ہو رہے ہیں ، ساحل کی ہوائیں گرم اور بوجھل لیکن کیفے کھچا کھچ بھرے ہیں، کہیں پوش علاقوں میں مہنگی گاڑیوں میں نوجوان قہقہے لگا رہے ہیں، مگر اسی شہر میں کچھ سڑکوں کے کنارے، گلیوں کے دہلیزوں پر، پرانے فٹ پاتھوں پر زندگی مدھم ہو رہی ہے۔ کہیں کوئی نوجوان نشے میں دھت کسی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے، کہیں کوئی کم سن بچہ سرنج ہاتھ میں لیے بے حس و حرکت پڑا ہے، اور کہیں کوئی ماں اپنے نشے کے عادی بیٹے کو تھپکیاں دے کر جگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طالب علموں کے لیے، چوراہوں پر بھیک مانگنے والے بچوں کے لیے، فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے، اور پوش علاقوں میں عیش و عشرت میں مصروف نوجوانوں کے لیے، منشیات اب کسی امتیاز کے بغیر ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو ہماری گلیوں میں لڑی جا رہی ہے، مگر کسی کو اس کا احساس تک نہیں۔ اعداد و شمار چیخ چیخ کر خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں، مگر سب یا تو خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں 6.45 ملین سے زائد افراد منشیات کے عادی ہیں، کراچی میں یہ مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ 28فیصد سے زائد منشیات کے عادی افراد صرف کراچی میں بستے ہیں، جو اس شہر کو ایک ایسا زہریلا گڑھ بنا چکے ہیں جہاں ہر نوجوان کو کسی نہ کسی انداز میں نشے کی پیشکش ہو رہی ہے۔ یونیورسٹیوں کے سروے یہ بتاتے ہیں کہ 44فیصد طلبہ خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ منشیات استعمال کر چکے ہیں۔ 53فیصد مرد اور 31فیصد خواتین نشے کی لت میں گرفتار ہو چکی ہیں۔سب سے خوفناک حقیقت یہ ہے کہ یہ زہر 15 سے 19 سال کے بچوں کو بھی نگل رہا ہے، یعنی سکول اور کالج کی سطح پر منشیات عام ہو چکی ہیں۔ جہاں کبھی تعلیمی دباؤ، والدین کی سرزنش اور بہتر مستقبل کے خواب بچوں کے معمولات کا حصہ ہوا کرتے تھے، وہاں آج چرس،میتھ، کوکین اور ہیروئن با آسانی مہیا ہے۔ کراچی میں منشیات کی سمگلنگ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار نہیں، بلکہ ایک منظم مافیا اسے چلا رہا ہے۔ سرحد پار افغانستان میں پیدا ہونے والی ہیروئن کا 40فیصد حصہ کراچی کے راستے دنیا بھر میں پہنچایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے راستے افغان منشیات کراچی آتی ہیں، جہاں یہ سامان کارگو، ٹرکوں، مچھیروں کی کشتیوں اور حتیٰ کہ انسانوں کے پیٹ میں بھر کر بھی منتقل کیا جاتا ہے۔ سمگلنگ سے منگوائی جانے والے کیمیکل اجزاء کراچی کی خفیہ لیبارٹریوں میں میتھ میں تبدیل کر دئے جاتے ہیں، جو اب شہر کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنوعی منشیات میں شامل ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی میں جنوری 2025 میں 2,000 کلوگرام سے زائد میتھ برآمد کی گئی، جو کہ 2023 کے مقابلے میں 420فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح، ملک بھر میں 2024 میں 153 میٹرک ٹن ہیروئن ضبط کی گئی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل میں صرف 10فیصد منشیات پکڑی جاتی ہیں، باقی کا کاروبار بدستور جاری رہتا ہے۔ اس شہر کے در و دیوار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہم زہر میں ڈوب چکے ہیں، مگر ہمارے ادارے شاید ان چیخوں کو سننے کے لیے تیار نہیں۔ سوشل میڈیا ایک نیا میدان بن چکا ہے جہاں منشیات کے بیوپاری انفلوئنسرز اور ماڈلز کے روپ میں اس زہر کو عام کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نوجوانوں کو ’’’فری سیمپل‘‘ آفر کیے جاتے ہیں، اور ایک بار جو پھنس گیا، پھر وہ نکل نہیں پاتا۔ یونیورسٹیوں کے باہر مخصوص لوگ میتھ ملی ہوئی ٹافیاں اور چاکلیٹ فروخت کرتے ہیں، اور’’ہوم ڈیلیوری‘‘ کے نام پر نشہ آور اشیاء کھانے پینے کی اشیاء میں چھپا کر بھیجی جاتی ہیں۔ مالی طور پر کمزور طلبہ کو نشہ فروخت کرنے کے لیے’’ایجنٹ‘‘ کے طور پر بھرتی کیا جاتا ہے، اگر وہ انکار کریں تو انہیں قرض میں پھنسا کر مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ منشیات کی ترسیل کریں، یہاں تک کہ بعض اوقات یہ طلبہ اپنے ہی دوستوں میں نشہ بیچنے لگتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے، مگر ہم یا تو لاعلم ہیں یا خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون کہاں ہے؟ اینٹی نارکوٹکس فورس، پولیس اور دیگر ادارے آخر کیا کر رہے ہیں؟ مبینہ طور پر اگر ایک ادارہ منشیات پکڑتا ہے، دوسرا ادارہ اسے چھوڑ دیتا ہے، اور تیسرا ادارہ یہ دیکھتا رہتا ہے کہ رشوت کی کتنی رقم آئی ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس جو بجٹ دیا گیا وہ اس کے کل اخراجات کا 1فیصد سے بھی کم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں منشیات کے خلاف لڑنے کے لیے سرے سے کوئی سنجیدہ منصوبہ بندی موجود ہی نہیں۔ دوسری طرف، 2023 میں نارکوٹکس قوانین میں ترمیم کر کے منشیات کے کاروبار پر سزائے موت کو ختم کر دیا گیا، جس سے سمگلرز مزید بے خوف ہو چکے ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں یا حکومت کا نہیں، یہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کراچی کے عوام، کیا والدین، کیا اساتذہ، کیا علمائ، کیا سماجی کارکنان اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے گھروں میں موجود نوجوان کہاں جا رہے ہیں، کس کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، اور وہ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اپنے تعلیمی اداروں میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ طلبہ میں بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ انہیں کس طرف لے جا رہا ہے؟ ہمارے معاشرے میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ سچ بول سکے کہ ہمارا مستقبل ایک زہر میں ڈوب رہا ہے اور ہم خاموشی سے اسے دیکھ رہے ہیں۔ ڈارک ویب اور سوشل میڈیا پر نظر رکھیں اور منشیات کے عادی افراد کے لیے جدید بحالی مراکز قائم کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر، بچوں کو شعور دینا ہوگا کہ یہ زہر کتنی خطرناک چیز ہے، اور انہیں اس دلدل میں گرنے سے بچانا ہوگا۔ اگر آج آنکھیں بند رکھیں، تو کل ایک پوری نسل منشیات کے عادی بن چکی ہوگی، تب سوائے افسوس کے کچھ نہیں بچے گا۔ کراچی کی فضا میں اب بھی روشنی کی امید باقی ہے، مگر اس روشنی کو بچانے کے لیے ہمیں جاگنا ہوگا، ورنہ یہ شہر ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں گم ہو جائے گا۔

Facebook Comments

قادر خان یوسفزئی
Associate Magazine Editor, Columnist, Analyst, Jahan-e-Pakistan Former Columnist and Analyst of Daily Jang, Daily Express, Nawa-e-Waqt, Nai Baat and others. UN Gold medalist IPC Peace Award 2018 United Nations Agahi Awards 2021 Winner Journalist of the year 2021 reporting on Media Ethics

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply