• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خیرات یا فری تھیٹر؟ قوم کو بھکاری بنانے کا نیا منصوبہ-توصیف اکرم نیازی

خیرات یا فری تھیٹر؟ قوم کو بھکاری بنانے کا نیا منصوبہ-توصیف اکرم نیازی

کراچی میں ہر سال رمضان آتا ہے اور ساتھ ہی ایک نیا تماشا شروع ہو جاتا ہے۔ مہنگے ترین افطار اور سحری کے لنگر۔ ہرن کباب، شترمرغ، مٹن، اور نہ جانے کون کون سی عیاشی خیرات کے نام پر بانٹی جا رہی ہے۔ وہی پیسہ جو کسی بچے کی تعلیم کے لیے استعمال ہو سکتا تھا، کسی بیوہ کو کاروبار دینے کے لیے کافی تھا، کسی بیمار کی دوا بن سکتا تھا، وہ اب کسی کے دسترخوان کی شان و شوکت بڑھا رہا ہے۔
یہاں یہ بات ضرور کہنی چاہیے کہ کراچی میں افطاری تقسیم کرنے کا کلچر قابلِ تعریف ہے۔ یہ شہر ہمیشہ سے لوگوں کے لیے کھلا رہا ہے، اور یہ جذبہ یقیناً خوبصورت ہے۔ مگر افسوس کہ اب اس میں نیکی سے زیادہ نمائش شامل ہو چکی ہے
یہ خیرات نہیں، ایک نفسیاتی بیماری ہے!
ہم نے نیکی کو بھی ایک تفریح اور اسٹیٹس سمبل بنا دیا ہے۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں بیٹھ کر، بیش قیمت لباس پہن کر، سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگا کر جب یہ لوگ “خدمتِ خلق” کے قصیدے گاتے ہیں، تو کیا انہیں اندازہ بھی ہے کہ اصل مدد کیا ہوتی ہے؟
کیا ہم بھوک ختم کر رہے ہیں، یا اسے مزید بڑھا رہے ہیں؟
ہم سڑکوں پر کھانے بانٹ رہے ہیں، مگر کبھی کسی کو روزگار دینے کی کوشش کی؟
ہم ہر سال اربوں روپے خیرات میں دے رہے ہیں، مگر غربت وہیں کی وہیں کیوں ہے؟
دسترخوان بڑھ رہے ہیں، مگر عزت کم ہو رہی ہے!
کراچی میں پہلے ہی سینکڑوں مفت دسترخوان موجود ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ دسترخوان صرف کھانے کھلانے تک محدود ہیں، لوگوں کو کھڑا کرنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔
خیرات اصل میں وہ ہوتی ہے جو کسی کی زندگی بدل دے، نہ کہ وہ جو صرف دو گھنٹوں کی روٹی دے کر پھر بھوکا چھوڑ دے۔
کیا واقعی ہمیں ضرورت مندوں کی مدد کرنی ہے، یا صرف اپنا احساسِ برتری تسکین دینا ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم قوم کو خوددار بنا رہے ہیں یا بھکاری؟
یہ افطار اور سحری کے شاہی لنگر ہمارے سماج کی سب سے بڑی بیماری کو مزید گہرا کر رہے ہیں—مفت خوری کی عادت!
یہ قوم پہلے ہی بجلی مفت مانگ رہی ہے، پانی مفت مانگ رہی ہے، تعلیم مفت مانگ رہی ہے، اور اب شاہی کھانے بھی مفت چاہیے؟
یہ کون سا راستہ ہے؟ کیا اس طرح قومیں بنتی ہیں؟
اگر خیرات کرنی ہے تو ایسی کرو کہ لوگ اس سے آزاد ہو جائیں، محتاج نہ بنیں!
سوچیں اگر یہی پیسہ:
کسی نوجوان کے کاروبار میں لگے تو وہ اپنے ساتھ کئی اور لوگوں کو بھی کھڑا کر سکتا ہے۔
کسی بچے کی تعلیم پر خرچ ہو تو وہ معاشرے میں کچھ بنا سکتا ہے۔
کسی غریب کو ہنر سکھانے میں لگے تو وہ ہمیشہ کے لیے خود کفیل ہو سکتا ہے۔
لیکن نہیں! ہمیں صرف کھانے کھلانے کا شوق ہے، کیونکہ یہ آسان ہے، نظر آتا ہے، تصویریں اچھی آتی ہیں، اور لائکس بھی ملتے ہیں!
سوچ بدلنی ہوگی، ورنہ بھوک کبھی ختم نہیں ہوگی!
قوموں کو دسترخوان نہیں، مواقع دیے جاتے ہیں۔ اگر واقعی خیرات کرنی ہے تو ایسی کریں کہ کل کو وہ انسان کسی اور کو دینے کے قابل ہو، نہ کہ ہر سال اسی قطار میں کھڑا ہو
اگر یہی سلسلہ جاری رہا، تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو محنت سے زیادہ مفت دسترخوانوں پر بھروسہ کرے گی، اور معاشرہ خودداری کے بجائے خیرات پر چلنے والا بن جائے گا۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے—خوددار قوم بنانی ہے یا ایک ایسی بھیڑ تیار کرنی ہے جو مفت پر انحصار کرنا سیکھ لے؟

Advertisements
julia rana solicitors london

بشکریہ  فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply