اگر میں کہوں کہ میرا پہلا باضابطہ تعارف سلوسٹر سٹالوں sylvester stallone سے فرسٹ بلڈ سے ہوا اور جان ریمبو ہمارے اعصاب پر سوار ہوگیا۔ یہ فلم 1982 کو ریلیز ہوئی تھی اور ہمارے کوئٹہ کے امداد سینما میں شاید 1983 یا 1984 کے شروع میں لگی ہوگی۔ ہم اپنے ابا سے اجازت لے کر اپنے دوستوں کے ساتھ سینما میں فلم دیکھنے جایا کرتے تھے چونکہ اس وقت 9th میں پڑھتے تھے تو ابا خود ہم 4 دوستوں کو 3 بجے کے شو پر چھوڑتے اور شام 6 اٹھا لیتے۔ ساتھ ہی ہمیں 50 روپے بھی دیتے فلم بینی کے دوران عیاشی کے لئے جو اس کے دو دن بعد تک بھی ہم دوست عیاشی میں استعمال کرتے۔
ہماری عیاشی چاول چھولے کی پلیٹ، کبھی کولڈرنک اور چپس ہوتی۔ ہم نویں جماعت میں تھے اور ہمارا ایک عیسائی کلاس فیلو جو کہ ایک اچھا ذہین لڑکا تھا اور کلاس کے تعلیمی لحاظ سے ٹاپ 4 اسٹوڈنٹس میں ہوتا۔ جب سردیوں کی چھٹیاں گزار کر آیا یہ بات 1984 کی ہوگی اور ہم میٹرک میں پہنچ چکے تھے۔ تو اس نے جان ریمبو کی طرح پیچھے سے لمبے بال رکھے تھے اور اپنی قلمیں کاٹ لیں تھیں اور بریک میں کھیلتے ہوئے یا پی ٹی پیریڈ میں سر پر سرخ پٹی (ربن) باندھ لیتا۔ تو ہم نے اسے جان ریمبو کی بجائے۔ جان رحمت کہنا شروع کر دیا۔
خیر یہ تو جان ریمبو کی پہلی فلم سینما میں دیکھنے کا احوال تھا۔ لیکن اس دور میں 3 بہت بڑے اسٹار ہالی وڈ میں ابھر کر سامنے آئے یعنی ان کا بلاک بسٹر ہٹ ہوئے۔ ایک یہی جان ریمبو، جس کی فسٹ بلڈ اور ریمبو، دوسرا آرنلڈ کی ٹرمینٹر اور تیسرا مائیکل جیکسن کا تھرلر اور ہاں انڈیا سے ہمیں جوش دلانے کے لئے جو اسٹار ہماری نوجوانی میں شدید دخل اندازی کرتا رہا وہ مٹھن چکرورتی، اپنی فلم ڈسکو ڈانسر کے ساتھ۔ چونکہ ان دنوں بریک ڈانس شروع ہو چکا تھا لیکن ڈسکو ڈانسر نے ہمارے ڈانسز کو جو ہم پارٹیوں میں کرتے ایک نیا موڑ دیا جو کی 1988 تک چلتا رہا۔
بروس لی کا دور ختم ہو چکا تھا اور ہم جیکی چین کی شراب پی کر کنگفو کھیلتے ہوئے اور مستیاں کرتے ہوئے لڑنے سے مرعوب ہو کر کراٹے کھیلنے گئے تھے کہ اچانک ایک عجیب و غریب کراٹے کا کھلاڑی فلمی دنیا میں آیا اور اس نے کراٹے کا اصل مفہوم دنیا کو دکھایا جو کہ دفاعی کراٹے نہیں تھا بلکہ جارحانہ کراٹے کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اور اس ہیرو کا نام تھا جین کلاوڈ وان ڈیم۔ اس کی فلمیں خون گرم کرنے کے ساتھ ساتھ تیکنک بھی سکھاتیں اور میں نے اپنی مواشی گیری (وہ کک جو منہ پر ماری جائے) اسی کو نقل کرکے درست کی۔
یہاں پہنچ کر میں اپنے بھانجے کی ایک بات آپ کو بتانا چاہوں گا۔ جب وہ 5 یا 6 سال کا تھا تو وہ کچھ کارٹون کریکٹرز، فلمی کریکٹر، انڈین ہیروز اور شاہ رخ سے اتنا متاثر تھا کہ جب ہم اس سے اس کا نام پوچھتے تو وہ کہتا میرا نام (رام خان گیس کین ہاشمی) ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ میں مکمل نام اب بھی صیغہ راز میں رکھنے کا پابند ہوں تو بتانا یہ چاہ رہا تھا کہ اتنے بڑے اسٹارز میں ہم نے اپنی teen age کے دن گزارے تو ہمارا حال یہ تھا کہ جسم، اسلحہ اور خاص طور پر خنجر جو ان دنوں مارکیٹ میں بکثرت آگئے تھے۔ وہ ریمبو کی طرح، تباہی ٹرمینٹر کی طرح اور اس کا خاص ڈائیلاگ i will be back کہنا، ڈانس ڈسکو ڈانسر اور مائیکل جیکس کی طرح کے اور کراٹے فائیٹ وان ڈیم کی طرح کرنا چاہتے تھے۔
ہاں کبھی کبھی اگر کرکٹ کھیلنا ہوتی تو ان دنوں عمران خان پیپسی بیچا کرتے تھے اور ان کا شریک پر بینڈ پہن کر چھلانگ لگا کر گیند کرانا۔ ہماری سانس کھینچ لیتا اور ایک ہفتہ ڈیڑھ پر ہم سر پر پٹی باندھے گیند کراتے۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ ہم جتنے لوگ گراونڈ میں کرکٹ کھیلتے سب ہی عمران خان ہوتے اور فٹبال تو میراڈونا نے اس وقت جب ہم fsc کر رہے تھے ارجنٹائن کو جتایا۔ تب تک ہم کراٹے میں بہت سیریس ہو چکےتھے۔
عرض خدمت یہ تھی کہ تمام جوانی انہی چند ناموں کے گرد گزری اگر اس وقت کوئی ہم سے نام پوچھتا تو شاید (آرنلڈ جیکسن وان ڈیم خان ریمبو چکروتی) ہوتا۔ جو کہ شاید کسی کو بھی قابل قبول نہیں ہوتا۔ ریمبو اور آرنلڈ کو دیکھ کر جسم بنایا، وان ڈیم کی لچک کو اور ڈانسرز کے movers & shakers کو اپنا۔ آج کہیں ریمبو کی تصویر دیکھی تو ایسا لگا کہ میں اب بھی اسی کی نقل کر رہا ہوں۔ کیونکہ اپنی اور اس کی جسامت میں پہلے کی طرح اب بھی کوئی فرق نہیں دیکھتا ہم اب ہم توند ہیں۔ میں جو انہیں دیکھتے ہوئے جوانی میں داخل ہوا یہ میرے ہیروز تھے۔ اب میں ان جیسا دکھائی دیتا ہوں۔ یہ آج بھی میرے ہیروز ہیں۔
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام کو عاشقی سمجتے تھے
ھم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
عشق کام کے آڑے آتا رھا
اور کام سے عشق الجھتا رھا
آخر تنگ آ کر ھم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں