اسپین اور اٹلی کی پولیس نے مشترکہ انسدادِ دہشت گردی کارروائی کرتے ہوئے 11 پاکستانیوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں دس کا تعلق اسپین سے اور ایک کا تعلق اٹلی کے شہر پیاچینزا سے ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ یہ پاکستان میں ایک انتہا پسند تنظیم سے منسلک تھے۔ یہ وسیع کارروائی ہسپانوی نیشنل پولیس، کاتالان پولیس، اور اٹلی کی ڈیوگس پولیس نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ پولیس کے مطابق، یہ منظم گروہ خفیہ ذرائع سے ایسے پیغامات بھیجتا تھا جو مخالف نظریات رکھنے والے افراد کے قتل یا گردن زنی کی حمایت کرتے تھے۔ ہسپانوی نیشنل پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تین سالوں میں 30 ایسے پاکستانیوں کو گرفتار کر چکی ہے جن پر انتہا پسند نظریات کے فروغ کا شبہ تھا۔ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ ایسے گروپ سے منسلک افراد دہشت گردانہ کارروائیوں کی سوشل میڈیا پر تعریفیں بھی کرتے رہے ہیں۔
انتہا پسندی اور بریلوی مسلک کا تصور
بریلوی مسلک کو روایتی طور پر یورپ میں ایک پُرامن طبقے کے طور پر جانا جاتا تھا، لیکن ان گرفتاریوں کے بعد یہ خیال مزید مضبوط ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے ہر مسلک میں انتہا پسند گروہ موجود ہو سکتے ہیں۔
ردِ عمل اور عوامی جذبات
اس خبر پر کچھ افراد نے ناراضگی اور شکایات پر مبنی تبصرے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ان گرفتار شدگان کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے کیونکہ اکثر اوقات گرفتار شدگان بے گناہ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، ماضی میں بھی یورپ میں دہشت گردی کے الزامات میں پاکستانی گرفتار ہوئے ہیں لیکن عدالتوں میں ان پر الزامات ثابت نہیں ہو سکے، اور چند ماہ کی قید کے بعد وہ رہا ہو گئے۔
یورپ میں عدالتی اور سکیورٹی نظام کی حقیقت
ایسے دلائل دینے والے افراد یورپ کے عدالتی اور سکیورٹی نظام سے ناواقف ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جن افراد کو دہشت گرد گروپس سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے، ان میں سے زیادہ تر وہ ہوتے ہیں جو براہِ راست کسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوتے لیکن سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں اور شدت پسندانہ خیالات کی حمایت کرتے ہیں۔ اگرچہ حقیقی زندگی میں وہ شاید کسی کو نقصان نہ پہنچا سکیں، لیکن وہ دہشت گردوں کی حمایت میں مواد شیئر کرتے ہیں، انہیں ہیرو بناتے ہیں، اور ایسے رجحانات کو فروغ دیتے ہیں جو نفرت اور تشدد کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
شدت پسند نظریات کے سنگین نتائج
سائبر کرائم ایجنسیاں ایسے افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہیں اور انہیں شدت پسند نظریات کے فروغ کی بنا پر گرفتار کرتی ہیں۔ عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد اکثر انہیں چند ماہ میں رہا کر دیا جاتا ہے کیونکہ محض سوشل میڈیا پر بیانات دینے کو جرم قرار دینا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، عدالت سے بری ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ حکومتی ریڈار سے ہٹ گئے۔
یورپ میں کسی شدت پسند گروپ سے جڑا ہونا ایسا ہی ہے جیسے بینکنگ کریڈٹ سکور خراب ہو جانا۔ ایک بار مشتبہ فہرست میں شامل ہونے کے بعد، یہ افراد کئی بنیادی سہولیات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ وہ کبھی بھی شہریت حاصل نہیں کر سکتے اور بعض اوقات مستقل رہائشی اجازت نامے کے لیے بھی ترستے رہتے ہیں۔ میں کئی ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کسی مذہبی جماعت سے ہمدردی رکھنے کی وجہ سے اٹلی کی شہریت حاصل کرنے میں ناکام رہے، حالانکہ ذاتی طور پر انہوں نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ کئی سال تک قانونی جنگ لڑنے کے باوجود ان کی درخواست ایک ہی سطر میں مسترد کر دی گئی: “ملکی سلامتی کے لیے خطرہ”۔ جج اگرچہ انہیں مقدمے میں بری کر سکتے ہیں، لیکن وزارت داخلہ کو شہریت دینے پر مجبور نہیں کر سکتے، کیونکہ شہریت کسی بھی حکومت کی صوابدید پر ہوتی ہے، نہ کہ تارکین وطن کا بنیادی حق۔
سوشل میڈیا پر احتیاط برتنا ضروری
لہٰذا، یہ ضروری ہے کہ لوگ ایسے سوشل میڈیا گروپس اور نظریات سے دور رہیں جو شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور ایسے افراد کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں جو دوسروں کی جان لیتے ہیں۔
خواتین کی گرفتاری: ایک نیا اور تشویشناک پہلو
اس بار 11 پاکستانیوں کی گرفتاری میں ایک نیا اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک خاتون بھی ان میں شامل ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ خواتین پر مشتمل ایک سوشل میڈیا گروپ چلاتی تھی جس میں شدت پسندانہ نظریات کی ترویج کی جاتی تھی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ روایتی طور پر خواتین کو نرم دلی اور عبادات جیسے نوافل، اذکار اور صدقہ و خیرات سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ کچھ خواتین بھی شدت پسندی کے نظریات میں ملوث ہو رہی ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
مساجد کے ائمہ کی ذمہ داری

میری گزارش ہے کہ مساجد کمیٹیاں، جو اپنی مساجد کی تزئین و آرائش پر لاکھوں خرچ کرتی ہیں، ایسے علمائے کرام کی خدمات حاصل کریں جو صرف مذہبی علوم ہی نہیں بلکہ جدید دنیاوی معاملات سے بھی واقف ہوں۔ ایسے علما ہی نوجوانوں کو ان شدت پسند گروپس کے چنگل میں پھنسنے سے بچا سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارا مذہب امن، بھائی چارے اور رواداری کا پیغام دے، نہ کہ نفرت اور شدت پسندی کا۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں