بھگت سنگھ: بھوتیائی واپسی اور استحصال سے نجات کا مؤخر شدہ خواب/عامر حسینی

رفیقو،
آج ہم نوجوانوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ پستول یا بم اٹھا لیں۔ آج طلبہ کو ایک کہیں زیادہ اہم فریضہ درپیش ہے۔ آنے والے لاہور اجلاس میں کانگریس ملک کی آزادی کے لیے ایک بھرپور جدوجہد کی اپیل کرنے والی ہے۔ اس نازک وقت میں، قوم کی تاریخ میں، نوجوانوں کو ایک بھاری ذمہ داری اٹھانا ہو گی۔

یہ سچ ہے کہ طلبہ آزادی کی جدوجہد میں اگلی صفوں پر موت کا سامنا کر چکے ہیں۔ کیا وہ اس بار اپنے اسی عزم اور خود اعتمادی کو ثابت کرنے میں ہچکچائیں گے؟ نوجوانوں کو یہ انقلابی پیغام ملک کے ہر کونے تک پہنچانا ہوگا۔ انھیں صنعتی علاقوں کی جھونپڑیوں میں بسنے والے کروڑوں محنت کشوں اور ٹوٹی جھونپڑیوں میں زندگی گزارنے والے دیہاتیوں کو بیدار کرنا ہوگا، تاکہ ہم آزادی حاصل کر سکیں اور انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ ممکن ہو۔

پنجاب کو سیاسی طور پر پسماندہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تاثر کو بدلیں۔ شہید یتندر ناتھ داس سے تحریک لیتے ہوئے، اور ملک کے لیے بے پایاں عقیدت کے ساتھ، انھیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس جدوجہدِ آزادی میں پختہ عزم کے ساتھ لڑ سکتے ہیں۔

یہ سطریں ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۹ کو بھگت سنگھ نے جیل سے پنجاب اسٹوڈنٹس کانفرنس کو لکھیں، اور یہ محض ایک انقلابی کال نہیں بلکہ ایک مکمل فکری اعلامیہ ہے۔ یہ خط اس بات کا ثبوت ہے کہ بھگت سنگھ محض ایک جنگجو نوجوان نہیں، بلکہ ایک ایسا مفکر انقلابی تھا جو سیاسی آزادی کو طبقاتی نجات، شعوری بیداری اور سوشلسٹ تنظیم نو سے منسلک کر رہا تھا۔ وہ نوجوانوں کو صرف مزاحمت کی دعوت نہیں دے رہا بلکہ انہیں انقلابی نظریہ سازی کا ایک نیا مرکز بنانے کی تلقین کر رہا ہے۔

بھگت سنگھ 28 ستمبر 1907 کو لائلپور (موجودہ فیصل آباد) میں ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کا بچپن اس پنجاب میں گزرا جو سامراجی جبر، جاگیرداری، فرقہ واریت اور ریاستی طاقت کے ادارہ جاتی ڈھانچوں میں جکڑا ہوا تھا۔ برطانوی سامراج نے نہ صرف اس خطے کو فوجی طاقت کے طور پر استعمال کیا بلکہ ایک وفادار جاگیردار طبقہ تشکیل دیا، جسے زمینیں اور اختیارات دے کر عوام پر مسلط کر دیا گیا۔ ساتھ ہی تعلیم، مذہب اور صحافت جیسے اداروں کے ذریعے ایک ایسا “سچ” گھڑا گیا جو سامراجی وفاداری کو اخلاقی اور فطری بنا دیتا تھا۔

یہ وہی “سچ” ہے جسے میشل فوکو نے اپنی تھیوری Power/Knowledge میں بے نقاب کیا — یعنی طاقت وہی نہیں جو جبر کرے، بلکہ طاقت وہ ہے جو “علم” کے نظام کو تشکیل دے کر سچائی کی تخلیق کرتی ہے۔ فوکو کہتا ہے: “We are subjected to the production of truth through power, and we cannot exercise power except through the production of truth.” پنجاب کے تعلیمی ادارے، مدارس، اخبارات، اور زمینداری نظام اسی طاقت کے تانے بانے تھے۔ بھگت سنگھ ان تانے بانوں کو نہ صرف پہچانتا ہے بلکہ ان کے خلاف ایک نظریاتی انقلاب کی بنیاد رکھتا ہے۔

اس کا ارتقائی سفر ابتدا میں ایک سکھ قومی شعور سے شروع ہوتا ہے، لیکن وہ بہت جلد اس تنگ دائرے کو توڑ کر مارکس، لینن، ٹراٹسکی، روسو، اور بیکنن جیسے مفکرین کی تحریروں کے ذریعے ایک سوشلسٹ انقلابی بن جاتا ہے۔ مارکس کے اس تصور کو کہ “The history of all hitherto existing societies is the history of class struggles”، بھگت سنگھ برصغیر کے مخصوص سماجی تناظر میں زندہ کرتا ہے۔ اس کی تحریریں اعلان کرتی ہیں کہ آزادی صرف سیاسی اقتدار کی منتقلی نہیں، بلکہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں، اور مذہبی اشرافیہ سے نجات کا نام ہے۔

اسی سچائی کو ریاست برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ریاست نے بھگت سنگھ کو نصاب، قومی بیانیے، اور یادگاروں سے حذف کر دیا — اور اس حذفیت نے ہی بھگت سنگھ کو وہ بھوت بنا دیا جس کا ذکر ژاک دریدا Specters of Marx میں کرتا ہے: “The ghost is not simply a dead or a missing person, but someone whose voice persists, a presence that troubles the present.”

یہی بھگت سنگھ کا hauntological ظہور ہے۔ وہ “محو شدہ” ہے، مگر غیر حاضر نہیں۔ وہ ہر اس لمحے میں زندہ ہو جاتا ہے جب کوئی نوجوان، طالبعلم، یا محنت کش، ریاستی سچائی پر سوال اٹھاتا ہے۔ وہ صرف تاریخی نہیں، بلکہ سیاسی اور فکری بھوت بن کر ہر اس نظام کو چیلنج کرتا ہے جو طبقاتی استحصال، قومی جبر، اور مذہبی منافقت پر قائم ہو۔ دریدا کہتا ہے: “Hauntology replaces ontology.” یعنی اصل موجودگی وہی ہے جو غیر موجودگی کے پردے سے جھانکتی ہے — جیسے بھگت سنگھ، جسے دفن کرنے کی ہر کوشش اسے اور زیادہ طاقتور بنا دیتی ہے۔

آج وہی عمل بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہرایا جا رہا ہے۔ جہاں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، منظور پشتین، سمی دین بلوچ، ڈاکٹر صبحیہ، اور علی وزیر جیسے نوجوان، ریاستی جبر، نوآبادیاتی طرزِ حکومت، اور شناخت کی نفی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ ان کی اصل آواز کو غائب کیا جا رہا ہے، ان کے نظریے کو داغدار یا مبہم بنایا جا رہا ہے، اور انہیں بھی “بھوتوں” میں بدلا جا رہا ہے — جیسے بھگت سنگھ کو بدلا گیا۔ یہ وہ Erasure ہے جو دریدا کے مطابق صرف ایک سیاسی تدبیر نہیں، بلکہ ایک فکری جرم ہے — ایک ایسا عمل جس کے نتیجے میں محو شدہ سچائی خود ایک زندہ نظریاتی وجود بن جاتی ہے۔

اگرچہ ان نوجوانوں کا ارتقائی سفر ابھی اس کایا کلپ تک نہیں پہنچا جس سے بھگت سنگھ گزرا تھا — یعنی سوشلسٹ عالمی نجات کے فکری مقام تک — لیکن جیسا کہ لینن نے کہا: “Without revolutionary theory, there can be no revolutionary movement”، تو یہ بات واضح ہے کہ جدوجہد، مشاہدہ، اور مطالعہ وہ راستے ہیں جن سے یہ نوجوان بھی بھگت سنگھ کے فکری نروان تک پہنچ سکتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

چنانچہ، بھگت سنگھ کا بھوت صرف ایک شخصی استعارہ نہیں، بلکہ ایک زندہ مکالمہ ہے — جو آج بھی جاری ہے، جو طلبہ، محنت کش، مظلوم قوموں اور ہر محکوم طبقے کو ایک نئے معاشرے کی تعمیر کے لیے پکار رہا ہے۔ وہ صرف ماضی کا شہید نہیں، بلکہ حال کا سوال اور مستقبل کا وعدہ ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں بھگت سنگھ کا متن، سچ، اور وجود — دریدا، فوکو، مارکس، اور لینن کے نظریات کے ساتھ — ایک غیر متوقع لیکن مکمل ہم آہنگی میں جُڑ جاتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ریاستی طاقت کو سب سے زیادہ خوفزدہ کرتی ہے۔ اور یہی وہ وجہ ہے کہ بھگت سنگھ کو مٹایا نہیں جا سکتا — کیونکہ وہ صرف ایک انسان نہیں، ایک نظریہ ہے؛ ایک بھوت نہیں، ایک آنے والے کل کی سرگوشی ہے۔

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply