ہمارا تراویح پڑھنا/محمد اسحاق

میرا گھر جس گلی میں واقع ہے وہاں آس پاس اکثر متمول گھرانے رہائش پذیر ہیں، یہاں زیادہ تر ڈاکٹر ، ریٹائر سرکاری ملازمین اور چند ایک پراپرٹی ڈیلروں کے بڑے بڑے گھر ہیں. دن کو عموماً یہاں خاموشی رہتی ہے اکا دکا سبزی بیچنے والے ، کباڑ کا مال خریدنے والوں کی آوازیں آتی رہتی ہیں البتہ عصر کے بعد کچھ چہل پہل شروع ہو جاتی ہے، میری ایک نماز ڈیوٹی کے دوران ہی آ جاتی ہے باقی نمازیں سستی کی وجہ سے گھر پر ہی پڑھ لیتا ہوں ۔ میرے پڑوس میں اعجاز بٹ صاحب جو ایئر فورس سے ریٹائر ہیں اور دوسرے پڑوسی گل زمان خٹک صاحب ریلوے سے ایک اچھی پوسٹ سے ریٹائر ہیں۔ دونوں ماشاءاللہ پکے نمازی اور تبلیغ سے وابستہ ہیں ۔ جماعت والے ہفتے میں ایک دفعہ میرے غریب خانے کی گھنٹی ضرور بجاتے ہیں اور یہ عموماً عصر کے بعد کا وقت ہوتا ہے اس وقت میں اور بیگم چائے پی رہے ہوتے ہیں۔ اکثر یوں ہوتا ہے کہ میری بیگم چائے بنا کر جب تپائی پہ رکھتی ہے تو ادھر سے گھنٹی بج جاتی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ بچوں کا کوئی دوست آیا ہوگا کبھی میں نائٹ ڈریس میں اور کبھی ٹراؤزر، شرٹ پہنا ہوا ہوتا ہے۔ میری عادت ہے کہ ایک دفعہ “کون” بولتا ہوں تاکہ اگر کوئی خاتون دروازے پر ہو تو بیگم کو جاکر مطلع کردوں ۔جب آگے سے کوئی آواز نہ آئے تو گھر کا بغلی دروازہ کھولنا پڑتا ہے۔ ایسے میں جماعت والے ایک خاص فاصلے پر کھڑے ہوتے ہیں اور مجھے گلی میں آ کے انہیں ملنا پڑتا ہے۔ایسے مواقع پر میں اپنے چہرے پر صدیوں کی معصومیت لے آتا ہوں ۔ میرے دونوں ریٹائرڈ پڑوسی حضرات بھی تبلیغ کے گشت میں ضرور موجود ہوتے ہیں حال احوال کے بعد جماعت کا لیکچر جو عموماً رٹے رٹائے جملوں جیسے دنیا کی بے ثباتی، مسلمانوں کی دین سے دوری ،دین کے پھیلانے کے لیے محنت کی ضرورت اور بقیہ دینی فوائد کے لئے شام کو مسجد میں بات ہوگی وغیرہ وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے ۔

جب میں واپس گھر میں قدم رکھتا ہوں تو چائے ٹھنڈی ہو چکی ہوتی ہے اور حوروں کی دنیاوی سردار مجھے صلوات سنا رہی ہوتی ہے اسے کیا معلوم میں باہر سے بھی بہت کچھ سن کر آیا ہوں۔

اب کی بار رمضان کا موسم بہار میں آ رہا تھا خود میں اب پچاس کے پیٹے میں ہوں تو سوچا اس دفعہ کیوں نا  نمازوں کا باجماعت اہتمام کیا جائے اوپر سے بٹ صاحب اور خٹک صاحب بھی کئی سال سے مجھے مسجد میں تراویح پڑھنے کے لیے کہہ رہے تھے اور میں عاصی ہر دفعہ ٹال مٹول کر جاتا تھا لیکن اس دفعہ انہوں نے مجھے اس طریقے سے قائل کیا کہ میں گھر سے وضو کرکے مسجد چلا گیا ابھی عشاء کی جماعت میں کچھ منٹ باقی تھے تو مجھے دوسری صف میں دائیں طرف جگہ مل گئی ۔ مجھے یوں مسجد میں دیکھ کر میرے پڑوسی دوست بھی منکر نکیر کی طرح پچھلی صف میں آ بیٹھے اور میرے مسجد سے نکلنے کے تمام راستے مسدود کردیئے۔ مسجد کے دوامی نمازی پہلے پہل تو مجھے دیکھ کر تھوڑے ٹھٹکے لیکن پھر سب کچھ نارمل ہو گیا۔ اگلی صف میں میرے بالکل سامنے ایک بزرگ کرسی پر یوں دراز تھے کہ کرسی کی پچھلی ٹانگیں دو صفوں کے درمیان پیوست تھیں اور کرسی دس ڈگری پیچھے کو جھکی ہوئی تھی، انکے ساتھ انکا چار پانچ سالہ پوتا بھی تھا جو پہلے تھوڑا بہت بول رہا تھا جماعت کھڑی ہوئی تو وہ خاموش ہو گیا ۔ امام صاحب کی تلاوت کے دوران محلے کے بچوں کا شور اونچے  سُر میں جاری رہا، قاری صاحب کی تلاوت کے دوران ان کی آوازوں کا تاروپود اس طرح سنائی دیتا جیسے شہد کی مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں یہ تان تب ٹوٹی جب مسجد کمیٹی کے ایک بزرگ نے آ کر ان کو ڈانٹا اور وہ تھوڑا سا چپ ہو گئے لیکن کھسر پھسر البتہ جاری رہی، التحیات میں ففتھ جنریشن کے یہ نمونے ویسے تو چپ رہے لیکن مصنوعی کھانسی کی ایک لہر کبھی کسی کونے سے اور کبھی کسی کونے سے سنائی دیتی جس سے باقی بچے شرارتی ہنستے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے تھے۔ مسجد کا اندرونی لاوڈ سپیکر میرے اوپر لگا ہوا تھا جس میں بازگشت کی وجہ سے لاؤڈ سپیکر اور قاری صاحب کی تلاوت کی آوازیں کچھ مائیکرو سیکنڈز کے فرق سے میری سماعت سے ٹکرا رہی تھیں البتہ بچوں کا غلغلہ ان سب سے بلند تھا۔ فرض نماز کے بعد دو سنتیں ادا کی گئیں ۔ فرض اور سنتوں کے بعد امام مسجد سامع کے روپ میں پیچھے کھڑے ہو گئے اور ایک نوجوان سندھی ٹوپی پہنے امام صاحب کے مصلے پر آن کھڑے ہوئے تو تراویح شروع ہوگئی۔ میرے سامنے والے بزرگ باقی نماز کھڑے ہو کر پڑھتے اور جب قاری صاحب سجدے میں جاتے تو وہ کرسی پر بیٹھ جاتے، کرسی بھی ایسی جو عموماً جلسے جلوسوں اور شامیانوں والے استعمال کرتے ہیں ، مجھے ہر دفعہ ایسے لگتا کہ ابھی کرسی میرے اوپر آن گرے گی میں اسی ڈر کے مارے سجدے میں ایک دفعہ سر اٹھا کر کرسی کی حرکات کو ضرور جانچتا ایسے میں میری اور انکے پوتے کی آنکھیں چار ہوتیں وہ بچہ سجدے میں جم سٹائل میں اپنی ٹانگوں کے درمیان سے پیچھے دیکھ رہا ہوتا تھا اور مجھے لگتا کہ بچہ میرے خشوع و خضوع پر ہنس رہا ہے۔ میرے دائیں طرف لمبے قد اور گھنی داڑھی والے ایک صاحب اپنے ہاتھ سینے پر باندھے کھڑے تھے وہ اونچی آواز سے آمین کہتے اور جب پہلی رکعت میں سجدوں کے بعد امام صاحب کھڑے ہوئے تو وہ صاحب تشہد کے انداز میں بیٹھ گئے انکو دیکھ کر میں بھی بیٹھ گیا جب کہ باقی لوگ دوسری رکعت میں کھڑے ہو گئے مجبوراً مجھے بھی اٹھنا پڑا پھر وہ صاحب بھی ہمیں آن ملے جب آٹھ رکعتیں پوری ہوئیں تو وہ صاحب مسجد سے جانے لگے، مجھے لگا کہ تراویح ختم ہو گئی ہے لیکن پچھلی صف میں میمنہ اور میسرہ پر متعین خٹک اور بٹ صاحب پر مشتمل سد سکندری نے میرا راستہ روک لیا کہ ابھی بارہ مزید رکعتیں باقی ہیں ۔ دس رکعات کی تکمیل پر میں خٹک صاحب کو ہاتھ کے اشارے سے پانی پینے کا کہہ کر وضو خانے آ گیا یہاں آکر دیکھا تو بچوں کی فوج دریائے فرات پر قابض تھی بڑی مشکل سے پانی کے ایک گلاس کے لئے باری ملی۔ اب قاری صاحب کی سپیڈ میں بھی تیزی آ گئی تھی اور میری ایک رکعت پانی پینے کے دوران چلی گئی اب مجھے ایک چھوٹی ہوئی رکعت بھی پڑھنی تھی اور اگلی تراویح میں بھی شامل ہونا تھا۔ سولہ رکعتیں مکمل ہونے کے بعد پچھلی صفحوں پر نظر پڑی تو بٹ صاحب بھی باقی نوجوانوں کے ساتھ اپنے گوڈوں گٹوں کو سہلا رہے تھے پھر جونہی امام صاحب رکوع میں جھکے تو پیچھے بیٹھنے والے ایسے شریک ہوئے جیسے چلتی ٹرین پر مسافر دوڑ کر سوار ہوتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بیس رکعات تراویح پوری ہوئیں تو اعلان ہوا کہ اب نماز وتر ادا ہوگی۔ سامع صاحب پھر سے امام صاحب کی جگہ چلے گئے ۔ خدا خدا کرکے وتر ادا ہوئے تو کئی زاہد صد سالہ نوافل کے لئے کھڑے ہوئے, میں تیزی کے ساتھ صفحوں کو چیرتا ہوا باہر نکلا تو ایک نئی افتاد آن پڑی میرا ایک چپل کہیں پڑا تھا اور دوسرا کہیں ،چپل مل تو گئے لیکن گیلے تھے غالباً کوئی مجاہد اسے پہن کر واش روم گیا ہوگا، جب میں مسجد سے نکل رہا تھا تو مجھے لگا کہ ایک مانوس آواز مجھے پکار رہی ہو “ابھی رکو ذرا” کتاب کا سبق پڑھ کر اکٹھے چلتے ہیں، لیکن میں تیز قدموں سے خانہ خدا سے نکل آیا، اور خود سے عہد کیا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے عصر کے وقت گھر کا دروازہ کسی کے لیے نہیں کھولنا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply