چنانچہ کمرے میں اتنی جگہ تک نہ رہی کہ اس میں کافکا کی ایک سانس سما سکتی. اس نے بورخیس کو لکھے جانیوالے خط کو آخری مرتبہ پڑھا. یہ محسوس ہونے پر کہ اس میں کچھ بھی ایسا نہیں کہ جس سے لگے یہ کسی اور نے لکھا ہوگا اس نے گرامر غلط کرنی شروع کر دی. اس نے ابتدائیہ لکھا.
Hagel grenzt an Kafka
بورخیس نابینا ہو چکا تھا. اس نے خط وصول کیا اور مسکراتے ہوئے بولا
Entiendo kafka
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں