Harassment کے معنی متشدّدانہ دباؤ، غیر معمولی طور پر اپنے سے نیچا دکھانا، متعصبانہ رویّے، غیر مہذب جسمانی حرکات، جنسی دعوت دینے والے پوشیدہ لین دین، زبانی کلامی و جسمانی حرکات سے کسی کی عزت، غیرت اور حمیت کا تقاضا کرنا کسی بھی ناجائز مہربانی کے عوض کسی کو نیچا دکھانا وغیرہ ہیں۔
کیا ہمارے ایشین معاشرے میں ہر بندہ اِن رویوں کا شکار نہیں ہورہا ؟
اپنے آس پاس دیکھیے کیا اپر کلاس، لوئر اور مڈل کلاس سے اس طرح کے رویے روا نہیں رکھتی۔ سیاست دان جاگیردار،وڈیرے،چوھدری جیسے مالدار لوگ غریب سے آئے دن جو سلوک کرتے ہیں۔ کیا وہ ہراسمنٹ کے زمرے میں نہیں آتا ؟
غریب بچے،بوڑھے،جوان،بےروزگار دن میں کئی بار ہراسمنٹ کا شکار ہوتے ہیں۔کیا ان کو یہ پذیرائی ملتی ہے جو می ٹو کے نام پر اُن کو مل رہی ہے؟۔۔جو ایک فیصد بھی ہراسمنٹ کا اُس طرح سے شکار نہیں ہیں۔ جیسے کہ ایک عام غریب طبقہ ہوتا ہے۔میں ایک مزدور بچہ ہوں، کاش یہ می ٹو کا حق مجھے مل سکے۔ جی ،مجھے! کیونکہ مجھے زیادہ ضرورت ہے۔ میں ایک چھوٹا سا بچہ ہوں۔ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے۔ باپ نشئی ہے۔ میری ماں مجھے پڑھا نہیں سکتی۔۔ اس لئے میں مزدوری کرتا ہوں سارا دن مالک سے لے کر ہر آنے جانے والے کی ہراسمنٹ کا شکار ہوتا ہوں۔ مجھے للچائی نظروں سے دیکھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے اور دُھتکارنے والے بھی بے شمار ہیں۔۔کیا مجھے می ٹو کا حق مل سکتا ہے؟
میں ہر اُس مزدور بچے کی آواز ہوں جو میری طرح بہت سے خواب رکھتے ہیں لیکن اُن کو حاصل نہیں کر سکتے۔ می ٹو، میں بھی تو ہوں۔۔کیا میری ماں کو یہ حق نہیں ملنا چاہیے؟
جو دن میں چار گھروں میں کام کرتی ہے۔ مالک سے لے کر چوکیدار، نوکر، باورچی، ڈرائیور اور اُس گھر میں آنے جانے والے ہر مرد کی ہراسمنٹ کا روز نشانہ بنتی ہے۔ مالکن سے جوتے کھاتی ہے، بے عزت ہوتی ہے صرف ہماری خاطر یا اِس پاپی پیٹ کی خاطر تاکہ ہمارے منہ میں ایک وقت کی روٹی ڈال سکے۔
گھر آکر میرے نشئی باپ کے جوتے کھاتی ہے۔ عزت آبرو کو سنبھالتے سنبھالتے روز بے شمار آنکھوں کی ہوس کا نشانہ بنتی ہے۔ بے شمار ہاتھ اسے نجانے کہاں کہاں چُھو جاتے ہیں؟ کیا اِس می ٹو کی حقدار وہ نہیں ہے؟
میری ماں کہتی ہے۔ می ٹو، میں بھی تو ہوں۔۔
میں ایک ہجڑا ہوں۔ لوگ مجھے بہت سارے ناموں سے پُکارتے ہیں۔ میں جب پیدا ہوا تو والدین کے رویوں نے مجھے ہراساں کیا۔ میری یہ جسمانی معذوری میری خود کی بنائی ہوئی نہیں تھی لیکن مجھے پیدا ہوتے ہی گرو کی گود میں ڈال دیا گیا۔ کچھ نے مجھے ذرا بڑا ہوتے ہی زمانے کے خوف سے گھر سے نکال دیا۔۔میں بچپن سے جوانی تک پَل پَل ہراساں ہوا ہوں۔۔مجھے نہ مرد نے قبول کیا اور نہ ہی کسی عورت نے۔ مجھے پَل پَل دُھتکارا گیا۔کیا اس می ٹو کا حق مجھے ملے گا؟ میرے جیسے کتنے در در بھاگے، کس کس کی ہوس کا نشانہ بنے،کچھ بھکاری بنے ، ناچنے گانے والے بنے۔ ہم روز جیتے روز مرتے ہیں۔کیا یہ حق مجھ جیسوں کو ملے گا؟
میں ایک عام عورت ہوں۔ ایک غریب عورت جس کی عزت دو کوڑی کی ہے کوئی بھی وڈیرا مجھے استعمال کرکے پھینک دیتا ہے۔ میرا بھائی مجھے ہی کاری کر دیتا ہے۔ میں کبھی چوھدریوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنتی ہوں تو کبھی کسی سیاست دان کی ہوس کا نشانہ بنتی ہوں۔ میں ایک غریب و لاچار عورت ہوں میری عزت کوئی حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ میں غریب ہوں۔کیا مجھے یہ حق ملے گا؟

ہم کم عمر معصوم بچے ہیں ۔ ہم کھیلنے باہر نہیں جاسکتے کیونکہ ہمارے والدین کو یہ خوف ہے کہ ہمیں آصفہ اور زینب جیسے ہزاروں بچوں کی طرح ہوس کا نشانہ بنا دیا جائے گا۔ میرا بچپن گھر کی چار دیواری تک محدود ہو کر رہ گیا ہے کیونکہ ہم غریب والدین کے بچے ہیں ہمارے لئے نہ انڈور کوئی گیم ہے نہ آؤٹ ڈور کوئی سہولت ۔ ہم محفوظ نہیں ہیں۔کیا یہ حق ہمیں ملے گا؟
کاش یہ حق مجھے ملے۔ می ٹو، میں بھی تو ہوں اسی معاشرے کا حصہ ہوں!
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں